مقبوضہ فلسطین میں صیہونیوں کے ساتھ امتیازی سلوک
https://urdu.sahartv.ir/news/annalys-i255169-مقبوضہ_فلسطین_میں_صیہونیوں_کے_ساتھ_امتیازی_سلوک
غاصب صیہونی حکومت، جو قتل و تشدد اور جارحیت کی بنیاد پر قائم ہوئی ہے، مظلوم فلسطینیوں کے علاوہ خود بیرونی صیہونیوں کے ساتھ بھی امتیازی سلوک برت رہی ہے جس سے مقبوضہ فلسطین میں آباد صیہونی شہریوں میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔
(last modified 2025-02-27T04:56:45+00:00 )
Oct ۲۶, ۲۰۱۶ ۱۳:۴۲ Asia/Tehran
  • مقبوضہ فلسطین میں صیہونیوں کے ساتھ امتیازی سلوک

غاصب صیہونی حکومت، جو قتل و تشدد اور جارحیت کی بنیاد پر قائم ہوئی ہے، مظلوم فلسطینیوں کے علاوہ خود بیرونی صیہونیوں کے ساتھ بھی امتیازی سلوک برت رہی ہے جس سے مقبوضہ فلسطین میں آباد صیہونی شہریوں میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔

رپورٹوں کے مطابق صیہونی حکومت، جو فلسطینیوں کے ساتھ امتیازی سلوک برتتی رہی ہے اور انھیں ان کے وطن سے بےگھر کر کے صیہونی بستیاں تعمیر اور یہوی آباد کاری کا عمل جاری رکھے ہوئے ہے اور اس نے غزہ میں فلسطینیوں کا سخت محاصرہ کر رکھا ہے، اپنے نسل پرستانہ مقاصد کو آگے بڑھانے کے لئے خود اپنے شہریوں کے ساتھ بھی امتیازی سلوک اور تفریق آمیز رویہ اختیار کئے ہوئے ہے۔ اس سلسلے میں صیہونی حکومت کی پارلیمنٹ کے انفارمیشن سینٹر نے منگل کے روز ایک رپورٹ میں اعلان کیا ہے کہ اسرائیل میں یونیورسٹیوں اور تعلیمی مراکز میں ثروتمند افراد کے بچوں کے ایڈمیشن اور داخلے اور تعلیم حاصل کرنے کا چانس غریبوں کے مقابلے میں چار گنا زیادہ ہوتا ہے۔ اس تحقیق سے اس بات کی نشاندہی ہوتی ہے کہ اسرائیل میں زیادہ آمدنی والے اکیاسی فیصد روزگار، ثروتمند گھرانوں کے طلبا کے اختیار میں ہیں اور غریب اور غریب  گھرانوں کے طلبا کو کم آمدنی والے روزگار ہی مل پاتے ہیں۔ صیہونی اداروں اور صیہونی حکومت وزارت محنت کی رپورٹ کے مطابق صیہونی حکومت کے سرکاری اداروں یہاں تک کہ فوج میں پائے جانے والے امتیازی سلوک سے تمام اسرائیلیوں میں برہمی پائی جاتی ہے اور یہ سلسلہ یونہی جاری رہنے سے صیہونی حکومت کے لئے شدید خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مقبوضہ فلسطین میں آباد ایتھیوپیا کے صیہونی شہریوں نے صیہونی حکومت کی پارلیمنٹ کے سامنے بارہا اجتماع کرکے تفریق آمیز تمام قوانین ختم اور سماج میں مساوات و برابری کا اصول اپنائے جانے کا مطالبہ کیا ہے۔ یہودی شہریوں کے خلاف صیہونی حکومت کے نسل پرستانہ اقدامات میں اسکول و تعلیمی مراکز میں سیاہ فام یہودی شہریوں کے بچوں کے داخلے سے گریز اور ان کے آنے جانے کے راستے الگ بنائے جانے جیسے اقدامات شامل ہیں۔ فوج میں بھی تمام اہم عہدے مقبوضہ فلسطین میں پیدا ہونے والے گھرانوں کے افراد اور یورپیوں کو دیئے جاتے ہیں جبکہ افریقی اور غریب یہودیوں کو چھوٹے چھوٹے اور معمولی عہدے دیئے جاتے ہیں۔ صیہونی حکومت کے یہ تمام اقدامات، جنوبی افریقہ میں اپارتھائیڈ دور حکومت میں نسل پرستانہ اقدامات اور  امریکہ میں سیاہ فام شہریوں کے ساتھ سفید فام شہریوں کے امتیازی سلوک کی یاد دہانی کراتے ہیں۔

در حقیقت اسرائیل کا سماج و معاشرہ ہمیشہ ثروتمند افراد اور طبقات پر مشتمل رہا ہے جن میں مغربی شہری زیادہ شامل رہتے ہیں اور سیاہ فام شہریوں کو جو زیادہ تر افریقہ سے متعلق ہوتے ہیں سماج کے نچلے طبقے کا حصہ سمجھا جاتا ہے جو اسرائیل کی صیہونی حکومت کے نسل پرست ہونے کا ایک ثبوت ہے۔ اس طرح اس بات کی نشاندہی ہوتی ہے کہ صیہونی حکومت، مظلوم فلسطینیوں کے علاوہ خود صیہونیوں کے ساتھ بھی امتیازی سلوک برت رہی ہے جس سے مقبوضہ فلسطین میں آباد صیہونیوں میں غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ چنانچہ اس صورت حال سے اس بات کا پتہ چلتا ہے کہ صیہونی معاشرہ ایک طرح سے سماجی بے انصافی کی بنیاد پر چل رہا ہے۔