کویت کے بجائے دوحہ میں یمن کے امن مذاکرات کا امکان
یمن کے امور میں اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے اسماعیل ولدالشیخ نے اپنے دورہ قطر میں اس ملک کے وزیر خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمان آل ثانی سے ملاقات اور بحران یمن کے بارے میں گفتگو کی۔
ان کے اس دورے سے کئی بنیادی سوالات اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔ سب سے پہلا سوال یہ ہے کہ کیا کویت کے بجائے دوحہ میں یمن کے امن مذاکرات ہوں گے؟۔ بحران یمن کے بارے میں یمن کے امن مذاکرات، اکّیس اپریل دو ہزار سولہ کو شروع ہوئے تھے تاہم ساڑھے تین مہینوں کے بعد بھی ان مذاکرات کا اب تک کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوا۔حکومت کویت کے لئے جب یہ واضح ہو گیا کہ یمنی گروہوں کے مذاکرات کا کوئی نتیجہ نہیں نکلے گا تو اس نے اعلان کر دیا کہ اب وہ ان مذاکرات کی میزبانی نہیں کرے گا۔ یمن کے امور میں اقوام متحدہ کے نمائندے اب بھی یہی سمجھتے ہیں کہ بحران یمن کو اس ملک کے گروہوں کے درمیان مذاکرات کے ذریعے ہی حل کیا جا سکتا ہے۔ ایک اور اہم بات یہ ہے کہ قطر، عرب ملکوں کی اندرونی کشمکش اور علاقائی بحرانوں میں مصالحتکار کا کردار ادا کرنے کا مثبت ماضی رکھتا ہے۔ دو ہزار گیارہ سے قبل قطر نے لبنان، یمن اور سوڈان کے اندرونی بحرانوں اور اسی طرح اریٹیریا اور جیبوٹی کے درمیان بحران میں ثالثی کا کردار ادا کیا تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ دو ہزار گیارہ سے قبل، قطر کی خارجہ پالیسی کی ایک اہم ترین حکمت عملی، عرب ملکوں کے درمیان پیدا ہونے والے مسائل میں ثالثی کا کردار ادا کرنا تھا اور لبنان کے دو ہزار آٹھ کے بحران جیسے مسائل کے حل میں اس نے نمایاں کامیابی بھی حاصل کی ہے۔ اس رو سے یہ کہا جاسکتا ہے کہ اس بات کے پیش نظر کہ کویت کی حکومت اب یمن کے امن مذاکرات کی میزبانی کرنے سے گریز کر رہی ہے اور دوسری جانب یمن کے امور میں اقوام متحدہ کے نمائندے یمن کے امن مذاکرات جاری رکھے جانے کی ضرورت پر زور دے رہے ہیں اور قطر کی حکومت بھی عربوں کے بحرانوں میں ثالثی کا کردار ادا کرنے میں کامیابی حاصل کرنے کا ماضی رکھتی ہے، اس بات کا امکان پایا جاتا ہے کہ اسماعیل ولدالشیخ یمن کے امن مذاکرات کی جگہ کویت کے بجائے قطر منتقل کرنا چاہتے ہوں۔ دوسرا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یمن کے امن مذاکرات، کویت کے بجائے قطر منتقل کر بھی دیئے جائیں تو کیا ان مذاکرات سے بحران یمن کا کوئی حل نکل سکتا ہے یا نہیں؟۔ اس سوال کا جواب، مغربی ایشیاء میں قطر کی موجودہ صورت حال کا دو ہزار گیارہ سے قبل کی صورت حال سے موازنہ کئے جانے کی بنیاد پر تلاش کیا جا سکتا ہے۔ دو ہزار گیارہ سے قبل، قطر علاقے میں امن پسند افکار کا حامل ملک شمار ہوتا تھا مگر اب اس کا یہ کردار، تبدیل ہو چکا ہے اب وہ مغربی ایشیاء کے بحران میں بنیادی کردار ادا کر رہا ہے اور بحران کا ایک اہم عامل بھی سمجھا جاتا ہے۔ بنابریں اس وقت کے قطر کو، عرب سیاسی گروہوں منجملہ یمن کی عوامی تحریک انصاراللہ میں ایسی صورت میں کہ یمن کو جارحیت کا نشانہ بنانے والے سعودی اتحاد میں قطر باضابطہ طور پر شریک ہے، دو ہزار گیارہ سے قبل کی مانند ہرگز مقبولیت حاصل نہیں ہے۔ اب ایسی صورت میں یمن کے امور میں اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے اگر امن مذاکرات کی جگہ کویت سے قطر منتقل بھی کرنا چاہیں تو ان کے اس اقدام کو انصاراللہ اور اس عوامی تحریک کے اتحادیوں کی جانب سے قبول کئے جانے کا امکان بہت کم ہے اور اس بات کے پیش نظر کہ گذشتہ چھے برسوں کے دوران مغربی ایشیاء میں بحدان پیدا کئے جانے میں جس طرح سے قطر نے کردار ادا کیا ہے، یمنی گروہوں کے درمیان مذاکرات اور ان میں ثالثی کا کردار ادا کرنے کے سلسلے میں قطر میں اب ضروری اہلیت و توانائی نہیں پائی جاتی۔ چنانچہ یمن کے امور میں اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے بحران یمن کے حل میں اسی صورت میں کامیاب کارکردگی کا مظاہرہ کر سکتے ہیں کہ پہلے مرحلے میں وہ یمن کے خلاف سعودی اتحاد کی جارحیت بند کروائیں اور پھر اس وقت یمن میں پائے جانے والے سیاسی حقائق سے یکسو ہو کر آگے بڑھیں۔ اس وقت اہم ترین حقیقت یہ ہے کہ انصاراللہ، یمن کا ایک ایسا اہم اور بااثر ترین سیاسی گروہ ہے کہ جس کے ساتھ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد نمبر بائس سولہ کی بنیاد پر رویہ اختیار کیا جانا ممکن نہیں ہے۔