موصل میں عراقی فوج کی پیشقدمی اور امریکی پروپگنڈوں سے لاحق تشویش
https://urdu.sahartv.ir/news/annalys-i254008-موصل_میں_عراقی_فوج_کی_پیشقدمی_اور_امریکی_پروپگنڈوں_سے_لاحق_تشویش
عراقی فوج نے جنوبی موصل کے متعدد علاقوں کو داعش دہشت گردوں کے چنگل سے آزاد کرالیا ہے-
(last modified 2025-02-27T04:56:45+00:00 )
Oct ۱۹, ۲۰۱۶ ۱۲:۰۷ Asia/Tehran
  • موصل میں عراقی فوج کی پیشقدمی اور امریکی پروپگنڈوں سے لاحق تشویش

عراقی فوج نے جنوبی موصل کے متعدد علاقوں کو داعش دہشت گردوں کے چنگل سے آزاد کرالیا ہے-

شمالی عراق کے صوبے نینوا کے حکام نے منگل کو اعلان کیا کہ عراقی پولیس اور فوج کی ایک بڑی تعداد موصل کے جنوب میں داعش کے زیر قبضہ علاقوں میں داخل ہوگئی ہے-

عراق کی فیڈرل پولیس کے سربراہ "رائد شاکر جودت" نے کہا ہے کہ جنوبی موصل کے تین سو پچیس کیلومیٹر کے علاقوں سے داعش دہشت گردوں کا صفایا کردیا گیا ہے - موصل کو داعش دہشت گردوں سے آزاد کرانے کی کاروائی کا آغار پیر کی صبح سے ہوا ہے-

اس سلسلے میں عراقی حکومت کے ترجمان سعد الحدیثی نے بھی اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ موصل کی آزادی ، فوجی کاروائی کے عمل سے مربوط ہے کہا کہ عراقی فوج کی کوشش ہے کہ موصل کو جلد ازجلد داعش کے قبضے سے آزاد کرالے-

موصل کی آزادی کی کاروائی کے دوران عراق کی فوج اور سیکورٹی فورسیز نے عوامی رضاکار فورس الحشد الشعبی اور اپنے دیگر حمایتی فوجیوں کے ذریعے داعش دہشت گردوں کے خلاف وسیع پیمانے پر کاروائی کرتے ہوئے کئی کامیابیاں حاصل کی ہیں- 

لیکن ایسے میں جبکہ تمام شواہد و قرائن سے اس امر کی عکاسی ہوتی ہے کہ عراق میں داعش دہشت گردوں کے خلاف جنگ میں عراقیوں کو بڑے پیمانے پر کامیابیاں حاصل ہو رہی ہیں اور عراقی حکام نے بھی عراق میں داعش کا خاتمہ کرنے کا تہیہ کر رکھا ہے ، بعض مغربی ممالک منجملہ فرانس کے وزیر دفاع نے کہا ہے کہ موصل کی کاروائی ممکن ہے مہینوں تک جاری رہے کہ جس سے ان کے پس پردہ عزائم کی نشاندہی ہوتی ہے-

بلا شبہ موصل کو آزاد کرانے کی کاروائی کے طول پکڑنے اور امریکی قیادت میں داعش مخالف اتحاد کی خلاف ورزیوں کے سبب، دہشتگردوں کو عراق کے دیگر علاقوں یا شام کی جانب  فرار کا موقع ہاتھ آجائے گا- ساتھ ہی موصل کی آزادی کی کاروائی کے طول پکڑنے سے، دہشتگردوں کو مزید ہتھیاروں سے لیس کئے جانے اور ان کے مزید مضبوط ہونے کا موقع بھی فراہم ہوگا-

دوسری جانب مغربی حکومتیں موصل کو آزاد کرانے کی کاروائی کو طولانی کرنے کے ساتھ ہی عملی طور پر اس کوشش میں ہیں کہ موصل کی کاروائی کے اہداف کو ملیامیٹ کرنے اور موصل کے بعض حصوں میں دہشت گردوں کی پوزیشن کو مستحکم کرنے کی راہ ہموار کریں-

اسی تناظر میں اگرچہ یہ کہا جا رہا ہے کہ داعش مخالف امریکی اتحاد نے شمالی عراق سے داعشیوں کے شام فرار کرنے کے تمام راستے بند کرنےکی ذمہ داری لی ہے تاہم خبروں سے اس امر کی نشاندہی ہوتی ہے کہ امریکہ اور سعودی عرب نے داعش کے عناصر کو موصل سے نکالنے اور ان کو شام بھیجنے پر اتفاق کیا ہے-  

گذشتہ چند مہینوں کے دوران عراق میں امریکہ کی مداخلت پسندانہ پالیسیوں نے وسیع پہلو اختیار کئے ہیں اور ان پالیسیوں نے تشویشناک صورتحال پیدا کردی ہے- کچھ عرصہ قبل امریکی کانگریس کے بعض اراکین نے صوبہ نینوا کو عراقی کردستان کی حمایت سے مختلف ادیان اور فرقوں کے لئے ایک خودمختار علاقے میں تبدیل کرنے کا منصوبہ پیش کیا تھا - دہشت گردی سے مقابلے کے بہانے عراق میں امریکی فوجیوں کی وسیع پیمانے پر موجودگی کے ساتھ ہی عراق کو تقسیم کرنے کے امریکی منصوبے کے برملا ہونے سے اس بات کی غمازی ہوتی ہے کہ عراق کو بدستور امریکہ کی جانب سے مشکوک منصوبوں اور اقدامات کا سامنا ہے-

بہر صورت عراق میں رونما ہونے والی تبدیلیوں نے، داعش مخالف نام نہاد اتحاد میں شامل مغربی حکومتوں اور عرب کی رجعت پسند حکومتوں کے پس پردہ اہداف کے سلسلے میں عراقی عوام میں بیداری اور ہوشیاری میں دوچنداں اضافہ کردیا ہے اور اسی حقیقت کے پیش نظر عراقی حکام نے داعش کے خلاف کاروائی انجام دینے کے لئے ملکی فورسز پر زیادہ توجہ دی ہے اور ان ہی پر بھروسہ کیا ہے- 

بلا شبہ ایسے حالات میں عراقی عوام اپنے درمیان اتحاد و یکجہتی کے ذریعے ، خاص طور پر عراق کے مراجع عظام کے نظریات اور رہنما ارشادات کے پیش نظر کہ جو عراق میں داعش کے مقابلے میں مزاحمتی فورسیز کو وجود میں لانے میں فیصلہ کن کردار کے حامل ہیں ، عراق میں مغربی ملکوں کے مغرضانہ اہداف کی راہ میں دہشت گردی کے ہتھکنڈے کو ناکام بنانے اور موصل کو آزاد کرانے کی کاروائی میں تیزی لانے کے لئے ماضی سے زیادہ حالات فراہم کرسکتے ہیں-