علاقائی ملکو ں کو رہبر انقلاب اسلامی کی نصیحت
https://urdu.sahartv.ir/news/annalys-i249091-علاقائی_ملکو_ں_کو_رہبر_انقلاب_اسلامی_کی_نصیحت
رہبر انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے اتوار کو سپاہ پاسداران کی قومی کانفرنس کے شرکا سے ملاقات میں سکیورٹی کو ایک نہایت اہم موضوع قرار دیا جو مادی اور معنوی پیشرفت کی زمیں ہموار کرتا ہے۔
(last modified 2025-02-27T04:56:45+00:00 )
Sep ۱۹, ۲۰۱۶ ۰۹:۱۱ Asia/Tehran
  • علاقائی ملکو ں کو رہبر انقلاب اسلامی کی نصیحت

رہبر انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے اتوار کو سپاہ پاسداران کی قومی کانفرنس کے شرکا سے ملاقات میں سکیورٹی کو ایک نہایت اہم موضوع قرار دیا جو مادی اور معنوی پیشرفت کی زمیں ہموار کرتا ہے۔

رہبرانقلا ب اسلامی نے فرمایا کہ سپاہ پاسداران کے منجملہ فرائض میں سے داخلی اور بیرونی سکیورٹی قائم کرنا ہے، آپ نے فرمایا اگر بیرونی سکیورٹی نہ رہے تو داخلی سکیورٹی بھی ختم ہو جائے گی ۔ ایران کو اپنے اطراف میں کئی خطرات کا سامنا ہے جو خاص طور سے بیرونی افواج کی طرف سے مسلط کئے گ‏ئے ہیں۔ ایران اپنے اسلامی انقلاب اور اس کے اھداف و مقاصد پر بھروسہ کرتے ہوے ان خطروں کے مقابل ڈٹا ہوا ہے۔

علاقے کے موجودہ حالات اس حقیقت کو ظاہر کرتے ہیں کہ آج کل جو کچھ عالمی سطح پر ہو رہا ہے اگر اسے حقیقت پسندانہ نگاہوں سے دیکھا جائے تو وہ سکیورٹی کے لحاط سے کافی تشویشناک ہے۔ عالمی تعلقات میں تسلط پسندانہ عزائم بڑھتے ہی جا رہے ہیں، جنگیں شروع کرنے میں مداخلت پسندانہ طاقتوں کے اقدامات ، خفیہ اور اعلانیہ طریقے سے علاقے کے ملکوں میں مداخلت اور تشدد میں اضافہ، ایسی پالیسیوں کا نمونہ ہیں کہ جسے تسلط پسندی کی منطق کےعلاوہ کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ علاقے کے ملکوں کو رہبر انقلاب اسلامی کی یہ نصیحت بھی اسی کلیدی نکتے پر مبنی ہے۔ 

آپ نے علاقے کے بعض ملکوں کومخاطب کر کے فرمایا کہ اگر ہوشیار نہ رہیں گے اور امریکہ کے نظام تسلط کی چالوں کو نہیں سمجھیں گے اور ان کی مسکراہٹ سے دھوکہ کھا جائیں گے تو ممکن ہے پچاس بلکہ ایک سو سال تک پیچھے چلے جائیں ۔ایسے حالات میں سکیورٹی کے تحفظ کو اولین تحرجیح حاصل ہونا چاہیے۔

صحیح معنی میں امن و امان کا حامل ہونے کے کچھ تقاضے ہیں جن میں ایک  سکیورٹی برقرار رکھنے کے لئے اپنی توانائیوں میں اضافہ کرنا اور اس کے ساتھ ساتھ اپنے اطراف کے ماحول اور خطروں کی شناخت رکھنا ہے۔ یہ شناخت پہلے سے حاصل شدہ  تجربوں سے مزید پختہ ہوتی ہے اور اب یہ اسلامی جمہوریہ ایران کی نرم طاقت میں تبدیل ہو چکی ہے۔ رہبر انقلاب اسلامی کی تعبیر کے مطابق اسلامی جمہوریہ ایران کی نرم طاقت تسلط پسند طاقتوں پر جن میں سرفہرست امریکہ ہے، بے اعتمادی سے حاصل ہوئی ہے۔

رہبر انقلاب اسلامی نے امریکہ پر مطلق بے اعتمادی کو فکر، گہری سوچ اور تجربے کا نتیجہ قرار دیا ہے۔ آپ نے کہا کہ اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد کے برسوں میں اور حالیہ ایٹمی مذاکرات اور دیگر مسائل میں امریکہ کی دشمنی دیکھی گئی ہے اور امریکہ سے مذاکرات کرنا نہ صرف فائدہ مند نہیں ہے بلکہ اس سے نقصان ہی ہو گا۔  یہی وجہ ہے کہ یہ بے اعتمادی سکیورٹی کا تحفظ کرنے میں ایران کی نرم طاقت کا سرچشمہ  قرار پائی ہے اور اسی تناظر سے اس امر کو ایک مثبت اور موثر عنصر کے طور پر دیکھنا چاہیے۔  جس نے سکیورٹی کو دوام اور استحکام عطا کررکھا ہے اور اس میں روز بروز وسعت آنی چاہیے۔ 

یہ بات کہ امریکہ اس وقت ایران سے مذاکرات کرنے پر اصرار کر رہا ہے کوئی اتفاقی بات نہیں ہے۔ جس طرح سے رہبر انقلاب اسلامی نے وضاحت فرمائی ہے، امریکہ مغربی ایشیا بالخصوص شام، عراق، لبنان اور یمن  کے بارے میں ایران سے مذاکرات اس وجہ سے کرنا چاہتا ہے کہ امریکہ کی ناکامیوں کی بنیادی وجہ ایران ہے اور امریکہ اس رکاوٹ کو ہٹانا چاہتا ہے۔ ایران کی قوم پر لاگو طرح طرح کی پابندیوں اور اسے لاحق طرح طرح کے خطرات کے باوجود ایرانی قوم بڑی شجاعت اور شفافیت سے آگے بڑھ رہی ہے اور اسلامی انقلاب کا مبارک اور پاک درخت تناور ہوتا جا رہا ہے۔