فلسطییوں نے مظاہرے کرکے صیہونی جرائم کی مذمت کی
https://urdu.sahartv.ir/news/annalys-i255778-فلسطییوں_نے_مظاہرے_کرکے_صیہونی_جرائم_کی_مذمت_کی
آج فلسطینوں نے بڑے مظاہرے کرکے انیس سو اڑتالیس کی مقبوضہ سرزمین مین واقع کفر قاسم گاؤں میں صیہونیون کے ہاتھوں نہتے عوام کے قتل عام کی برسی منائی
(last modified 2025-02-27T04:56:45+00:00 )
Oct ۳۰, ۲۰۱۶ ۱۴:۴۹ Asia/Tehran
  • فلسطییوں نے مظاہرے کرکے صیہونی جرائم کی مذمت کی

آج فلسطینوں نے بڑے مظاہرے کرکے انیس سو اڑتالیس کی مقبوضہ سرزمین مین واقع کفر قاسم گاؤں میں صیہونیون کے ہاتھوں نہتے عوام کے قتل عام کی برسی منائی

 

آج فلسطینوں نے عظیم مظاہرے کرکے انیس سو اڑتالیس کی مقبوضہ سرزمین مین واقع کفر قاسم گاؤں میں صیہونیون کے ہاتھوں نہتے عوام کے قتل عام کی برسی منائی۔ مظاہرے میں شریک افراد نے صیہونی حکومت کے جرائم بالخصوص کفر قاسم قتل عام کی مذمت کی ۔انتیس اکتوبر انیس سو چھپن  ہفتے کے دن پانچ بچے شام  صیہونی حکومت کی جارح فوج نے پہلے سے وارننگ دئے بغیر کفر قاسم گاوں میں چیک پوست لگادئے اور رکاوٹیں کھڑی کردیں اس کے بعد صیہونی فوجی کمان نے اپنے فوجیوں کو حکم دیا کہ جوفلسطینی بھی پانچ بجے کے بعد اپنے اپنے گھروں کو واپس لوٹ رہا ہے ہو اسے گولی ماردی جائے اور قتل عام کردیا جائے۔ دیر یاسین کے قتل عام کے بعد کفر قاسم کا قتل صیہونیوں کی دوسری مجرمانہ اور انسانیت سوز کاروائی تھی جس میں صیہونیوں نے انچاس فلسطینیوں کا قتل عام کیا۔ کفر قاسم کے اس قتل عام کے شہدا میں فلسطینی خواتین اور بچے بھی شامل تھے۔ واضح رہے نو اپریل انیس سو اڑتالیس کو ارض فلسطین پر صیہونی حکومت کے غاصبانہ قبضے کے اعلان سے ایک ماہ قبل صیہونیوں نے بیت المقدس کے مغرب میں واقع دیر یاسین گاوں پرحملہ کرکے سیکڑوں افراد کا قتل عام کیا تھا۔ دیر یاسین پر ایرگون نامی دہشتگرد گروہ نے حملہ کیا تھا اور اس گاوں کا محاصرہ کرکے دوسو پینتالیس فلسطینیوں کو جن میں زیادہ تر تعداد عورتوں اور بچوں کی تھی شہید کرڈالا۔ ان ہولناک واقعات سے پتہ چلتا ہے کہ صیہونی حکومت جس کی بنیاد دہشتگردی اور جارحیت پر رکھی گئی ہے اور جس کا کام قتل و غارت اور انسانی حقوق کی پامالی کرنا ہے اور جنگی جرائم ڈھانا ہے وہ ان ہی غیر قانونی اقدامات سے اپنی حیات جاری رکھے ہوئے ہے۔ صیہونی حکومت برطانیہ اور امریکہ کی سرپرستی اور مکمل حمایت میں نیز ایرگون، ھاگانا اور اشترن جیسے دہشتگرد تنظیموں کے سہارے وجود میں آئی ہے۔ ان دہشتگرد تنظیموں نے ہمیشہ فلسطینیوں کا قتل عام کیا ہے۔ اور بازاروں، دکانوں، بسوں میں فلسطینیوں کی ٹارگٹ کلنگ کی ہے تا کہ رعب و وحشت کی فضا قائم کرکے فلسطینیوں کو اپنے گھر بار چھوڑ کر کوچ کرنے پر مجبور کرسکے۔اسی دائرہ کار میں جب سے صیہونی حکومت نے اپنے وجود کا اعلان کیا ہے دنیا اس غاصب حکومت کی بے شمار مجرمانہ کاروائیوں کا مشاہدہ کرچکی ہے۔کفر قاسم، دیر یاسین میں فلسطینیوں کا قتل عام اور دوہزار نو میں بائیس روزہ جنگ، دوہزار بارہ میں آٹھ روزہ جنگ اور دوہزار چودہ میں پچاس روزہ جنگ صیہونی حکومت کے انسانیت سوز اقدامات کے کچھ ہی نمونے ہیں جن سے دنیا واقف ہے۔ صیہونی جرائم اس قدر زیادہ ہیں کہ اس حکموت نے اپنے جرائم کے آثار مٹانے کےلئے ایک عرصے تک ان مقامات پر صحافیوں اور بین الاقوامی مبصرین کے آنے پر پابندی لگادی تھی جہاں اس نے یہ جرائم ڈھائے تھے، البتہ صیہونی حکومت ان اقدامات کے باوجود اس کے مجرمانہ اقدامات کے آثار اس قدر زیادہ اور ہولناک ہیں کہ ان سے عالمی رائے عامہ کا دل خون ہے۔ عالمی رائے عامہ کے دباؤ کی وجہ سے عالمی اداروں منجملہ اقوام متحدہ نے کوشش کی ہے کہ تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دے کر صیہونی حکومت کے مجرمانہ اقدامات سے پردہ اٹھائیں اور اھل عالم کو قدس کی غاصب حکومت کے جرائم سے آگاہ کریں لیکن صیہونی حکومت کی خلاف ورزیاں اور امریکہ کی طرف سے اسکی ہمہ گیر حمایت کی بنا پر یہ ارادے عملی شکل اختیار نہیں کرسکے یہانتک کہ امریکہ کی حمایتوں کی وجہ سے تحقیقاتی ٹیم بھی مقبوضہ فلسطین نہیں بھیجی جاسکی۔ واضح رہے کہ صیہونی حکومت کے ہاتھوں قتل عام اور صیہونی جرائم کے دنوں کی مناسبت سے فلسطینی عوام کے مظاہرے کرکے یہ ظاہر کرتے ہیں کہ فلسطینی قوم نے صیہونی جرائم کو بھلا یا نہیں ہے اور وہ اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھے گی جب تک صیہونی مجرمین کو کیفر کردار تک پہنچانے کے لئے عدالت کے کٹہرے میں  نہ کھڑی کردے۔