مغرب، دہشت گردی ختم کرنے پر مائل نہیں: صدر مملکت ڈاکٹر روحانی
https://urdu.sahartv.ir/news/annalys-i254980-مغرب_دہشت_گردی_ختم_کرنے_پر_مائل_نہیں_صدر_مملکت_ڈاکٹر_روحانی
اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر نے علاقے میں دہشت گردی کی مشکل جاری رہنے کی وجہ مغربی طاقتوں کی جانب سے اسے ختم کرنے پر مائل نہ ہونا بتائی ہے- صدر مملکت نے کہا کہ بعض بڑی طاقتیں، دہشت گرد گروہوں کو اپنے ناجائز مقاصد کو عملی جامہ پہنانے کے لئے ہتھکنڈے کے طور پر استعمال کرتی ہیں-
(last modified 2025-02-27T04:56:45+00:00 )
Oct ۲۵, ۲۰۱۶ ۱۲:۲۹ Asia/Tehran
  • مغرب، دہشت گردی ختم کرنے پر مائل نہیں: صدر مملکت ڈاکٹر روحانی

اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر نے علاقے میں دہشت گردی کی مشکل جاری رہنے کی وجہ مغربی طاقتوں کی جانب سے اسے ختم کرنے پر مائل نہ ہونا بتائی ہے- صدر مملکت نے کہا کہ بعض بڑی طاقتیں، دہشت گرد گروہوں کو اپنے ناجائز مقاصد کو عملی جامہ پہنانے کے لئے ہتھکنڈے کے طور پر استعمال کرتی ہیں-

صدر مملکت ڈاکٹر حسن روحانی نے پیر کو اپنے صوبائی دورے کے اختتام پر ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے علاقے کے حالات کے بارے میں اسلامی جمہوریہ ایران کے مواقف کو بھی بیان کیا اور کہا کہ دہشت گردی کے سلسلے میں ایران کا موقف مکمل طور پر واضح ہے- صدرمملکت نے علاقے میں بعض ممالک کی مداخلتوں کو بین الاقوامی اصول و قوانین کے منافی قرار دیا اور کہا کہ یہ مداخلتیں علاقے میں بدامنی کو ھوا دے رہی ہیں- اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر نے کہا کہ بعض بڑی طاقتوں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ایک سیاسی ڈرامہ شروع کر رکھا ہے جب کہ اس مسئلے اور اس کے نتائج نے انھیں بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے-

ایران کے صدر نے دوسرے پہلو سے بھی مغرب، خاص طور سے امریکہ کو ہدف تنقید بنایا- صدر مملکت ڈاکٹر روحانی کے ان بیانات میں امریکی حکام کے معنویت و اخلاق سے عاری رویے پر ان کی کھلی تنقید پر بھی توجہ دیئے جانے کی ضرورت ہے۔

ایران کے صدر نے شہر اراک میں عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے امریکی صدارتی انتخاب کے دو امیدوار ہیلری کلنٹن اور ڈونالڈ ٹرمپ میں سے کسی ایک کے انتخاب کو برے اور بہت برے کے درمیان انتخاب سے تعبیر کیا اور فرمایا کہ امریکہ دعوی کرتا ہے کہ وہاں دو سو برسوں سے بھی زیادہ عرصے سے جمہوریت ہے تاہم اس میں اخلاقیات کی کوئی گنجائش نہیں ہے- اس سے قبل رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے گذشتہ ہفتے بعض علمی شخصیتوں اور دانشوروں سے ملاقات میں تاکید کے ساتھ فرمایا تھا کہ اس بات کی کوئی اہمیت نہیں ہے کہ امریکی صدارتی انتخابات میں کون کامیاب ہوتا ہے کیونکہ ان انتخابات کا امریکیوں کے بارے میں ایران کے نظریے اور موقف پر کوئی اثر نہیں پڑے گا- رہبر انقلاب اسلامی نے یاد دہانی کرائی تھی کہ آئندہ ہفتوں میں امریکی انتخابات کے ان موجودہ امیدواروں میں سے ایک، ایسے ملک کا صدر بن جائے گا جو طاقت و ثروت کا حامل اور دنیا میں سب سے زیادہ ایٹمی ہتیھیاروں اور ذرائع کا حامل ہے- رہبر انقلاب اسلامی نے فرمایا کہ آج کے انسانوں کی پریشانیوں اور مشکلات  نیز مادی افکار و نظریات کی ناکامی نے انسانی اور عالمی مسائل میں دنیا کو نئے نظریات اور سوچ کا ضرورتمند بنا دیا ہے- رہبر انقلاب اسلامی نے اس سے قبل مغربی نوجوانوں کو مخاطب کرتے ہوئے مزید  پرامن مستقبل کے بارے میں چارہ کار تلاش کرنے کے لئے دہشت گردی کو مغربی معاشرے اور عالم اسلام کی مشترکہ فہم و ادراک کی بنیاد قرار دیا تھا تاہم فرمایا تھا کہ بدامنی اور فرانس میں رونما ہونے والے واقعات سے پیدا ہونے والے اضطراب کے نتیجے میں عراق، یمن، شام اور افغانستان کے عوام، لمبے عرصے سے جو تکلیفیں برداشت کر رہے ہیں، کافی فرق ہے - آپ نے فرق کو بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ فرق یہ ہے کہ عالم اسلام، مختلف پہلؤوں سے زیادہ وسیع پیمانے پر اور کافی عرصے سے خوف و ہراس کی بھینٹ چڑھ رہا ہے- اس سلسلے میں اصلی مسئلہ دہشت گردی کے سلسلے میں مغرب کا دہرا معیار ہے کیونکہ جب تک مغرب کی پالیسیوں میں دہرے معیارات  برقرار رہیں گے اور جب تک دہشت گردی کے حامیوں کی نگاہ میں دہشت گردی کا اعتدال پسند اور انتہاپسند مصداق موجود رہے گا اور مغرب میں ان کی حمایت کی جاتی رہے گی اس وقت تک مغرب کی جانب سے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سنجیدہ اقدام کی توقع نہیں کی جاسکتی- اس طرح کا رویہ اور نظریہ برسوں سے مغربی معاشروں کی سیاسی ثقافت کا حصہ بن چکا ہے- مشکل یہ ہے کہ دہشت گردی کی جڑیں مغرب کی پالیسیوں میں پیوست ہیں لیکن مغرب خود کو دہشت گردی کے خلاف جنگ کا علمبردار ظاہر کرتا ہے جب کہ وہ اپنے طے شدہ اقدامات اور نسل پرستانہ نقطہ نگاہ سے صرف اسلام کی شبیہ خراب کرنے میں مشغول رہا ہے-

آج بھی یہ عمل دہرایا جا رہا ہے اور امریکہ، دہشت گردی کے تسلط پسندانہ محرکات کے تحت دہشت گردی اور انتہا پسندی کو اسلامی ممالک میں اثر و نفوذ پیدا کرنے اور اختلافات ڈالنے کے لئے ہتھکنڈے کے طور پر استعمال کر رہا ہے-