فلسطین کے نصب العین کے حصول کا حقیقی عامل قومی آشتی
https://urdu.sahartv.ir/news/annalys-i254425-فلسطین_کے_نصب_العین_کے_حصول_کا_حقیقی_عامل_قومی_آشتی
فلسطین کی اسلامی مزاحمتی تحریک حماس نے اعلان کیا ہےکہ قومی آشتی کے شعبے میں حاصل ہونے والے سمجھوتوں پر عمل درآمد اور اہم مسائل منجملہ آزاد فلسطینی مملکت کی تشکیل کے حوالے سے جدوجہد، فلسطین کے نصب العین کو عملی جامہ پہنانے کے اہم راستے ہیں۔
(last modified 2025-02-27T04:56:45+00:00 )
Oct ۲۱, ۲۰۱۶ ۱۶:۳۱ Asia/Tehran
  • فلسطین کے نصب العین کے حصول کا حقیقی عامل قومی آشتی

فلسطین کی اسلامی مزاحمتی تحریک حماس نے اعلان کیا ہےکہ قومی آشتی کے شعبے میں حاصل ہونے والے سمجھوتوں پر عمل درآمد اور اہم مسائل منجملہ آزاد فلسطینی مملکت کی تشکیل کے حوالے سے جدوجہد، فلسطین کے نصب العین کو عملی جامہ پہنانے کے اہم راستے ہیں۔

فلسطین کی اسلامی مزاحمتی تحریک حماس نے اعلان کیا ہےکہ قومی آشتی کے شعبے میں حاصل ہونے والے سمجھوتوں پر عمل درآمد اور اہم مسائل منجملہ آزاد فلسطینی مملکت کی تشکیل کے حوالے سے جدوجہد، فلسطین کے نصب العین کو عملی جامہ پہنانے کے اہم راستے ہیں۔

تحریک حماس کے سیاسی شعبے کے نا‏ئب سربراہ اسماعیل ھنیہ نے ملت فلسطین کے خلاف صہیونی حکومت کے دشمنانہ اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ فلسطینی گروہوں کے درمیان اتحاد و یکجہتی اور قومی آشتی سمجھوتے کی شقوں پر عمل درآمد، غاصب صہیونی حکومت کی سازشوں کو ناکام بنانے کے اہم ترین عامل ہیں۔

فلسطین کی اسلامی مزاحمتی تحریک حماس کے رہنما نے غزہ میں ایک خطاب کے دوران کہا کہ قومی آشتی اور اندرونی فاصلوں کو ختم کرنے کے لئے کوشش، تحریک حماس کی ترجیحات میں شامل ہے، لیکن تحریک فتح اور فلسطینی انتظامیہ، اس کو عملی  جامہ پہنانے میں سنجیدہ نہیں ہیں۔

تحریک حماس نے قومی آشتی کے لئے ملاقاتوں کے انعقاد کے لئے حماس سے رابطے پر مبنی تحریک فتح کے دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے تاکید کی کہ تحریک فتح، فلسطینی گروہوں کے درمیان قومی آشتی مذاکرات پر توجہ دیئے بغیر، صہیونی حکومت کے مفادات کے راستے میں یکطرفہ اقدامات انجام دے رہی ہے۔

تحریک فتح نے گذشتہ مہینے فلسطینی سرزمینوں میں مقامی سطح کے انتخابات کو ملتوی کرنے کے ساتھ قومی آشتی سمجھوتے کے منافی اقدام انجام دیتے ہوئے اعلان کیا کہ یہ انتخابات صرف غرب اردن میں منعقد ہوں گے۔ اس اقدام پر فلسطینی گروہوں نے شدید احتجاج کیا اور تحریک حماس نے اس اقدام کو غزہ میں تحریک فتح کی عدم توجہ سے تعبیر کیا۔

بہرحال تحریک فتح کی مرکزی کمیٹی کے رکن اور اس تحریک میں  قومی آشتی مذاکرات کے انچارج عزام احمد نے، دعوی کیا ہے کہ فلسطینی گروہوں کے ساتھ گذشتہ مذاکرات کے دائرے میں قومی آشتی کے نئے اجلاس کے انعقاد کے لئے قطر اور مصر کے ساتھ رابطوں کا سلسلہ جاری ہے۔

تحریک حماس اور فتح کے درمیان قومی آشتی سمجھوتے پراپریل 2014 میں قطر اور  مصر کی ثالثی کے ساتھ دستخط ہوئے، اس سمجھوتے میں قومی اتحاد کی حکومت کی تشکیل اور آئینی کونسل، فلسطینی انتظامیہ کے سربراہ اور فلسطینی پارلیمنٹ کے انتخابات ایک ساتھ کرائے جانے پر تاکید کی گئی ہے۔

اس سمجھوتے کے ساتھ ہی جون 2014 میں قومی اتحاد کی حکومت نے فلسطینی انتظامیہ کے سربراہ کی موجودگی میں حلف اٹھایا، لیکن اس حکومت کی تحریک فتح اور فلسطینی انتظامیہ کے ساتھ وابستگی کے سبب، آج تک یہ حکومت، چاہتے یا نہ چاہتے ہوئے غزہ میں اپنی ذمہ داریوں پر عمل نہیں کرسکی ہے۔

فلسطینی انتظامہ اور تحریک فتح، اس حکومت کے ایک ستون کے عنوان سے فلسطین کے سیاسی میدان میں یکطرفہ اقدامات کے ساتھ، عملی طور پر فلسطینیوں کے قومی آشتی پروگرام کو عملی جامہ پہنانے کے مقابلے میں ایک بڑی رکاوٹ میں تبدیل ہوچکی ہیں۔

فلسطینی گروہوں کے درمیان قومی آشتی کا موضوع فلسطینیوں کے خلاف صہیونی حکومت اور ان کے حامیوں کی جانب سے جاری دہمکیوں نیز سازشوں کو دیکھتے ہوئے، ایک ناقابل انکار ضرورت ہے، کہ جو صہیونی دشمن کے مقابلے  میں فلسطینیوں کی طاقت میں  اضافے اور فلسطین کے نصب العین کے حصول میں معاون و مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔