پاکستان میں جاری دہشت گردانہ حملے
پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے صدر مقام کوئٹہ میں پولیس ٹریننگ کالج پر دہشت گردوں کے حملے سے پتہ چلتا ہے کہ اس ملک کو بدستور دہشت گردانہ حملوں کا سامنا ہے اور اس حملے کو کہ جس میں تقریبا نوے افراد ہلاک ہوئے ہیں ایک طرح سے حکومت مخالفین اور دہشت گرد گروہوں کی جانب سے طاقت کے مظاہرے سے تعبیر کیا جا رہا ہے-
پاکستانی فوج کے اعلان کے مطابق گذشتہ نصف شب کو پانچ سے چھے دہشت گرد، خود کو پولیس ٹریننگ کالج کے اندر پہنچانے اور دھماکہ خیز مواد کی حامل جیکیٹ کو دھماکے سے اڑانے میں کامیاب ہو گئے- سیاسی ماہرین کا خیال ہے کہ فوجی مرکز میں دہشت گردانہ کارروائی کہ جہاں سخت ترین سیکورٹی انتظامات ہوتے ہیں، کئی لحاظ سے قابل غور ہے- پہلے یہ کہ دہشت گردوں نے یہ ظاہر کرنے کی کوشش کی ہے کہ پاکستان کی فوج اور پولیس سے ان کا بنیادی مسئلہ جاری ہے اور وہ پاکستانی فوج سے انتقام لینے کی کوشش کر رہے ہیں- پولیس ٹریننگ کالج پر دہشت گردانہ حملہ، پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف کے اس بیان کے بعد انجام پایا جس میں انھوں نے دعوی کیا تھا کہ تحریک طالبان پاکستان، پندرہ جون دو ہزار چودہ سے شمالی وزیرستان مین شروع ہونے والی فوجی کارروائیوں کے نتیجے میں پوری طرح شکست کھا چکی ہے- جنرل راحیل شریف کے بقول پاکستان، قبائلی علاقوں میں ضرب عضب نامی دہشت گردی مخالف کارروائیوں کے بعد زیادہ محفوظ ہو گیا ہے- اس بناء پر کوئٹہ میں پولیس ٹریننگ کالج پر جنرل راحیل شریف کے بیانات کے کچھ ہی عرصے بعد ہونے والا دہشت گردانہ حملہ، پاکستانی فوج اور سیکورٹی اہلکاروں کے مقابلے میں ایک طرح سے ایک بار پھر طاقت کے مظاہرے سے تعبیر کیا جا سکتا ہے اور یہ کہ پاکستانی فوج کے سربراہ کے دعوؤں کے باوجود یہ ملک فوج کے لئے بھی محفوظ اور پرامن نہیں ہے- دوسرا نکتہ، پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں پولیس ٹریننگ کالج پر حملے کا موضوع ہے- گذشتہ دو برسوں کے دوران پاکستان کے صوبہ خیبرپختونخوا اور صوبہ بلوچستان میں فوجی مراکز پر دہشت گردانہ حملوں میں شدت آئی ہے اور اکثر دہشت گردانہ حملوں کی ذمہ داری بھی تحریک طالبان نے قبول کی ہے- اگرچہ علیحدگی پسند گروہ، صوبہ بلوچستان میں بھی فعال ہیں اور دہشت گردانہ حملے کر سکتے ہیں تاہم اس صوبے کے صدر مقام کوئٹہ میں دہشت گردانہ حملے کا علاقائی ملکوں پر بھی اثر مرتب ہو سکتا ہے کیونکہ ابھی حال ہی میں پاکستان کی وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے فوجی و سیاسی حلقوں نے ہندوستان اور افغانستان پر صوبہ بلوچستان میں بعض علیحدگی پسند اور دہشت گرد گروہوں کی حمایت اور ان کے ساتھ تعاون کا الزام لگایا ہے اور ایک طرح سے ان دونوں ملکوں کا مقصد، پراکسی وار شروع کرانا اعلان کیا ہے- اس بات کے پیش نظر کہ ابھی حال ہی میں ہندوستان نے اپنے زیرانتظام کشمیر میں فوجی مراکز پر دہشت گردانہ حملوں کا الزام پاکستان پر عائد کیا ہے، یہ امکان موجود ہے کہ پاکستان بھی نئی دہلی کو کوئٹہ میں دہشت گردانہ حملے میں ملوث قرار دے- کیونکہ پاکستان کے مختلف حلقوں کی نگاہ میں ہندوستان کے سیاسی حکام اور فوجی کمانڈروں نے ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر میں اٹھارہ فوجیوں کے قتل کے بعد اسلام آباد کے خلاف سخت بیانات دیئے ہیں-
ہرچند کہ بعض رپورٹوں سے پتہ چلتا ہے کہ لشکرجھنگوی دہشت گرد گروہ نے کوئٹہ میں پولیس ٹریننگ کالج پر حملے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے، تاہم چونکہ پاکستان میں بعض سیاسی، فوجی اور مذہبی حلقے، بعض سیکورٹی اور فوجی عناصر کے ساتھ اس دہشت گرد گروہ کے تعاون کے دعویدار ہیں اس لئے ایسا ہونے کی صورت میں پولیس ٹریننگ مرکز پر لشکرجھنگوی کا دہشت گردانہ حملہ پیچیدہ پہلؤوں کا حامل ہو سکتا ہے- صوبہ پنجاب سے لشکرجھنگوی کے عناصر کے حالیہ صفائے کے پیش نظر کہ جس میں ایک سو سات دہشت گرد ہلاک اور دو سو ستانوے گرفتار کر لئے گئے تھے، یہ حملہ ایک انتقامی کارروائی بھی سمجھا جا سکتا ہے-
بہرحال صوبہ بلوچستان کے صدر مقام کوئٹہ کے پولیس ٹریننگ مرکز پر دہشت گردانہ حملہ چاہے وہ کسی بھی گروہ کی جانب سے کسی بھی نیت و مقصد کے تحت کیا گیا ہو اس تلخ حقیقت کا عکاس ہے کہ پاکستان، بدستور دہشت گردانہ حملوں سے دوچار ہے اور تربیتی مراکز میں ٹریننگ حاصل کرنے والے سیکورٹی اہکاروں کا قتل عام اپنے فوجی اڈوں کی سیکورٹی اور تحفظ کے لئے اس ملک کی فوج اور پولیس کی طاقت و توانائی کو شبہے سے دوچار اور ان پر سوال کھڑے کرسکتا ہے- پاکستانی عوام کا خیال ہے کہ ان کے ملک کے فوجی اور سیکورٹی ادارے، جب ایک فوجی مرکز میں اپنے سیکورٹی اہلکاروں کو سیکورٹی فراہم نہیں کرسکتے تو اس ملک کے عوام اور پبلک مقامات کو وہ کس طرح تحفظ فراہم کرسکتے ہیں؟-