موصل کی آزادی کا آپریشن جاری
عراق کے شمالی صوبے نینوا کے صدر مقام موصل کو تکفیری دہشتگرد گروہ داعش کے قبضے سے آزاد کرانے کا آپریشن پیر کو شروع ہو گیا تھا جو کامیابی کے ساتھ جاری ہے۔
عراقی کی مشترکہ فورسز نے منگل کو القیارہ کے محاذ سے موصل پر حملہ شروع کیا ہے۔ القیارہ موصل کے جنوب میں ہے۔ عراقی ذرائع کے مطابق عراقی فورسز نے اب تک جنوبی موصل میں پندرہ دیہی علاقے آزاد کرا لئے ہیں۔
عراق کی کرد پیشمرگہ اور عوامی فورس موصل کے مشرق اور جنوب میں داعش کے خلاف عراقی فوج کی مدد کر رہی ہیں۔ موصل پر عراقی فوج کے پہلے دن کے حملوں میں ملنے والی کامیابیوں سے پتہ چلتا ہے کہ عراقی فورسز موصل اور نینوا سے تکفیری دہشتگرد گروہ داعش کو نکال باہر کرنے کا پختہ عزم رکھتی ہیں۔ موصل میں حتمی کامیابی کے لئے شرط ہے کہ اس کی کمان عراقی فورسز کے ہاتھ میں رہے۔ امریکہ اور علاقے کے بعض ممالک یہ کوشش کررہے ہیں کہ وہ داعش کے خلاف جنگ کی فرنٹ لائن پر اپنا ہولڈ بنالیں لیکن عراق کے وزیر اعظم کے پختہ موقف سے عراق کے دشمن اس سازش میں ناکام ہوگئے۔ امریکہ اور ترکی نے بے حد کوشش کی تھی کہ موصل کی آزادی کے آپریشن میں شریک ہوجائیں لیکن وہ کامیاب نہ ہوسکے۔ عراقی فورسز ، جن میں فوج ، عوامی رضا کار فورس ، قبائل اور کرد پیشمرگہ شامل ہیں، داعش کے خلاف برسر پیکار ہیں اور موصل شہر کی طرف پیش قدمی کر رہے ہیں۔ عراقی فورسز کی پیش قدمی کے نتیجے میں تکفیری دہشتگرد گروہ داعش کے عناصر جنگی علاقوں سے بھاگ رہے ہیں اور موصل میں انکی بوکھلاہٹ قابل دید ہے۔ داعش کے عناصر کے پاس اب اس شہر سے نکلنے کے علاوہ کوئی اور راستہ نہیں ہے۔ اس سے قبل روسی نیوز ایجنسی نووستی نے موصل سے داعش کے عناصر کو نکال کر انہیں شام بھیجنے کے بارے میں امریکہ اور سعودی عرب کے معاہدے کے بارے میں کہا تھا کہ یہ معاہدہ اس بات کا ثبوت ہے کہ امریکہ اور سعودی عرب داعش کی حمایت کرتے ہیں اور اس کے ساتھ تعاون کر رہے ہیں ۔امریکہ کی یہ کوشش کہ وہ داعش اور دیگر دہشتگرد گروہوں کی حمایت کرنے کے ساتھ ساتھ موصل کی آزادی کے آپریشن میں بھی شریک رہے ایک متضاد موقف ہے ایسی فضا میں عراق کی حکومت کے دانشمندانہ اور ٹھوس مواقف کے نتیجے میں امریکہ موصل آپریشن میں مداخلت کرنے میں ناکام رہا۔ موصل عراق میں داعش کا واحد گڑھ تھا اور داعش کی نابودی کے لئے عراقیوں کی سنجیدگی کو دیکھتے ہوئے کہا جاسکتا ہے کہ دہشتگردی کے بارے میں امریکہ کی متضاد کارکردگی کی دوبارہ توقع کی جا رہی تھی۔ امریکہ خود شام اور عراق میں دہشتگرد گروہوں کے معرض وجود میں آنے کا ذمہ دار رہا ہے۔ علاقے میں تاریخی لحاظ سے دیکھا جائے تو دہشتگردوں کا وجود میں آنا امریکہ کی غلط پالیسیوں کا نتیجہ رہا ہے۔ امریکہ کی اسی تاریخ کی وجہ سے عراقیوں نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں امریکہ پر بھروسہ کرنا چھوڑ دیا ہے اور خود داعش کے خلاف مختلف علاقوں میں جنگ کی ہے اور اب موصل میں بھی براہ راست جنگ کی کمان سنبھالے ہوئے ہیں۔ موصل کو داعش سے آزاد کرانے کے آپریشن میں عراقی فورسز کا اتحاد اس فیصلہ کن آپریشن کی کامیابی کا راز ہے۔ عراقی صدر فواد معصوم نے بھی عراق کے اس مثالی اتحاد کو دیکھتے ہوئے کہا ہے کہ موصل کی آزادی بہت قریب ہے اور تکفیری دہشتگرد گروہ داعش کو یقینا شکست ہوگی۔