موگرینی تھران میں ، علاقائی مسائل کے بارے میں صلاح و مشورہ
https://urdu.sahartv.ir/news/annalys-i255478-موگرینی_تھران_میں_علاقائی_مسائل_کے_بارے_میں_صلاح_و_مشورہ
یورپی یونین کے خارجہ پالیسی کمیشن کی سربراہ فیڈریکا موگرینی نے سنیچر کو تہران میں ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف سے ملاقات اور باہمی ، علاقائی اور بین الاقوامی مسائل کے بارے میں گفتگو کی -
(last modified 2025-02-27T04:56:45+00:00 )
Oct ۲۹, ۲۰۱۶ ۱۰:۰۹ Asia/Tehran
  • موگرینی تھران میں ، علاقائی مسائل کے بارے میں صلاح و مشورہ

یورپی یونین کے خارجہ پالیسی کمیشن کی سربراہ فیڈریکا موگرینی نے سنیچر کو تہران میں ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف سے ملاقات اور باہمی ، علاقائی اور بین الاقوامی مسائل کے بارے میں گفتگو کی -

علاقے اور شام کے تازہ ترین حالات کا جائزہ تہران میں موگرینی کے مذاکرات کے موضوعات میں شامل ہے- علاقائی تنازعات کے حل کے سلسلے میں ایران کی علاقائی سفارتکاری کی صلاحیتوں سے استفادہ ، یورپی ممالک اور ایران کے درمیان سیاسی گفتگو اور مذاکرات کا اہم موضوع ہے- تہران میں ایران اور یورپی یونین کے خارجہ پالیسی کمیشن کی سربراہ کے درمیان مذاکرات ، اس لحاظ سے اہم شمار ہوتے ہیں-  ایران نے مشترکہ جامع ایکشن پلان پر عمل درآمد شروع ہونے کے بعد یورپی ممالک کے ساتھ سب سے اہم بحث شروع کی ہے- یہ مذاکرات ، چند مہینے پہلے یورپی یونین کے خارجہ پالیسی کمیشن کی سربراہ کے  دورہ ایران کے بعد سے نئے دور میں داخل ہوگئے- ایٹمی سمجھوتے کے بعد ایران کے سلسلے میں یورپی یونین کی نئی قرارداد  نے، کہ جو گذشتہ ہفتے منظور ہوئی ، ان مذاکرات میں تیزی پیدا کردی  ہے- مذکورہ قرارداد میں علاقے میں امن و استحکام پیدا کرنے میں ایران کے موثر علاقائی اور عالمی کردار ، علاقائی تنازعات کے حل میں ایران کو شامل کرنے کی ضرورت کے اعتراف ، دہشت گردی خاص طور پر داعش اور اس جیسے دوسرے گروہوں کے ساتھ  جنگ اور سیاسی ، اقتصادی ، انرجی ، سائنسی ، تعلیمی ، تحقیقاتی اور ماحولیات جیسے تمام میدانوں میں تعلقات میں فروغ پر تاکید کی ‏گئی ہے- ماہرین کی نگاہ میں اس سطح کے مذاکرات خاص طور سے علاقے کے سیاسی مسائل کے سلسلے میں یورپی یونین کے موقف کے پیش نظر ، سیاسی یکجہتی میں استحکام اور علاقے میں امن و ثبات پیدا ہونے میں معاون ثابت ہو سکتی ہے- ایران اور یورپی ممالک کے نظریات تمام میدانوں میں یکساں نہیں ہیں تاہم  علاقے کے بڑے مسائل کے بارے میں طرفین کے موقف میں مشترکہ نکات موجود ہیں- یہ اشتراکات ، مشترکہ خطرات اور مسائل کا راہ حل تلاش کرنے کے لئے تعمیری مذاکرات شروع ہونے پر منتج ہو سکتے ہیں- رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے تہران میں اٹلی کے وزیراعظم ماتھئو رنتیزی سے ملاقات میں خاص طور سے دہشت گردی کے خلاف جنگ کے سلسلے میں امریکہ اور بعض یورپی ممالک کے دہرے رویے پر تنقید کی اور کہا کہ یہی ممالک دہشت گردی کے خلاف  اتحاد کے زیرعنوان دہشت گردی کے خلاف حقیقی جنگ کے بجائے اسلاموفوبیا پھیلانے کی کوشش کررہے ہیں- 

واضح سی بات ہے کہ یہ حقائق ایران کی نظر سے ہرگز پوشیدہ نہیں ہیں اور یہی یورپی ممالک کے ساتھ تعلقات کی سطح اور نوعیت کا ایک معیار شمار ہوتے ہیں- یہ مذاکرات ایسے عالم میں ہوئے ہیں کہ ایران ، روس ، اور شام کے وزرائے خارجہ نے شام میں دہشت گردی کے خلاف جنگ کو نتیجہ خیز بنانے اور اس تنازعے کے سیاسی حل کے لئے اپنی کوششیں جاری رکھنے کے لئے جمعے کو شام میں ایک مشترکہ اجلاس منعقد کیا - ایران کے وزیر خارجہ جواد ظریف نے ماسکو میں ایک پریس کانفرنس میں اس بات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے، کہ دہشت گردی کا خطرہ صرف شام  اور علاقے کے لئے نہیں ہے بلکہ پوری دنیا کے لئے ہے، کہا کہ روس ، شام اور ایران  دہشت گردی کے خلاف جنگ اور انسانی حقوق کے اصولوں کے تحفظ کے لئے اپنی کوششیں تیز کریں گے- بحران شام میں شدت آنے کے متعدد عوامل کارفرما رہے ہیں اور شام کے مسائل کے سلسلے میں بین الاقوامی سطح پر بہت سے اختلافات موجود ہیں اور ابھی بحران شام کے حل کے بارے میں مفاہمت اور گفتگو پر مبنی جامع اور حتمی راہ حل نظر نہیں آرہی ہے-

اگرچہ ابھی تک خاص طور سے شام میں دہشت گرد گروہوں پر کاری ضربیں لگائی گئی ہیں لیکن صرف اتنا ہی کافی نہیں ہے کیونکہ بحران شام کے حل کے لئے دہشت گرد گروہوں کی مالی اور اسلحہ جاتی مدد روکنے اور ملت شام کے مطالبات اور فیصلوں پر توجہ دینا ضروری ہے- ماہرین کا خیال ہے کہ حب تک شامی گروہوں کے درمیان مذاکرت انجام نہیں پائیں گے اس وقت تک شام میں فوجی اور سیاسی صورت حال پیچیدہ تر ہوتی جائے گی -

بعض دہشت گرد گروہوں اور ان کے علاقائی اور بین الاقوامی حامیوں کی کوششوں کے برخلاف بحران شام کا کوئی فوجی راہ حل نہیں ہے- لیکن اس کے ساتھ ہی اس بات کی اجازت نہیں دینا چاہئے کہ دہشت گرد گروہ  جنگ بندی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے شام کے عوام کے خلاف دہشت گردانہ اقدامات کو تیز کریں- اس بنا پر تہران میں موگرینی کے مذاکرات  شام پر مسلط حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے سیاسی بحران کے حل میں مدد کے رویے پر مبنی ہیں-