افغانستان میں قومی اتحاد و یکجہتی پر تاکید
افغانستان کے فوجی اور سیاسی حلقے اور بیرونی شخصیتیں یہ کھ رہی ہیں کہ افغانستان کی قومی اتحاد کی حکومت اور یہ ملک بحرانی حالات سے دوچار ہیں۔
افغانستان کے فوجی اور سیاسی حلقے اور بیرونی شخصیتیں یہ کہہ رہی ہیں کہ افغانستان کی قومی اتحاد کی حکومت اور یہ ملک بحرانی حالات سے دوچار ہیں۔ افغانستان کے چیف ایگزیکیٹیو نے کہا ہے کہ تمام اقوام و مذاہب کے درمیان اتحاد ہی بحرانی حالات سے نکلنے کا واحد راستہ ہے۔عبداللہ عبداللہ نے سابق مجاہد لیڈر قربان علی عرفانی کی پہلی برسی کے موقع پرکہا کہ قوم پرستی افغانستان میں قومی اتحاد اور یکجہتی کی راہ میں سب سے بڑی مشکل ہے۔انہوں نے کہاکہ ان حالات سے نکلنے کے لئے تمام گروہوں اور اقوام کو متحدہ ہونا ہوگا۔
افغان صدر کے نائب سرور دانش نے بھی اس موقع پر قوم پرستی کو حکومت اور قوم سازی کے عمل کے لئے نہایت نقصان دہ قراردیا۔ انہوں نے کہا کہ ان مسائل کو ہوا دینے سے افغانستان میں جنگ سے بڑی اور خطرناک مشکل کھڑی ہوجائے گی۔
افغانستان حکومت کے اعلی حکام کی جانب سے قومی اتحاد پر تاکیداس کےبعد سامنے آرہی ہے کہ حال ہی میں نائب صدر جنرل عبدالرشید دوستم نے حکومت کے عھدیداروں پر قوم پرستی اور اختلافات کو ہوا دینے کا الزام لگایا۔ ان کے اس بیان کو ہرچند حکومت نے مسترد کیا لیکن عبداللہ عبداللہ اور حکومت کے دیگر سینئر حکام کی نگاہ میں افغانستان سیاسی اور سکیورٹی لحاظ سے ایسے مرحلے سے گذر رہا ہے کہ جس سے نکلنے کے لئے تمام اقوام اور مذاہب کو متحد ہونا پڑے گا اور قومی تعصبات سے ماورا ہوکر نیز قومی اتحاد کو مضبوط بنا کر اس کا مقابلہ کرنا ہوگا۔
سکوریٹی میدان میں داعش دہشتگرد گروہ کا معرض وجود میں آنا اور افغانستان کے مختلف علاقوں بالخصوص صوبہ ننگرہار اور طالبان کے حملوں کا جاری رہنا اور ان حملوں میں اسکولوں، طبی مراکز نیز مسجدوں کا مسمار کیا جانا ایسے مسائل ہیں جن سے افغانستان میں بدامنی پھیلی ہوئی ہے۔ان حالات میں قومی اتحادی حکومت کے حکام کے درمیان اختلافات کا جاری رہنا دہشتگردوں اور انتہا پسند اور تشدد پسند گروہوں کے مقابل فوج اور سکیورٹی فورسز کی کامیابیوں پر منفی اثرات چھوڑے گا ۔ سماجی سطح پر بھی قوم پرستی سے صرف ایک خاص قوم کے مفادات کے حصول کی بنا پر افغانستان میں متحدہ قومیت کی راہ میں روکاوٹیں پیدا ہوئی ہیں اور اس ملک میں تضادات کا باعث بنی ہے۔افغانستان کے عوام کو توقع ہے کہ ان کے حکام اور پارٹیوں کے سربراہ اور سیاسی گروہ نیز قومی اور مذہبی حلقے مشترکہ دشمن کا مقابلہ کرنے کےلئے متحدہوجائیں گے اور ملی و قومی مفادات کو پارٹی کے مفادات پر ترجیح دیں گے۔ افغانستان قومی اتحاد کی حکومت کی تشکیل جس میں تمام گروہ، اقوام اور پارٹیاں شامل ہوں ایک بے مثال موقع ہوگا اور یہ تاریخی موقع اب افغانستان کو مل رہا ہے تا کہ افغانستان کے باشندے بھرپور مشارکت اور قومی اتحاد کو مضبوط بنا کر اپنے ملک کو آباد اور آزاد کرنے کی کوشش کریں ۔ خارجہ تعلقات کے لحاظ سے بھی افغانستان چونکہ بیرونی امداد پر منحصر ہے لہذا اگر افغان قوم متحد ہوجائے تو بیرونی مدد حاصل کرنے میں اس کا اتحاد اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔ڈونر ممالک جو ہر بہانے سے افغانستان کو دی جانے والی امداد میں کمی کرنے کے درپے رہتے ہیں یا مدد نہ دینے کی کوشش میں رہتے ہیں یہ لوگ افغانستان کے حالات کو بحرانی قرار دے کر نیز امن قائم کرنےمیں افغانستان کی فوج اور قومی پولیس کو ناتوان ظاہر کرکے نیز قومی اتحاد کی حکومت کو امن و امان قائم کرنے اور بدعنوانیوں اور کرپشن سے مقابلہ کرنے میں ناکام قرار دینا چاہتے ہیں۔اسی بنا پر سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ افغانستان میں اگر قومی اتحاد کو مضبوط بنایا جاتا ہے اور قومی مفادات کو ترجیح دی جاتی ہے تو نیٹو کے کمانڈر ان چیف سمیت دیگر بیرونی حلقوں کو افغانستان کی صورتحال کے بارے میں اظہار نظر کرنے کا موقع نہیں ملے گا۔
افغانستان میں مشترکہ دشمن کا مقابلہ کرنے کےلئے قومی یکجہتی اور اقوام کے اتحاد نیز سیاسی اور مذہبی گروہوں کی یکجہتی سے پتہ چلتا ہے کہ افغان رہنماوں نے ہمیشہ اس سلسلے میں دانشمندی کا ثبوت دیا ہے اوروہ اب بھی اپنے ملک کی متعدد مشکلات منجملہ دہشتگردی اور کرپشن سے مقابلہ کرنے کے لئے قومی اتحاد اور یکجہتی پر تاکید کریں گے۔