فنلینڈ کے صدر نے رہبر انقلاب اسلامی سے ملاقات کی
https://urdu.sahartv.ir/news/annalys-i255280-فنلینڈ_کے_صدر_نے_رہبر_انقلاب_اسلامی_سے_ملاقات_کی
رہبرانقلاب اسلامی نے فنلینڈ کے صدر سائولی نین سیٹیو اور ان کے ہمراہ وفد سے ملاقات میں دہشتگردی کو انسانی معاشرے کے درد ناک مصائب میں سے ایک قراردیا۔
(last modified 2025-02-27T04:56:45+00:00 )
Oct ۲۷, ۲۰۱۶ ۱۱:۵۰ Asia/Tehran
  • فنلینڈ کے صدر نے رہبر انقلاب اسلامی سے ملاقات کی

رہبرانقلاب اسلامی نے فنلینڈ کے صدر سائولی نین سیٹیو اور ان کے ہمراہ وفد سے ملاقات میں دہشتگردی کو انسانی معاشرے کے درد ناک مصائب میں سے ایک قراردیا۔

 

رہبرانقلاب اسلامی نے فنلینڈ کے صدر سائولی نین سیٹیو اور ان کے ہمراہ وفد سے ملاقات میں دہشتگردی کو انسانی معاشرے کے درد ناک مصائب میں سے ایک قراردیا۔ آپ نے فرمایا کہ دہشتگردی کا مقابلہ کرنے کے لئے ان تمام لوگوں کے پختہ عزم کی ضرورت ہے جو بڑی طاقتوں میں اثر و رسوخ رکھتے ہیں، آپ نے فرمایا کہ عقلائے عالم اور حکومتوں اور دنیا کے باشرف اصحاب اقتدار کو اس لعنت سے چھٹکارا  پانے کے لئے سوچنا اور اقدام کرنا چاہیے۔

رہبرانقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای  نےاس ملاقات میں جو بدھ کی شام انجام پائی اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے موقف کو ھدف تنقید بنایا اور کہا کہ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نےصراحتا اعلان کیا ہے کہ اقوام متحدہ چونکہ سعودی عرب کے پیسے کا محتاج ہے لہذا سعودی حکومت کے ہاتھوں یمنی بچوں کے وحشیانہ قتل عام کی مذمت کرنے کا امکان نہیں ہے۔ اقوام متحدہ کے اس موقف سے عالمی سیاسی شخصیتوں کی افسوسناک اخلاقی صورتحال کا پتہ چلتا ہے اور ہم امید رکھتے ہیں کہ اقوام متحدہ کے آئندہ سیکریٹری جنرل اس عھدے کی خودمختاری کا تحفظ کریں گے۔

رہبرانقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے فرمایا کہ انتہا پسند اور دہشتگرد گروہوں کے معرض وجود میں آنے کے اسباب و عوامل کا پتہ لگانا ضروری ہے اور یہ رجحان اسلامی جمہوریہ ایران کی نظر میں علاقے اور دنیا میں امن و استحکام کی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔ اسی نکتے کے پیش نظر رہبر انقلاب اسلامی نے دہشتگردی اور انتہا پسندی کے اسباب و علل کا پتہ لگانے کی ضرورت پر تا کید کرتے ہوئے فرمایا کہ اس چیلنج کا مقابلہ صرف اسی وقت کیا جاسکتا ہے جب اسکے اسباب و علل کو سمجھ لیا گیا ہو۔آپ نے دہشتگردی اور انتہا پسندی کے معرض وجود میں آنے کے اسباب و علل کا ذکر کرتے ہوئے کہا امریکہ اور بعض حکومتیں تمام مسائل کو اپنے مفادات کے دا‏ئرے میں دیکھتی ہیں اور دہشتگردی کی بیماری کو خواہ شام میں ہو یا عراق میں جڑسے اکھاڑ پھینکنے کی فکر میں نہیں ہیں۔   

یہ ایک بھیانک چیلنج ہے جو گذشتہ چند برسوں میں دہشتگردی میں پھیلاو اور داعش جیسے گروہوں کی سرگرمیوں کے شروع ہونے کا سبب بنا ہے۔ داعش گروہ کی پھیلائی ہوئی دہشتگردی اب یورپ تک بھی پھیل گئی ہے جبکہ امریکی حکومت اور یورپ کی بعض حکومتیں اس لعنت کے معرض وجود میں آنے کی بنیادی وجہ ہیں۔ رہبرانقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے بوسینا ہرزہ گوئینا کی صدارتی کونسل کے سربراہ باقر عزت بگوویچ سے ملاقات میں فرمایا کہ اگر چہ ممکن ہے کہ دہشتگردی کے خلاف قائم اتحاد بعض اوقات دہشتگردوں کے خلاف جنگ کریں لیکن وہ  نہ عراق میں اور نہ ہی شام میں دہشتگردی کی بیخ کرنے کی فکر میں  ہیں بلکہ اپنے بری اور شر پسند پالیسیوں سے روز بروز انسانیت کے لئے مشکلات کھڑی کررہے ہیں۔ ان دونوں رہنماوں سے ملاقات میں رہبرانقلاب اسلامی کے بیانات دراصل ان  اہم نکات کی یاددہانی  ہیں کہ جو آپ نے اس سے پہلے اور فرانس میں دوہزار چودہ میں دہشتگردانہ واقعات کے بعد یورپی نوجوانوں کے نام اپنے دو خطوط میں بیان فرمائے تھے۔ان دونوں خطوں میں آپ نے لکھا تھا کہ دینی و اخلاقی انحرافات سے مغربی معاشروں میں دہشتگرد گروہ اور انتہا پسندی وجود میں آتی ہے۔

علاقے کے موجودہ حالات اور اس پر عالمی برادری کی بڑھتی ہوئی تشویش ان فریبکارانہ پالیسیوں کا نتیجہ ہے جس میں آج امریکی حکام گرفتار ہیں اور ان کے صدارتی مناظروں میں بھی یہ باعث شرم مناظر دیکھنے کو مل رہے ہیں کہ ہر نامزد دوسرے کو قصوروار ظاہر کرنے کی کوشش کررہا ہے۔اسی وجہ سے ان چیلنجوں کو جامع نگاہ سے دیکھتے ہوئے بڑی طاقتوں کی توسیع پسندانہ پالیسیوں کو انسانی مشکلات و مصائـب کا سبب قراردینا چاہیے۔اس بات میں کوئی شک نہیں ہے کہ جب تک امریکہ اور مداخلت پسند طاقتوں کی توسیع پسندی جاری رہے گی دہشتگردی اور انتہا پسندی بھی قوموں پر مسلط رہے گی اور اس کے مقابلے کا واحد راستہ ان کے مقابل ڈٹ جانا ہی ہے۔