امریکہ اور بحران کا رخ موڑنے کی کوشش
امریکہ علاقے میں بدستور بحران پیدا کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
امریکہ اس بات کی کوشش کر رہا ہے کہ ایران پر علاقے کے مسائل میں مداخلت کرنے کا الزام عائد کرے اور امریکی جنرل جوزف ووٹل کا بیان، اسی حقیقت کا ترجمان ہے۔ اس امریکی جنرل نے بدھ کے روز دعوی کیا ہے کہ یمن کے ساحل پر امریکی بحری جنگی جہازوں پر ہونے والے حالیہ حملوں میں، کہ جن کا ذمہ دار انصاراللہ کو قرار دیا گیا ہے، ایران کا کردار رہا ہے۔ جنرل جوزف ووٹل نے واشنگٹن میں پروگریس انسٹیٹیوٹ میں اپنے ایک بیان میں کہا کہ مشاہدہ سے پتہ چلا کہ بعض ٹیکنالوجیوں کا تعلق ایران سے ہے تاہم یہ ٹیکنالوجیاں صرف ایران تک محدود نہیں ہیں اور دوسرے بھی ساحل پر میزائل رکھتے ہیں جو انھیں علاقے میں منتقل کر سکتے ہیں۔ جنرل جوزف ووٹل کے اس بیان پر ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ ایران کے دفتر خارجہ کے ترجمان بہرام قاسمی نے ایک بیان میں بحیرہ احمر میں امریکی بحری جنگی جہازوں پر میزائل حملے میں ممکنہ طور پر ایران کے ملوث ہونے کے بارے میں امریکی جنرل جوزف ووٹل کے بیان کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ بیان، غلط فہمی کے ساتھ ساتھ ایک خیالی داستان ہے جس سے اس بات کا پتہ چلتا ہے کہ امریکی حکام کافی بوکھلائے ہوئے ہیں۔ امریکی جنرل کا یہ بیان ایسی حالت میں سامنے آیا ہے کہ امریکی فوجی، سعودی اتحاد کی براہ راست یا بالواسطہ طور پر مدد کر کے یمنی عوام کے خلاف جرائم میں ناقابل انکار کردار ادا کر رہے ہیں۔ اس حقیقت پر تاکید کرتے ہوئے ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے امریکی حکام کی، اس جانب توجہ مبذول کرائی ہے کہ وہ، بحران کا رخ کسی اور طرف موڑنے کے بجائے ان ملکوں سے ہوشیار رہیں جو وحشیانہ جارحیت کا ارتکاب کر کے یمن کی دلدل میں پھنس گئے ہیں اور اس سلسلے میں اپنی ذلّت آمیز شکست سے بچنے کے لئے کشیدگی میں اضافہ اور تشدد و جنگ و جارحیت کا دائرہ پھیلا کر دیگر ملکوں میں یمن کی لاحاصل جنگ میں کھینچنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ایسے ناقابل انکار اور پختہ ثبوت و شواہد موجود ہیں کہ جن سے اس بات کی تصدیق ہوتی ہے کہ لیبیاء، عراق، افغانستان، شام اور یمن جیسے بحران، علاقے میں امریکہ کی زیرحمایت غاصبانہ قبضے، جارحیت اور براہ راست فوجی مداخلت کا نتیجہ ہیں۔ اور یمن کی موجودہ صورت حال اسی بناء پر ہی پیدا ہوئی ہے۔ ظاہر ہے کہ امریکہ خود کو اس حقیقت سے بچانے کی کوشش کر رہا ہے جبکہ یہ مسئلہ اتنا واضح ہے کہ وہ، جھوٹے اور بے بنیاد دعوے کر کے شام اور یمن میں بے گناہ عوام اور عورتوں اور بچوں کے قتل عام کی ذمہ داری سے خود کو ہرگز نہیں بچا جاسکتا۔ ان تمام بحرانوں کی ذمہ داری یقینا ان ممالک پر عائد ہوتی ہے جو داعش اور جبہۃ النصرہ جیسے دہشت گرد گروہوں اور ان کے حامیوں کی بھرپور حمایت کر رہے ہیں اور جنھوں نے شمالی افریقہ اور مشرق وسطی میں انتہا پسندی اور دہشت گردی کے فروغ میں کردار ادا کیا ہے۔ اور یہ مسئلہ اب علاقے اور پوری دنیا کے لئے ایک بڑے خطرے میں تبدیل ہو گیا ہے۔ یمنی عوام نے گذشتہ اٹھارہ ماہ کے دوران اپنے ملک پر ہونے والی جارحیت کی بناء پر، جو تمام بین الاقوامی قوانین و اصول کی نظر سے بالکل غلط ہے، سخت ترین حالات اور مسائل کا سامنا کیا ہے۔ اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق مارچ دو ہزار پندرہ میں سعودی عرب کی زیرکمان فوجی مداخلت کے نتیجے میں شروع ہونے والی جنگ یمن کی بناء پر تقریبا آٹھ ہزار افراد شہید اور پینتیس ہزار سے زائد دیگر زخمی نیز کم از کم تیس لاکھ افراد بے گھر ہوئے ہیں۔ امریکہ نے اعلانیہ طور پر سعودی عرب کی حمایت کی ہے جس نے یمن کو وحشیانہ جارحیت کا نشانہ بنایا ہے اور اب امریکی جنگی بحری جہازوں پر جوابی حملے ہو رہے ہیں تو امریکہ بحران کا رخ موڑنے کی کوشش کر رہا ہے۔ بلا شبہ یہ صورت حال عالمی برادری کے لئے بالکل ناقابل قبول ہے۔ اس وقت عالمی برادری ایک طرح سے ایسے جرائم کے سلسلے میں بالکل لاتعلق بنی ہوئی ہے، جو مشرق وسطی کے ملکوں میں امریکہ کی حمایت سے انجام پا رہے ہیں جبکہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے بھی اس بارے میں کوئی اقدام نہیں کیا ہے۔ موجودہ صورت حال سے اس بات کا پتہ چلتا ہے کہ یمن پر جاریت کا نتیجہ، دہشت گرد گروہوں کے مضبوط ہونے اور یمن میں بحران کے شدّت اختیار کرجانے کے علاوہ اور کچھ نہیں نکلا ہے اور یہ ایک ایسی حقیقت ہے کہ جھوٹے دعوؤں اور بحران کا رخ موڑنے سے جس سے ہرگز نہیں بچا جا سکتا۔ اس لئے کہ علاقے کا سب سے بڑا مسئلہ، امریکہ کی غلط مداخلت اور اس کی جانب سے جارحیت کی کھلی حمایت ہے۔ یہ ایسی حالت میں ہے کہ اس بات کو سب تسلیم بھی کرتے ہیں کہ بحران یمن کو جنگ سے حل نہیں کیا جاسکتا اوراس بحران کا واحل حل، اس ملک پر سعودی جارحیت کی بندش اور ہتھیاروں کی فراہمی ختم کئے جانے کے ساتھ ساتھ یمنی فریقوں کے درمیان مذاکرات کے لئے موقع فراہم کرنا ہے۔