انسانی حقوق کا مسئلہ ایران کے مقابلے میں مغرب کا سیاسی ہتھکنڈہ
ایران کے بارے میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے نام نہاد رپورٹر نے ایک بار پھر ایران میں انسانی حقوق کی صورت حال کے بارے میں غیر مصدقہ ذرائع کی بنیاد پر سیاسی اغراض و مقاصد کی حامل اپنی رپورٹ پیش کی ہے۔
احمد شہید نے، جنھیں دو ہزار گیارہ میں ایران کے بارے میں انسانی حقوق کونسل کے خصوصی رپورٹر کی حیثیت سے مقرر کیا گیا، اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے نام اپنی نئی رپورٹ میں ایران میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے طور پر ایسے نکات کا ذکر کیا ہے کہ جن کی طرف انھوں نے اس سے قبل کی رپورٹ میں بھی اشارہ کیا تھا۔ اقوام متحدہ کے اس رپورٹر نے اپنی نئی رپورٹ میں مغربی انسانی حقوق کو معیار قرار دیتے ہوئے غیر مصدقہ اطلاعات کی بنیاد پر ایران پر انسانی حقوق کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا ہے۔ احمد شہید نے ایران میں سزائے موت پر جاری عمل، مذہبی اقلیتوں اور اسی طرح خواتین کے ساتھ امتیازی سلوک، سیاسی قیدیوں کے ساتھ نادرست رویے اور آزادی بیان پر بندشوں کو اپنی نئی رپورٹ میں ایران میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے تعبیر کیا۔ ایران کے دفتر خارجہ کے ترجمان بہرام قاسمی نے ہفتے کے روز احمد شہید کی نئی رپورٹ پر، جو انسانی حقوق کی صورت حال کے بارے میں غیر مصدقہ ذرائع کی بنیاد پر سیاسی اغراض و مقاصد کے تحت تیار کی گئی ہے، اپنے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ خاص ملکوں کے لئے اس طرح سے بامقصد رپورٹیں تیار کئے جانے سے عالمی سطح پر انسانی حقوق کی صورت حال کو بہتر بنانے میں کوئی مدد نہیں ملے گی۔ انھوں نے تاکید کے ساتھ کہا کہ ایران میں انسانی حقوق کے مسئلے میں ایسی حالت میں سیاسی و انتخابی رویہ اختیار کیا گیا ہے کہ عالمی برادری، بین الاقوامی سطح پر خاص طور سے یمن اور شام میں مغربی ملکوں کی زیر حمایت بعض ملکوں اور دہشت گرد گروہوں کے ہاتھوں انسانی حقوق کی، ہونے والی کھلی خلاف ورزی کا مشاہدہ کر رہی ہے۔ بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ انسانی حقوق کے مسئلے میں سیاسی اور دو رخی پالیسی اختیار کی جا رہی ہے اور انسانی حقوق کے دعویدار ممالک، اس مسئلے کا اپنے نقطہ نظر سے جائزہ لیتے ہیں اور اس کی تشریح کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران کی حکومت، اپنے ملک میں انسانی حقوق کا جائزہ لئے جانے کے سلسلے میں اس قسم کے رپورٹر کے انتخاب کو نادرست سمجھتی ہے۔ ہر ملک، اپنے قوانین اور معیارات کو انسانی حقوق کی بنیاد قرار دیتا ہے اور ایسی صورت حال میں احمد شہید کی نادرست اطلاعات پر مبنی رپورٹ کا کوئی اعتبار اور کوئی حیثیت نہیں۔ شرعی، قانونی، اسلامی قوانین و اصول کی بنیاد اور بین الاقوامی معاہدوں پر کاربند رہتے ہوئے اسلامی جمہوریہ ایران نے ہمیشہ انسانی حقوق کا پاس و لحاظ رکھا ہے۔ علاوہ ازیں اقوام متحدہ میں کسی بھی ملک کے بارے میں رپورٹر کی کارکردگی مکمل منصفانہ، غیر امتیازی اور غیر سیاسی نیز پیشہ ورانہ اصول کی بنیاد پر ہونی چاہئے اور ایران کے سلسلے میں ایسے کسی بھی اصول پر عمل نہیں کیا گیا ہے۔ احمد شہید نے کبھی بھی پیشہ ورانہ اصول پر عمل نہیں کیا ہے اور ایران میں قانونی، شرعی اور اسلامی قوانین پر کوئی توجہ نہیں دی ہے۔ ایران میں سزائے موت پر شرعی قوانین و اصول کے دائرے میں عمل کیا جاتا ہے اور قانونی مطالبے کی بنیاد پر ہی یہ حق رکھا گیا ہے اور سزائے موت پر عمل درآمد کے لئے عدالت کے ذریعے راستہ طے ہوتا ہے۔ موت کے سوداگروں اور ایسے افراد کے لئے کہ جنھوں نے مختلف طریقوں سے کسی کا قتل کیا ہے، ایران میں شرعی و قانونی اصول کی بنیاد پر سزائے موت کو مدنظر رکھا گیا ہے۔ اور یہ موت کی سزا، صرف ایران میں ہی رائج نہیں ہے بلکہ ان ملکوں میں بھی اس سزا پر عمل ہوتا ہے جو انسانی حقوق کے مسئلے میں ترقی یافتہ سمجھے جاتے ہیں۔ ایران میں تمام مذہبی اقلّیتوں کو مکمل آزادی کے ساتھ اپنی مذہبی رسومات ادا کرنے کی اجازت حاصل ہے یہاں تک کہ مجلس شورائے اسلامی یعنی ایران کی پارلیمنٹ میں ان کا نمائندہ بھی موجود ہے۔ ایران میں انسانی حقوق کے سلسلے میں منافقین کے گروہ، ایم کے او اور ایسے انقلاب مخالف عناصر کی اطلاعات کی بنیاد پر تیار کی جاتی ہے کہ جن کی ایرانی عوام میں کوئی حیثیت ہی نہیں ہے اور جن سے ایرانی قوم سخت نفرت کرتی ہے۔ ایران میں خواتین کے ساتھ امتیازی سلوک کی بات بھی، کہ جس کی طرف احمد شہید کی رپورٹ میں اشارہ کیا گیا ہے بالکل صحیح نہیں ہے۔ اسلامی جمہوریہ ایران میں اس وقت خواتین کا مقام، اخلاق و ذمہ داریوں کے اعتبار سے بہت بلند ہے۔ ایران میں خواتین، اعلی انسانی و اسلامی مقام پر فائز ہیں اور یہی وجہ ہے کہ وہ مختلف سیاسی، ثقافتی، سائنسی اور سماجی میدانوں میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔