سانحہ منیٰ کی تحقیقات ضروری ہیں: رہبر اسلامی کی تاکید
https://urdu.sahartv.ir/news/annalys-i247048-سانحہ_منیٰ_کی_تحقیقات_ضروری_ہیں_رہبر_اسلامی_کی_تاکید
رہبر انقلاب اسلامی نے مسلمانان عالم اور حجاج کرام کے نام اپنے پیغام کے دو روز بعد ایک بار پھر اس بات پر زور دیا ہے کہ شجرہ خبیثہ ملعونہ آل سعود حرمین شریفین کا انتظام چلانے کی صلاحیت نہیں رکھتی۔
(last modified 2025-02-27T04:56:45+00:00 )
Sep ۰۷, ۲۰۱۶ ۱۴:۲۲ Asia/Tehran
  • سانحہ منیٰ کی تحقیقات ضروری ہیں: رہبر اسلامی کی تاکید

رہبر انقلاب اسلامی نے مسلمانان عالم اور حجاج کرام کے نام اپنے پیغام کے دو روز بعد ایک بار پھر اس بات پر زور دیا ہے کہ شجرہ خبیثہ ملعونہ آل سعود حرمین شریفین کا انتظام چلانے کی صلاحیت نہیں رکھتی۔

رہبر انقلاب اسلامی نے مسلمانان عالم اور حجاج کرام کے نام اپنے پیغام کے دو روز بعد ایک بار پھر اس بات پر زور دیا ہے کہ شجرہ خبیثہ ملعونہ آل سعود حرمین شریفین کا انتظام چلانے کی صلاحیت نہیں رکھتی۔

 

رہبرانقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے بدھ کو سانحہ منیٰ اور سانحہ مسجد الحرام کے شہدا کے اہل خانہ سے ملاقات میں فرمایا کہ اگر سعودی حکام سانحہ منیٰ میں قصور وار نہیں ہیں تو وہ ایک بین الاقوامی اسلامی تحقیقیاتی کمیٹی تشکیل دینے کی اجازت دیں جو سانحے کے حقائق کا قریب سے جائزہ لے سکے۔

رہبرانقلاب اسلامی نے سانحہ منیٰ میں آل سعود کی نااہلی اور کوتاہی کو حرمین شریفین کا انتظام چلانے میں اس شجرہ خبیثہ ملعونہ کی نااہلی کا ایک اور ثبوت قراردیا۔ رہبرانقلاب اسلامی نے سانحہ منیٰ میں تقریبا سات ہزار حاجیوں کی شہادت کا ذکرکرتے ہوئے یہ اہم تنقیدی سوال اٹھایا کہ کیوں دیگر ملکوں اور حکومتوں نے اس سنگین اور غمناک حادثے پر کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا ؟ آپ نے سات ہزار بے گناہ حاجیوں اور زائرین کی شہادت پر حکومتوں اور حتی علما، سیاسی کارکنوں اور عالم اسلام کے عمائدین اور روشن خیال افراد کی خاموشی کو امت اسلامیہ کے لئے ایک بڑی مصیبت قراردیا اور فرمایا کہ منیٰ جیسے سخت اور جانکاہ حادثے کے سلسلے میں حساس نہ ہونا عالم اسلام کے لئے ایک حقیقی مصیبت ہے۔

رہبر انقلاب اسلامی سانحہ کے اسباب و عوامل واضح ہونے پر اس لیے بار بار زور دے رہے ہیں کہ اس سانحہ کو ایک سال کا عرصہ گزر جانے کے بعد سعودی حکام نے زبانی معذرت سے بھی گریز کیا ہے اور حتی الہی فریضہ کی انجام دہی کے دوران ہزاروں حجاج کرام کے مارے جانے پر افسوس کا اظہار بھی نہیں کیا ہے۔ سعودی حکام کو سانحہ منیٰ میں اپنی نااہلی اور بدانتظامی کی وجہ سے کٹہرے میں کھڑے ہو کر مسلمانوں کے سامنے جواب دہ ہونا چاہیے لیکن اس کے بجائے وہ مدعی بن گئے ہیں اور دوسروں کو قصوروار ٹھہرا رہے ہیں۔

سانحہ منیٰ اگر سعودی حکام نے جان بوجھ کر نہ بھی انجام دیا ہو تو حادثے کا شکار ہونے والوں کو مدد فراہم کرنے میں سعودی حکام کی سستی اور نااہلی کی وجہ سے یہ جرم شمار ہوتا ہے اور اس آشکارا جرم پر خاموشی اختیار کرنا رائے عامہ کی خواہش نہیں ہے۔

سانحہ منیٰ میں زخمی ہونے والے حاجیوں اور جاں بحق ہونے والوں کے اہل خانہ کے حقوق کی ادائیگی ایک قدرتی حق ہے اور سعودی حکام کے طرزعمل اور اقدامات پر حساس نہ ہونا اور ان سے لاتعلقی اختیار کرنا رہبر انقلاب اسلامی کے بقول عالم اسلام کے لیے ایک حقیقی مصیبت ہے۔

مختلف ملکوں سے تعلق رکھنے والے حاجی گزشتہ سال مناسک حج ادا کرتے ہوئے رمی جمرات کے دوران سعودی حکام کی بدانتظامی کی وجہ سے بھگدڑ مچنے سے پاؤں تک آ کر کچلے گئے اور سعودی اہلکار بھی ان کی مدد کرنے کے بجائے ان کا تماشا دیکھ رہے تھے اور ان کی چیخ و پکار کو سنی ان سنی کر رہے تھے اور انھوں نے انھیں بچانے کے لیے کوئی سنجیدہ اقدام نہیں کیا۔ کیا ایسے حالات میں سعودیوں کے اقدامات پر خاموشی اختیار کرنا اور حساس نہ ہونا جائز ہے؟ سرزمین منیٰ میں گزشتہ سال پیش آنے والے حادثے کے بعد سعودی حکومت کے اقدامات اور اس کے بعد امت اسلامی کے اتحاد کو کمزور کرنے کے لیے مسلمانوں کی عظیم اجتماعی عبادت حج کے مسئلے پر ان کا سیاسی رویہ پہلے سے زیادہ عالم اسلام کی حساسیت کا تقاضا کرتا ہے۔

آل سعود کے اقدامات سے لاتعلقی نے حج کے عظیم اجتماع میں مسلمانوں کے اتحاد کے مظاہرے کو نقصان پہنچایا اور اسے کمزور کیا ہے اور رہبر انقلاب اسلامی کے بقول اگر عالم اسلام نے حرمین شرمین کا انتظام چلانے اور حج کے بارے میں کسی بنیادی چارہ کار کے بارے میں نہ سوچا تو امت مسلمہ مستقبل میں اس سے بڑے مسائل کا شکار ہو جائے گی۔

حج کا انتظام چلانے کے سلسلے میں آل سعود کی کارکردگی اور امریکہ کے ساتھ اس کے تعاون سے ظاہر ہوتا ہے کہ سعودی حکومت امت اسلامی کے مقابل کھڑی ہے اور وہ یمن، شام، بحرین اور عراق جیسے اسلامی ملکوں میں مسلمانوں کا خون بہا رہی ہے۔

سعودی عرب کی پالیسی اس حقیقت کا مصداق ہے کہ جس کی طرف رہبر انقلاب اسلامی نے اشارہ کیا ہے " قابل نفرت سعودی، عالم اسلام میں ایک ایسا گروہ ہے کہ جس کے بعض افراد دانستہ یا نادانستہ طور پر مسلمانوں کے ساتھ دشمنی میں مصروف ہیں۔ عالم اسلام کو ان کے مقابل اٹھ کھڑے ہونا چاہیے اور سعودیوں کے آقاؤں یعنی امریکہ اور برطانیہ سے نفرت و بیزاری کا اظہار کرنا چاہیے۔