دہشت گردی کے خلاف جنگ میں شام اور مصر کا تعاون
https://urdu.sahartv.ir/news/annalys-i253738-دہشت_گردی_کے_خلاف_جنگ_میں_شام_اور_مصر_کا_تعاون
شامی ذرائع ابلاغ نے اعلان کیا ہے کہ شام کی قومی سلامتی کے ادارے کے سربراہ علی مملکوک نے ابھی حال ہی میں قاہرہ کا دورہ کرکے مصر کے سیکورٹی و انٹیلیجنس کے ادارے کے سربراہ خالد فوزی سمیت اس ملک کے سیکورٹی حکام سے ملاقات اور گفتگو کی -
(last modified 2025-02-27T04:56:45+00:00 )
Oct ۱۷, ۲۰۱۶ ۱۶:۲۳ Asia/Tehran
  • دہشت گردی کے خلاف جنگ میں شام اور مصر کا تعاون

شامی ذرائع ابلاغ نے اعلان کیا ہے کہ شام کی قومی سلامتی کے ادارے کے سربراہ علی مملکوک نے ابھی حال ہی میں قاہرہ کا دورہ کرکے مصر کے سیکورٹی و انٹیلیجنس کے ادارے کے سربراہ خالد فوزی سمیت اس ملک کے سیکورٹی حکام سے ملاقات اور گفتگو کی -

شامی نیوز ایجنسی سانا نے پیر کو رپورٹ دی کہ علی مملوک نے مصری حکام سے ملاقات میں دہشت گردی کے خلاف جنگ کے لئے دونوں ملکوں کے درمیان تعاون کو مضبوط بنانے پراتفاق کیا ہے- مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی نے گذشتہ جمعرات کو سعودی عرب کے ساتھ سیاسی کشیدگی جاری رہنے کے بارے میں کہا تھا کہ بحران شام کے سلسلے میں مصر کا موقف سیاسی راہ حل اور اس ملک کی یکجہتی کے تحفظ پر استوار ہے- عبدالفتاح السیسی نے مزید کہا تھا کہ مصر ، شام کے بحران کے سیاسی حل ، اس ملک کے عوام کے عزم کے احترام ، اتحاد کے تحفظ اور شام کی تعمیرنو و مسلح گروہوں کو غیرمسلح کرنے کا پابند ہے- مصر کے صدر کا یہ موقف ، گذشتہ تقریبا چھے برسوں سے جاری بحران شام کے بارے میں دمشق حکومت، خود مختار ممالک نیز علاقے و علاقے سے باہر کے بعض بازیگروں کے موقف سے ہماہنگ ہے - مصر نے اسی نظریے کی بنیاد پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں بحران شام کے بارے میں روسی قرارداد کے حق میں ووٹ ڈالا اور سعودی عرب کو سیخ پا کردیا- مصر کے معزول ڈکٹیٹر حسنی مبارک کا تختہ الٹنے کے بعد قاہرہ نے بعض مواقع پر مغرب کے ساتھ مکمل وابستگی اور سیاسی دھڑے بندی سے باہر نکل کرخود مختاری کی بنیاد پرعمل کرنے کی کوشش کی ہے- دوہزارگیارہ کے بعد مصر میں رونما ہونے والی سیاسی تبدیلیوں سے ثابت ہوگیا کہ اس ملک کے مغربی و عرب حامی اپنے مفادات کو وابستگی کی ہر سطح تک ترجیح دیتے ہیں حسنی مبارک کے بعد مصر میں نشیب و فراز سے پر حالات سے قطع نظر اس ملک نے متوازن خارجہ پالیسی اور ماضی سے تجربہ حاصل کرتے ہوئے تقریبا آزادانہ روش اختیار کی ہے- شام کے سلسلے میں حکومت مصر کا رویہ سیاسی طریقے سے بحران شام کے حل اور دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے خطرے سے نمٹنے پر استوار رہا ہے - اپنے ملک اور بشاراسد کے سیاسی مستقبل کے بارے میں شامی عوام کے فیصلے کے حق کا احترام گذشتہ چھے برسوں سے جاری بحران شام کا واحد حل ہے اور یہی دمشق اور قاہرہ کے درمیان تعاون کی کڑی ہے- شام کے سلسلے میں مصر کی سیاست کی بنیاد اس ملک میں حقیقت کا ادراک اور دہشت گردی کا روز بروز بڑھتا ہوا خطرہ ہے کہ جو داعش سمیت مختلف ناموں سے شام میں موجود ہے - داعشی دہشت گردی کا خطرہ صرف شامی سرحدوں تک محدود نہیں ہے بلکہ مصر حتی یورپی ممالک بھی داعش کے خطرے سے محفوظ نہیں ہیں- مصر کے سینا علاقے میں گذشتہ جمعے کو داعش کی تازہ ترین دہشت گردانہ کارروائی میں تقریبا بیس مصری فوجی ہلاک اور زخمی ہوگئے- دہشت گردوں کے جرائم میں اضافے نے علاقے کے ممالک کو نشانہ بنا رکھا ہے اوران حالات میں دہشت گردی کے خاتمے کے لئے علاقے کی حکومتوں میں اتحاد و تعاون ضروری ہے- شام کی قومی سلامتی کے ادارے کے سربراہ علی مملوک کے دورے کا بھی اسی تناظر میں جائزہ لیا جا سکتا ہے-