مغرب کی پالیسیوں پر روسی وزیر خارجہ کی شدید تنقید
https://urdu.sahartv.ir/news/annalys-i254569-مغرب_کی_پالیسیوں_پر_روسی_وزیر_خارجہ_کی_شدید_تنقید
روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے امریکہ اور مغرب کی پالیسیوں کو علاقے میں دہشت گردی پھیلنے کا عامل قرار دیا ہے۔
(last modified 2025-02-27T04:56:45+00:00 )
Oct ۲۲, ۲۰۱۶ ۱۳:۵۱ Asia/Tehran
  • مغرب کی پالیسیوں پر روسی وزیر خارجہ کی شدید تنقید

روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے امریکہ اور مغرب کی پالیسیوں کو علاقے میں دہشت گردی پھیلنے کا عامل قرار دیا ہے۔

سرگئی لاوروف نے مشرق وسطی کے موضوع پر ماسکو کے ساتھ اختلافات پر مغرب کی تاکید کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ اور مغربی حکومتوں کے اقدامات کے نتیجے میں اس وقت پورا علاقہ دہشت گردی کے خطرے کی گرفت میں ہے- ان کے بقول مشرق وسطی کے ممالک کے داخلی امور میں مغرب کی مداخلتوں اور اپنے مدنظر ڈیموکریسی مسلط کرنے کی کوششوں نے علاقے اور دنیا کو غیرمستحکم بنا دیا ہے- لاوروف نے کہا کہ مغرب کی مداخلتوں سے نئے تنازعے پیدا اور ان میں شدت آنے کا امکان پیدا ہو گیا ہے جن کی واضح مثال مشرق وسطی اور شمالی افریقہ کے واقعات ہیں- ایسا نظر آتا ہے کہ دہشت گردی کی لعنت کے سلسلے میں مغرب کی پالیسیوں کے بارے میں ماسکو کا تنقیدی بیان دنیا میں دہشت گردی پھیلنے کی وجوہات کے بارے میں ماسکو کے موقف کی عکاسی کرتا ہے- درحقیقت ماسکو نے اس مسئلے پر بارہا تاکید کی ہے کہ مشرق وسطی کے علاقے میں مغرب کی مداخلت پسندی دہشت گردی پھیلنے کی اصلی وجہ ہے- روس نے مغرب پر، دنیا پر تسلط حاصل اور اس پر اپنے اقدار مسلط کرنے کی کوشش کرنے کا الزام لگایا ہے- اس سلسلے میں سرگئی لاؤروف نے شام، لیبیا اور عراق جیسے ممالک میں مغرب کی مداخلتوں کی جانب بارہا اشارہ کیا ہے اور اسے عالمی سطح پرمغرب کی جانب سے اپنا تسلط اور اقدار مسلط کرنے کی براہ راست کوششوں سے تعبیر کیا ہے- مغربی ممالک اور ان کے عرب اتحادیوں نے دہشت گردی خاص طور سے تکفیری دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کے بجائے صرف اپنے مفادات کو آگے بڑھانے اور اپنے مدنظر اہداف کے حصول کے لئے ان تکفیری اور دیگر دہشت گرد گروہوں کو بڑھاوا دیا اور اس کے نتیجے میں ان گروہوں نے بڑی تعداد میں دہشت گرد بھرتی کر کے ایسے وحشتناک دہشت گردانہ اقدامات انجام دیئے کہ جن کا شاید اس سے پہلے امکان بھی ناقابل تصور تھا- شاید یہ کہنا غلط نہ ہو کہ انتہا پسندی اور اس سے پیدا ہونے والی دہشت گردی کے خلاف جد و جہد کے لئے پہلا حقیقی قدم یہ ہے کہ دنیا کے تمام ممالک انتہا پسندی اور دہشت گردی کو خطرہ قرار دیں اور اس کے مقابلے کے لئے اجتماعی قدم اٹھائیں- اس کے باوجود جب تک بعض ممالک اپنا مفاد،  انتہا پسندی اور دہشت گردی کے باقی رہنے اور اس کے فروغ میں خیال کرتے رہیں گے اس وقت تک دنیا کے مختلف علاقوں میں مزید دہشت گردانہ واقعات رونما ہوتے رہیں گے اور اسی تناظر میں روس کے وزیر خارجہ نے روس اور مغرب کے مجموعی  مقابلے کے سلسلے میں خاص طور پر امریکہ کے اقدامات اور پالیسیوں کو ہدف تنقید بنایا ہے- درحقیقت اس وقت روس اور مغرب، مختلف میدانوں میں تضاد اور کشمکش کا شکار ہیں- دہشت گردی کے سلسلے میں مغرب اور روس کے نظریات میں اختلافات کے ساتھ ہی دوسرے مسائل میں خاص طور سے یورپ کی سطح پر بھی بھی روس اور نیٹو کے درمیان کشیدگی بڑھ رہی ہے- اس سلسلے میں نیٹو نے مغرب کے فوجی ونگ کی حیثیت سے روس کے ساتھ مقابلہ آرائی اور صف آرائی کی غرض سے مشرقی یورپ میں اپنی موجودگی بڑھانے کے لئے بھاری کوشش کی ہے- اس کے ساتھ ہی نیٹو خاص طور امریکہ نے اس ادارے کے سرغنہ کی حیث سے یورپ کے دوسرے علاقوں میں اپنی فوجی موجودگی کا دائرہ پھیلانے کے لئے نئے اقدامات کئے ہیں- اس سلسلے میں بعض رپورٹوں کے مطابق بحران یوکرین اور بحران شام کے بارے میں مغرب اورروس کے درمیان موجود کشیدگی کے پیش نظر نارورے نے نیٹو کے شمالی رکن ملک کی حیثیت سے امریکی جدت عمل کے تحت اپنے یہاں امریکی فوجیوں کی تعیناتی کی خبر دی- اس مسئلے پر روس نے منفی ردعمل کا اظہار کیا ہے اور اسی بنا پر ناروے میں روسی سفارت خانے کے ترجمان ماکسیم گوروف نے روس کی جانب سے ناروے کو کوئی خطرہ نہ ہونے پر مبنی اوسلو  کے حکام کے بیانات کے پیش نظر یہ سوال اٹھایا ہے کہ ناروے، کس بنا پر اپنی فوجی توانائی و طاقت بڑھانے کے لئے خاص طور پر امریکی فوجیوں کی تعیناتی کا خواہاں ہے؟ درحقیقت روس اس وقت اس  نتیجے پر پہنچا ہے کہ ماسکو کے خلاف پابندیوں سمیت مختلف اقدامات سے مغرب خاص طور پر امریکہ کا اصلی مقصد، اس ملک کو کمزور کرنا ہے- ان باتوں کے پیش نظر ماسکو مغرب کے اقدامات اور پالیسیوں پر نظرثانی اور بین الاقوامی نظام میں خاص طور پر دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سیکورٹی کونسل کے فعال کردار ادا کرنے کے لئے اس کی مزید کوششوں کا خواہاں ہے تاکہ اس طرح مغربی ملکوں کی ہنگامہ آرائی کے لئے میدان باقی نہ رہے کہ جو دیگر ممالک کے اقتدار اعلی اور خودمختاری اور ان کے داخلی امور میں عدم مداخلت کے منافی ہے-