شمالی شام میں ترک فوج کی موجودگی کے ابتدائی نتائج
https://urdu.sahartv.ir/news/annalys-i245287-شمالی_شام_میں_ترک_فوج_کی_موجودگی_کے_ابتدائی_نتائج
شمالی شام میں پہلا ترک فوجی ہلاک ہو گیا-
(last modified 2025-02-27T04:56:45+00:00 )
Aug ۲۸, ۲۰۱۶ ۱۳:۳۲ Asia/Tehran
  • شمالی شام میں ترک فوج کی موجودگی کے ابتدائی نتائج

شمالی شام میں پہلا ترک فوجی ہلاک ہو گیا-

آزاد ذرائع نے ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ شام میں ترکی کی فوج پر کرد ملیشیا کے حملے کے نتیجے میں ایک ترک فوجی ہلاک ہوگیا جبکہ تین دیگر زخمی ہوگئے- ترکی کے مقامی ذرائع نے بھی شامی کردوں کے ہاتھوں پہلے ترک  فوجی کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے- فیلڈ ذرائع نے اسی طرح کرد ملیشیا کے راکٹ حملے کے نتیجے میں ترک فوج کے دو ٹینک تباہ ہونے کی خبر دی ہے – کہا جا رہا ہے کہ شمالی شام میں کردوں کے ٹھکانوں پر ترکی کی خصوصی فورسیز اور فری سیرین آرمی کے مشترکہ حملوں کے آغاز کے ساتھ ہی کرد ملیشیا نے بھی جوابی حملے شروع کردیئے ہیں اور ترکی کے فوجیوں کو مالی اور جانی نقصان اٹھانا پڑا ہے-

واضح رہے کہ ترک فوج "سپر فرات" نامی کاروائی کے زیر عنوان جمعرات کو داعش دہشت گردوں اور کردوں سے مقابلے کے بہانے ترکی میں داخل ہوئی تھی اور ترکی کی فوج کو پہنچنے والا یہ پہلا جانی اور مالی نقصان ہے – اس خبر کے شائع ہونے کے بعد علاقے کے ذرائع ابلاغ نے ترکی کے جنوب مشرقی شہر دیار بکر کے ایئرپورٹ پر راکٹ کے حملے کی خبر دی ہے-  " دوغان " نیوز ایجنسی  نیز سی این این کی رپورٹوں کے مطابق ترکی کے مسلح افراد نے چار راکٹ دیار بکر ایئرپورٹ پر داغے جس کے نتیجے میں ایئرپورٹ کی پولیس چوکی پر بھی یہ راکٹ گرے لیکن کہا جا رہا ہے اس حملے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ہے –

اس سے قطع نظر کہ دیار بکر ایئرپورٹ پر حملہ، کہ جو ترکی کے جنوب مشرقی علاقے کا سب سے بڑا ایئر پورٹ ہے اور اس کا استعمال فوجی اور غیر فوجی مقاصد میں بھی کیا جاتا ہے ، یہ نکتہ بھی فراموش نہیں کرنا چاہئے کہ اس ایئرپورٹ پر کئے جانے والے راکٹوں کے حملے ، شام میں ترک فوج کی موجودگی اور شامی کردوں کو نشانہ بنائے جانے کے ردعمل میں ہیں- اب رہا یہ سوال کہ  شمالی شام میں ایک ترک فوجی کے ہلاک ہونے پر ترکی کی رائے عامہ کا ردعمل  کیا ہوگا اور یہ کہ ترکی کے عوام کیا اس بات پر راضی ہوں گے کہ ان کے ملک کے فوجی ایک دوسری سرزمین پر اپنی جانوں سے ہاتھ  دھوتے رہیں، کہ جو ترقی و انصاف پارٹی کے اہداف میں بھی شامل نہیں ہے؟ یہ وہ سوالات ہیں  کہ جن کا جواب غورطلب ہے لیکن یہ بات بھی نہیں بھولنا چاہئے کہ شام میں ترک فوج کی موجودگی، اس بات کا سبب بنی ہے کہ شام اور ترکی کے کرد ، ترکی کی سلامتی کو نشانہ بنانے کے مقصد سے مل کر کاروائی کریں –

اگر شام اور ترکی کے کردوں کے ساتھ، ترکی کے دور دراز علاقوں میں پھیلے ہوئے پی کے کے، کے افراد بھی شامل ہوجائیں تو اس وقت ترکی میں جو بھی بد امنی پھیلے گی اور شہریوں کو جانی اور مالی نقصان ہوگا اور اس ملک کی معیشت کو نقصان پہنچے گا ان سب کے اخراجات کی ذمہ دار ترکی کی حکومت ہوگی جس نے شمالی شام میں اپنی فوج روانہ کی ہے-

خاص طور پر ایسے میں جب کہ اس بات کی بھی کوئی ضمانت نہیں ہے کہ شامی حکومت  کے مخالف گروہ کہ ترکی جن کی حمایت کا دعویدار ہے، مختصر مدت میں اور بعض میدانی تبدیلیوں کے سبب ، داعش کی طرح یہ گروہ بھی ترکی کے حکام کے لئے مسائل و مشکلات کا سبب نہ بن جائیں-

اگرچہ خبری حلقے ترکی کی سرحد سے باہر داعش کو سرکوب کرنے اور ترکی میں داعش کے افراد کو گرفتار کرنے پر مبنی ترک حکام کے دعووں کو شک و شبہے کی نظر سے دیکھ رہے ہیں تاہم بظاہر، انقرہ کے حکام ایسا ظاہر کر رہے ہیں کہ وہ بھی تکفیری اور دہشت گرد گروہ داعش کے مقابلے کے لئے  بین الاقوامی اتحاد میں شامل ہوگئے ہیں- ترک رہنما اگر اس بات کا دعوی کر بھی لیں  پھر بھی داعش کے تعلق سے انہوں نے ماضی اور حال میں، خفیہ و آشکارہ طور پر جوحمایت کی ہے اور جو سیاسی ، اقتصادی اور سیکورٹی اخراجات اٹھائے ہیں اس سے چشم پوشی نہیں کی جاسکتی - ایسے اخراجات کہ جو اس وقت ترک فوجیوں کے جانی نقصان اور اس ملک کے فوجی سازو سامان کی تباہی پر منتج ہو رہے ہیں-