افغان فوج پر نیٹو اور امریکہ کا الزام
https://urdu.sahartv.ir/news/annalys-i254812-افغان_فوج_پر_نیٹو_اور_امریکہ_کا_الزام
افغانستان میں امریکی فوج کے کمانڈر نے الزام لگایا ہے کہ افغان کمانڈروں کی نااھلی کی وجہ سے فوج کی ہلاکتیں بڑھ رہی ہیں۔
(last modified 2025-02-27T04:56:45+00:00 )
Oct ۲۴, ۲۰۱۶ ۱۱:۱۱ Asia/Tehran
  • افغان فوج پر نیٹو اور امریکہ کا الزام

افغانستان میں امریکی فوج کے کمانڈر نے الزام لگایا ہے کہ افغان کمانڈروں کی نااھلی کی وجہ سے فوج کی ہلاکتیں بڑھ رہی ہیں۔

جنرل جان نیکلسن نے افغانستان کے سکیوریٹی حالات کا جائزہ لیتے ہوئے کہا کہ پولیس اور فوج کے بہت سے یونٹوں کی کمزور کمان کی وجہ سے سکیورٹی فورسز کی ہلاکتوں میں اضافہ ہو رہا  ہے۔ جان نیکلسن نے کہا کہ صرف جولائی میں افغانستان کی پولیس اور فوج کے نو سو جوان طالبان کے حملوں میں مارے گئے ہیں۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہےکہ یہ الزام تو خیر امریکہ لگا رہا ہے لیکن دراصل اس صورتحال کی ساری ذمہ داری نیٹو اور امریکہ کے اوپر آتی ہے کیونکہ پندرہ برسوں تک افغانستان پرقبضہ جمائے رکھنے کے بعد بھی امریکہ اور نیٹو نے افغان فوج، پولیس اور سکیورٹی فورسز کو ٹریننگ دینے سے دریغ کیا ہے ۔ البتہ دوہزار ایک کو بن کانفرنس میں یہ طے  پایا تھا کہ افغانستان کی سکیورٹی فورسز کی تعداد ساڑھے تین لاکھ ہوگی اور مختلف ممالک افغانستان کی فوج اور پولیس  فورس کو ٹریننگ دیں گے لیکن چونکہ امریکہ اور نیٹو افغانستان کے حالات کی باگ ڈور اپنے ہاتھوں میں رکھتے تھے لہذا  انہوں نے مختلف ممالک کو افغانستان کی فوج اور قومی پولیس کی مدد کرنے سے روک دیا، جبکہ خود امریکہ نے دوہزار ایک میں دہشتگردی سے مقابلے کے بہانے افغانستان پر لشکر کشی کرکے اس پر قبضہ کرلیا اور اس کے کـچھ ہی دنوں بعد اپنے فوجی بازو کی حیثیت سے نیٹو کو ایک عرصے کے بعد یورپ کے باہر کسی ملک میں تعینات کیا۔ افغانستان پر امریکہ  کے پندرہ سالہ قبضے کے بعد بھی افغانستان میں فضائیہ نہیں ہے اور جو کچھ ہیلی کاپٹر اور چھوٹے موٹے طیارے ہیں وہ حملوں کے دوران اپنی بری فوج کی پشت پناہی نہیں کرتے۔ یہ بھی افغان بری فوج کے اہلکاروں کی ہلاکتوں کے بڑھنے کا ایک سبب ہے۔ حال ہی میں کچھ ملکوں نے ، جن میں ہندوستان بھی شامل ہے، افغان فوج کو ہیلی کاپٹر دیئے ہیں البتہ متعدد جنگی محاذوں کی ہیلی کاپٹروں کی یہ قلیل تعداد بری فوج کی بیکنگ نہیں کرسکتی۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ افغانستان میں امریکی فوج کے کمانڈر جان نیکلسن کا یہ دعوی، کہ افغان فوج کمزور ہے، اس حقیقت کا اعتراف ہے کہ امریکہ اور نیٹو نے افغانستان کی فوج اور پولیس کو مضبوط بنانے پر توجہ نہیں دی ہے۔ اس کا ایک ثبوت یہ ہے کہ بہت سے مواقع پر افغان کمانڈروں نے کہا ہے کہ طالبان کے ہتھیار اور جنگی سازو سامان افغاں سکیورٹی فورسز سے کہیں زیادہ پیشرفتہ ہیں اس کے باوجود افغان سکیورٹی فورسز نے دہشتگردوں کے مقابل نہایت شجاعت اور غیرت کا ثبوت دیتے ہوئے مختلف  شہروں اور دیہی علاقوں کو ان کے تسلط سے بچا لیا ہے۔

سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ امریکی فوجی کمانڈروں اور مغربی ذرائع‏ ابلاغ کی جانب سے افغانستان کی سکیورٹی فورسز کے کمانڈروں کو ناتوانی اور نااہلی کا ذمہ دار قراردینے کا مقصد یہ ہے کہ امریکہ افغانستان میں اپنی فوجی موجودگی بڑھانا چاہتا ہے۔ واضح رہے امریکہ اور نیٹو کو دوہزار چودہ میں علاقائی اور عالمی دباؤ  کے نتیجے میں افغانستان سے پسپا ہونا پڑا اور امریکہ اور نیٹو کی فوج کی بڑی تعداد اپنے اپنے وطن لوٹ گئی۔ امریکہ یہ چاہتا ہے کہ افغانستان کو اپنے ایک فوجی اڈے میں تبدیل کرلے اور کابل کے ساتھ کئے گئے سکیورٹی معاہدے پر عمل نہ کرکے وہ نہتے افغان عوام پر طالبان اور داعش کے حملوں کا تماشائی بنا ہوا ہے اور اس نے اپنے منصوبوں کے تحت افغانستان میں بدامنی جاری رکھی ہے۔  اس نے عمدا ایسے بحرانی حالات فراہم کردیئے ہیں کہ اپنی افواج دوبارہ افغانستان بھیج سکے۔ امریکی کمانڈر کا یہ کہنا کہ چونکہ طالبان امریکہ کی قومی سلامتی کے لئے خطرہ نہیں ہیں لہذا امریکہ ان پرحملہ نہیں کرے گا اس بات کو ظاہر کرتا ہےکہ واشنگٹن تشدد پسند اور دہشتگرد گروہوں کے سلسلے میں دوہرے معیارات کا حامل ہے اور ان گروہوں سے اپنے اہداف و مقاصد کے لئے فائدہ اٹھاتا ہے۔