امریکہ میں مسلمانوں کے خلاف بڑھتے ہوئے جرائم
امریکہ میں مسلمانوں کے خلاف جرائم کے ارتکاب میں تیزی کے ساتھ اضافہ ہو رہا ہے۔
امریکہ کی بیس ریاستوں اور شہر نیویارک میں انجام پانے والی تحقیقات سے پتہ چلتا ہے کہ امریکہ میں نفرت کی بنیاد پر انجام پانے والے جرائم میں چھے فیصد کا اضافہ ہوا ہے جبکہ مجموعی طور پر مسلمانوں کے خلاف جرائم کے ارتکاب میں نواسی قیصد کا اضافہ ہوا ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق صرف نیویارک شہر میں نفرت کے تحت جرائم کے ارتکاب میں چوبیس فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ امریکہ میں حالیہ تبدیلیوں خاص طور سے مسلمانوں کے خلاف بڑھتے ہوئے زہریلے پروپیگنڈے نیز یورپ و امریکہ میں دہشت گردی کے رونما ہونے والے واقعات سے اسلام و مسلمین کے سلسلے میں منفی رجحان بڑھا ہے۔ اس سلسلے میں مسلمانوں سے خوف زدہ کئے جانے، یورپ و امریکہ میں دہشت گردانہ واقعات اور یورپیوں اور امریکیوں کے خلاف سلفی گروہوں کے انتہا پسندانہ بیانات، ایسے بڑھتے ہوئے جرائم کی جملہ وجوہات ہیں جو مسلمانوں سے کی جانے والی نفرت کی بناء پر انجام پا رہے ہیں۔ اس بارے میں لئے جانے والے جائزے میں اس بات پر تاکید کی گئی ہے کہ شام میں تباہ کن خانہ جنگی اور اسی طرح داعش دہشت گرد گروہ کی ہولناک تصاویر اور ہیبتناک اعلانات سے امریکی سماج میں مسلمانوں کے سلسلے میں منفی احساس پیدا ہوا ہے۔ اس جائزے میں اس بات کی وضاحت کی گئی ہے کہ اسلام کے بارے میں عدم آگاہی، تشدد و انتہا پسند گروہوں کے اقدامات اور منفی پروپیگنڈے کے ساتھ ساتھ امن پسند مسلمانوں کے ساتھ بامقصد مفاہمت کا فقدان، امریکی مسلمانوں کے بارے میں نادرست اور گمراہ کن نظریات وجود میں آنے کا باعث بنا ہے۔ جبکہ اس جانب بھی توجہ کی ضرورت ہے کہ مغربی اور خاص طور سے امریکی ذرائع ابلاغ، مغربی حکومتوں سے مکمل ہم آہنگ ہو کر دین اسلام اور مسلمانوں کے خلاف زہریلا پروپیگنڈہ اور اس بات کی کوشش کر رہے ہیں کہ اسلام کو انتہا پسند دین کی حیثیت سے متعارف کرائیں تاکہ یورپ منجملہ امریکہ میں مسلمانوں پر دباؤ بڑھانے اور ان پر حملے کی راہ، ماضی سے کہیں زیادہ ہموار ہو سکے۔ امریکہ میں حالیہ دہشت گردانہ واقعات منجملہ بارہ جون دو ہزار سولہ کو ریاست فلوریڈا میں نائٹ کلب پر ہونے والا حملہ، کہ جس میں پچاس افراد ہلاک اور ترپن دیگر زخمی ہوئے، نیز دو دسمبر دو ہزار پندرہ کو کیلیفورنیا کے شہر سین برناردینو میں رونما ہونے والا حادثہ، کہ جس کے نتیجے میں چودہ افراد ہلاک ہوئے، مذہب اسلام اور مسلمانوں کے خلاف دشمنانہ مواقف اور امریکی سماج و معاشرے میں اسلام مخالف لہر دوڑنے کا باعث بنا ہے۔ یہی حملے اس بات کا موجب بنے کہ امریکہ میں دائیں بازو کے انتہا پسند، اپنے اغراض و مقاصد کو آگے بڑھائیں، خاص طور سے مذہب اسلام کا مقابلہ اور مسلمانوں کے خلاف ماحول سازگار بنائیں اور اس سلسلے میں ان واقعات سے بھرپور غلط فائدہ اٹھائیں۔ دریں اثنا امریکہ میں صدارتی انتخابات کے ارب پتی ریپبلکن امیدوار ڈونالڈ ٹرمپ نے اس بات کی کوشش کی ہے کہ مسلمانوں کے خلاف تجاویز پیش کر کے امریکی عوام کی توجہ حاصل کریں اور اپنی مقبولیت میں اضافہ کریں۔ جیساکہ بارہ جون دو ہزار سولہ کو ریاست فلوریڈا میں نائٹ کلبپر ہونے والے حملے اور دو دسمبر دو ہزار پندرہ کو کیلیفورنیا کے شہر سین برناردینو کے حادثے کے بعد ڈونالڈ ٹرمپ نے اسلام مخالف اپنے ایک بیان میں امریکہ میں مسلمانوں کے داخلے پر پابند عائد کئے جانے کی ضرورت پر زور دیا۔ درحقیقت ٹرمپ کے اس قسم کے بیان سے انتہا پسندوں اور قوم پرستوں کو بہانہ مل گیا کہ وہ امریکہ میں اسلامی اور اسی طرح مسلمانوں کے مراکز پر اپنے حملے تیز کر دیں۔ جیساکہ کچھ عرصے قبل ؛اسلام امریکہ تعلقات کونسل؛ نے ایک بیان میں اعلان کیا کہ پیرس اور کیلیفورنیا میں ہونے والے حملوں کے بعد امریکہ میں مسلمانوں اور ان کی مساجد کے خلاف حملوں میں کافی اضافہ ہوا ہے۔ اس کونسل نے ایک رپورٹ میں خبردار کیا ہے کہ امریکہ میں سیاسی ماحول کے نتیجے میں مسلمانوں کے سلسلے میں منفی احساسات پیدا ہو رہے ہیں اور اس سلسلے میں ٹرمپ کے بیان کی طرف اشارہ کیا گیا ہے جنھوں نے امریکہ میں مسلمانوں کے داخلے کی روک تھام کئے جانے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ امریکہ میں مسلمانوں کی مساجد اور عبادتگاہوں پر حملے، مسلمانوں یہاں تک کہ غیر مسلمانوں کے خلاف زبان کے چلائے جانے والے تیر اور اسی طرح تعلیم اور روزگار کے مواقع میں مسلمانوں کے ساتھ برتا جانے والا امتیازی سلوک، اس ملک میں اسلامو فوبیا کے صرف چند نمونے ہیں۔ مسلمانوں کے خلاف کیس، مسلمانوں کے مقدس مراکز کی بے حرمتی، مذہب اسلام اور مسلمانوں کے خلاف زہریلا پروپیگنڈہ اور ان کے سلسلے میں امتیازی سلوک، ایسے اقدامات ہیں جو امریکہ میں اسلامو فوبیا کے تحت عمل میں لائے جا رہے ہیں۔ امریکی ذرائع ابلاغ کی جانب سے پیش کی جانے والی رپورٹوں سے بھی اس بات کی نشاندہی ہوتی ہے کہ امریکی سیکورٹی ادارے منجملہ ایف بی آئی، اسلامو فوبیا کو ہوا دے رہی ہے۔ اگرچہ امریکی صدر بارک اوباما نے برسراقتدار آنے کے بعد مسلمانوں کے بارے میں واشنگٹن کا رویہ تبدیل کرنے کا وعدہ کیا تھا تاہم اس ملک میں مذہب اسلام اور مسلمانوں کے خلاف انجام پانے والے حالیہ تمام اقدامات سے اس بات کی نشاندہی ہوتی ہے کہ عمل میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ اس کے بالکل برخلاف ہے کہ جس کا امریکی صدر بارک اوباما نے وعدہ کیا تھا۔