افغانستان میں عام شہریوں کا بڑھتا ہوا جانی نقصان
https://urdu.sahartv.ir/news/annalys-i254149-افغانستان_میں_عام_شہریوں_کا_بڑھتا_ہوا_جانی_نقصان
افغانستان میں اقوام متحدہ کے نمائندہ دفتر نے اعلان کیا ہے کہ گذشتہ نو ماہ کے دوران افغانستان پر ہونے والے فضائی حملوں میں عام شہریوں کے جانی نقصان میں بہتّر فیصداضافہ ہوا ہے۔
(last modified 2025-02-27T04:56:45+00:00 )
Oct ۲۰, ۲۰۱۶ ۱۲:۲۲ Asia/Tehran
  • افغانستان میں عام شہریوں کا بڑھتا ہوا جانی نقصان

افغانستان میں اقوام متحدہ کے نمائندہ دفتر نے اعلان کیا ہے کہ گذشتہ نو ماہ کے دوران افغانستان پر ہونے والے فضائی حملوں میں عام شہریوں کے جانی نقصان میں بہتّر فیصداضافہ ہوا ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گذستہ نو ماہ کے دوران افغانستان میں دو ہزار پانچ سو باسٹھ عام شہری جاں بحق اور پانچ ہزار آٹھ سو پینتیس زخمی ہوئے ہیں۔ افغانستان میں اقوام متحدہ کے نمائندہ دفتر نے دو ہزار تیرہ سے اب تک افغانستان میں بچوں کے جانی نقصان میں ہونے والے اضافے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تاکید کے ساتھ اعلان کیا ہے کہ بچوں کو پہنچنے والے نقصانات کے دو ہزار چار سو اکسٹھ واقعات درج ہوئے ہیں اور ان واقعات میں چھے سو انتالیس بچّے جاں بحق اور ایک ہزار آٹھ سو بائیس دیگر زخمی ہوئے ہیں۔ اسی طرح گذشتہ نو ماہ کے دوران دو سو چالیس عورتیں جاں بحق اور چھے سو سینتیس دیگر زخمی ہوئی ہیں۔ افغانستان میں اقوام متحدہ کے نمائندہ دفتر نے اعلان کیا ہے کہ عام شہریوں کو پہنچنے والے نقصان کے ایک ہزار آٹھ سو ستّانوے واقعات میں چھے سو تئیس عام شہری جاں بحق اور ایک ہزار دو سو چوہتّر زخمی ہوئے ہیں جن میں گذشتہ سال کی نسبت بیالیس فیصد اضافہ ہونے کا پتہ چلتا ہے۔ اگرچہ اقوام متحدہ کے اس دفتر نے فضائی حملوں میں عام شہریوں کے ہونے والے جانی نقصان میں افغان فوجیوں کو بھی قصوروار قرار دیا ہے تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ افغان فوج، فضائی کارروائی کے لئے قابل ذکر توانائی کی حامل نہیں ہے۔ گذشتہ پندرہ برسوں کے دوران امریکہ کے فضائی حملے، ہمیشہ افغان شہریوں کے لئے باعث مصیبت بنے رہے ہیں اور ان حملوں میں ہزاروں عام شہری ہلاک و زخمی ہوئے ہیں یہاں تک کہ افغان فوجی بھی ان حملوں سے محفوظ نہیں رہے ہیں۔ افغانستان کے صوبے لوگر کے پولیس سربراہ محمد داؤد احمدی نے اس قسم کے تازہ ترین حملوں سے متعلق اعلان کیا ہے کہ برکی برک میں افغان فوج کی ایک چوکی پر امریکی ہیلی کاپٹروں کی بمباری میں چودہ افغان فوجی مارے گئے ہیں۔ اس حملے پر افغانستان میں وسیع پیمانے پر ردعمل کا اظہار کیا گیا ہے۔ جیساکہ افغان اراکین پارلیمنٹ نے اس حملے کے ذمہ داروں کے خلاف قانونی کارروائی کئے جانے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ امریکی فوجیوں نے ایسی حالت میں اس قسم کے جرم کا ارتکاب کیا ہے کہ اس سے قبل امریکی فوجیوں نے قندھار میں شادی کی ایک تقریب پر بمباری کر کے سینتیس افراد کو موت کے گھاٹ اتار دیا تھا۔ امریکی حکام بے شرمی کے ساتھ اعلان کرتے ہیں کہ افغانستان میں اس طرح کے حملوں کا مقصد، طالبان کا صفایا کرنا ہے۔ یہ ایسی حالت میں ہے کہ افغانستان کے مقامی حکام کا کہنا ہے کہ جن علاقوں پر امریکی فوجیوں نے بمباری کی ہے وہاں طالبان کا کوئی وجود ہی نہیں رہا ہے۔ افغانستان میں حامد کرزئی کے دور اقتدار میں امریکی فوج نے ایک معاہدے میں، کہ جس پر افغان وزارت دفاع نے دستخط کئے تھے، اس بات کا وعدہ کیا تھا کہ وہ ہم آہنگی کے بغیر کوئی حملہ نہیں کرے گی۔ مگر امریکی فوجی نہ صرف اس معاہدے پر عمل نہیں کر رہے ہیں بلکہ افغانستان کی آزادی اور اس ملک کے قومی اقتدار اعلی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اس ملک میں عام شہریوں کے ساتھ ساتھ افغان فوج کا بھی قتل عام جاری رکھے ہوئے ہیں اور وہ اس سلسلے میں معذرت  کرنے پر بھی تیار نہیں ہیں۔ افغانستان کے سیاسی مسائل کے ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکہ، اس سیکورٹی معاہدے پر بھی کاربند نہیں ہے کہ جس پر افغانستان کے موجودہ صدر محمد اشرف غنی نے دستخط کئے ہیں۔ افغانستان کے تقریبا دس صوبوں میں طالبان کے حملوں میں آنے والی تیزی سے صرف امریکہ کو اس بات کا بہانہ فراہم ہو رہا ہے کہ وہ اس ملک کے مختلف علاقوں میں ایک بار پھر اپنے فوجی تعینات کردے۔ اس لئے کہ امریکہ نے دو ہزار چودہ میں افغانستان سے اپنے بیشتر فوجیوں کو واپس بلاتے ہوئے اس ملک کے سیکورٹی کے امور افغان فوجیوں کے حوالے کر دیئے تھے، تاہم اب طالبان کے مقابلے میں افغان فوج کی ناتوانی ظاہر کر کے امریکہ، افغانستان میں اپنے فوجی دوبارہ بھیجنے اور اس ملک کے مختلف علاقوں میں اپنے فوجیوں کو تعینات کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔