ایران اور مغرب کے درمیان تعاون کا نیا طرز عمل
اسلامی جمہوریہ ایران کا دارالحکومت تہران آج کل مختلف مغربی ملکوں کے حکام و وفود کا میزبان بنا ہوا ہے۔
بوسنیہ ہرزہ گووینہ کی صدارتی کونسل کے چیئرمین کے علاوہ فنلینڈ کے صدر کا دورہ تہران اور اسی طرح ایٹمی معاہدے کے بعد ایران کے سلسلے میں یورپی یونین کی جانب سے نئی قراداد کی منظوری سے ایران اور یورپی ملکوں کے درمیان تعلقات کا نیا دور شروع ہونے کا پتہ چلتا ہے۔ یورپی پارلیمان نے منگل کے روز ایٹمی معاہدے کے بعد ایران کے بارے میں یورپی یونین کی نئی اسٹراٹیجی سے متعلق قرارداد کی منظوری دی ہے۔ اس قرارداد میں علاقے میں امن و استحکام کے قیام میں ایران کے موثر علاقائی و بین الاقوامی کردار کا اعتراف کرتے ہوئے علاقائی تنازعات کے حل، دہشت گردی خاص طور سے داعش اور اس جیسے گروہوں کے خلاف مہم میں ایران کی شمولیت اور مختلف سیاسی، اقتصادی، تعلیمی، تحقیقاتی اور ماحولیاتی شعبوں میں تعلقات کے فروغ کی ضرورت پر تاکید کی گئی ہے۔ ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان بہرام قاسمی نے ایران کے ساتھ یورپی یونین کے تعلقات معمول پر لائے جانے کے بارے میں قرارداد کی منظوری کو ایران کے ساتھ دو طرفہ اور تمام شعبوں میں تعلقات اور تعاون کو فروغ دینے کے لئے یورپ کے اس ادارے کے مثبت عزم و ارادے کا مظہر قرار دیا۔ ایران کے دفتر خارجہ کے ترجمان نے اسی طرح انسانی حقوق کے بارے میں کسی بھی قسم کاسیاسی رویہ اختیار کئے جانے سے گریز کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران، پرامن ماحول میں گفتگو اور مذاکرات کے ذریعے انسانی حقوق کے بارے میں دین اسلام کے نظریات پر تبادلۂ خیال کرنے اور دوسروں کے ساتھ مفاہمت اور فریقین کے نظریات کو ایک دوسرے سے قریب کرنے سے متعلق کوششیں بروئے کار لانے کے لئے آمادہ ہے۔ مبصرین کا خیال ہے کہ یورپی پارلیمان میں ایران کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کے لئے قرارداد کی منظوری اس لحاظ سے خاص اہمیت کی حامل ہے کہ ایران اور یورپی ممالک، تعلقات میں سرد مہری کا دور گذانے کے بعد ان تعلقات کو فروغ دینے کی راہ میں قدم آگے بڑھا رہے ہیں۔ البتہ اس سلسلے میں اقتصادی شعبے کو خاص اہمیت حاصل رہی ہے۔ انّیس سو نوّے کے عشرے کے اوائل میں ایران اور یوپی ملکوں کے تعلقات نشیب و فراز سے دوچار رہے یہاں کہ نوبت ایٹمی معاہدے پر پہنچی اور یہ معاہدہ، تعلقات کے نئے باب میں سنگ میل ثابت ہوا۔ اگرچہ مغربی ملکوں نے ایران کے ایٹمی پروگرام کے بارے میں احتیاط سے کام لیا اور انھوں نے امریکہ کے اس موقف میں اس کا کوئی خاص ساتھ نہیں دیا کہ ایران کا ایٹمی پروگرام، فوجی مقاصد کے لئے ہے تاہم انھوں نے ایران کے خلاف پابندیوں منجملہ تیل کے بائیکاٹ سے متعلق قراردادوں کی منظوری میں امریکہ کا ساتھ دیا، اس کے باوجود یہ ممالک، دنیا میں کثیر جہتی فوجی توازن اور پہلو کے خواہاں ہیں۔ اس نقطہ نظر سے مغرب کے لئے توانائی کی فراہمی اور منتقلی میں ایران کے ممتاز کردار و پوزیشن اور اسی طرح خلیج فارس کی سلامتی کے تحفظ نیز علاقے میں امن و استحکام کی برقراری میں ایران کا کردار، ایسے عوامل ہیں کہ جن کی وجہ سے یورپی یونین کی نظر میں ایران کا مقام مزید بلند ہوا ہے۔ ان خصوصیات نے ایٹمی معاہدے کے بعد اور خارجہ پالیسی میں مذاکرات کا ماحول سازگار ہونے کی بناء پر ایران کے سلسلے میں مغرب کے اذہان میں نئے مواقع فراہم کئے ہیں۔ اس بات کے پیش نظر کہ بین الاقوامی سیاست کے میدان میں کافی تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں ایران کے بارے میں یورپی یونین کے نظریات میں بھی کچھ مثبت تبدیلیاں آئی ہیں۔ جواب میں ایران بھی، عالمی معیشت و تجارت میں یورپی یونین کے ساتھ تعاون کے مواقع سے استفادہ کرتے ہوئے دہشت گردی اور انتہا پسندی جیسے مشترکہ خطرات کے مقابلے اور منشیات کے خلاف مہم میں تعاون کی راہ اختیار کرتے ہوئے اور اسی طرح بیرونی سرمایہ کاری کے حصول اور مختلف حلقوں میں جدید ٹیکنالوجی کی منتقلی کے تناظر میں یورپی یونین کے ساتھ اپنے تعلقات کو فروغ دینے کا عزم رکھتا ہے۔ یہ تعاون اور بھی پہلوؤں سے خاصی اہمیت کا حامل ہے اس لئے کہ امریکہ، ایٹمی معاہدے کے بعد بھی ایران کے خلاف لگی ہوئی پابندیوں کو باقی رکھے جانے کی راہ پر چلنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اس رو سے امریکہ، انسانی حقوق کے مسئلے میں جھوٹے دعوے اور ایران کی میزائل توانائی کو خطرہ ظاہر کر کے یورپی ملکوں کو اپنا ہمنوا بنانے کی کوشش کر رہا ہے جبکہ گذشتہ ایک عشرے کے دوران یورپی یونین کی جانب سے امریکہ کی ہمراہی کئے جانے سے صرف ایران کے ساتھ اس کے تعاون کے مواقع ہی ضائع ہوئے ہیں جس کے نتیجے میں خود یورپی ملکوں کو خاصا نقصان پہنچا ہے۔