افغان عوام نے داعش کے جرائم کی مذمت کی
https://urdu.sahartv.ir/news/annalys-i255931-افغان_عوام_نے_داعش_کے_جرائم_کی_مذمت_کی
افغانستان میں داعش کی مجرمانہ کاروائیوں پر افغان عوام میں برہمی پائی جاتی ہے اور انہوں نے داعش کی مذمت میں وسیع پیمانے پر مظاہر ے کئے ہیں۔
(last modified 2025-02-27T04:56:45+00:00 )
Oct ۳۱, ۲۰۱۶ ۱۳:۴۹ Asia/Tehran
  • افغان عوام نے داعش کے جرائم کی مذمت کی

افغانستان میں داعش کی مجرمانہ کاروائیوں پر افغان عوام میں برہمی پائی جاتی ہے اور انہوں نے داعش کی مذمت میں وسیع پیمانے پر مظاہر ے کئے ہیں۔

 

اطلاعات کے مطابق صوبہ ہرات کے باشندوں نے بڑا احتجاجی مظاہرہ کر کے غور میں تکفیری دہشتگرد گروہ داعش کی انسانیت سوز کاروائیوں کی مذمت کی۔ مظاہرین نے غور میں داعش کے ہاتھوں دسیوں بے گناہ انسانوں کے قتل عام کی مذمت کرتے ہوئے ان حملوں میں ملوث افراد کو گرفتار کرکے کیفر کردار تک پہنچائے جانے کا مطالبہ کیا۔ مظاہرین نے حکومت افغانستان سے مطالبہ کیا کہ امن و امان قائم کرنے اور دہشت گردوں کے حملوں پر روک لگانے میں موثر اقدامات کرے۔ واضح رہے کہ تکفیری دہشت گرد گروہ نے گذشتہ بدھ کو صوبہ غور میں شہر فیروز کوہ کے قریب چھتیس عام شہریوں کا بڑے بھیانک طریقے سے قتل عام کیا تھا۔ تکفیری داعشیوں کے ان حملوں میں گیارہ افراد زخمی بھی ہوئے تھے۔ اطلاعات ہیں کہ حال ہی میں مشرقی افغانستان کے صوبے ننگر ہار میں دس عمائدین کو بھی قتل کر دیا گیا۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ افغانستان میں اعتقادی لحاظ سے ‎ عوام میں اثر و رسوخ پیدا کرنے میں اپنی ناکامی کی بنا پر یہ تکفیری دہشت گرد گروہ قتل عام کے ذریعے رعب و وحشت پھیلا کر عوام کو اپنا تابع بنانا چاہتا ہے۔ تکفیری دہشتگرد گروہ داعش نے شام و عراق میں وحشیانہ قتل عام اور انسانیت سوز کاروائیوں کے ذریعے بعض علاقوں پر اپنا قبضہ مضبوط بنایا ہے اور دیگر علاقوں میں اس طرح اپنی کامیابی کی ضمانت حاصل کرنا چاہی ہے۔ دوسرے الفاظ میں تکفیری دہشت گرد گروہ داعش، مختلف قوموں کے عمائدیں اور عام شہریوں کا قتل عام کر کے خوف و وحشت پھیلانا چاہتا ہے اور اس طرح عوام کو اپنے سامنے تسلیم ہونے پر مجبور کرنا چاہتا ہے اور انھیں اس بات کا موقع نہیں دینا چاہتا کہ وہ اس کے سامنے مزاحمت کر سکیں۔ ادھر بعض سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ داعش کے ساتھ افغان قوم کا برتاؤ الگ طرح کا ہے اور اسی وجہ سے اس تکفیری دہشت گرد گروہ کو افغانستان میں اپنی جڑیں مضبوط کرنے کی کوئی امید نہیں ہے۔ ہرچند افغانستان کئی دہائیوں سے خانہ جنگی میں مبتلا رہا ہے لیکن یہ جنگ کبھی بھی مذہبی نہیں رہی ہے بلکہ قومی تھی اس کے علاوہ افغانستان کے عوام نے ہمیشہ عملا یہ ثابت کر دیا ہے کہ وہ اجنبی آئیڈیالوجی کے خلاف ڈٹ جاتے ہیں اور اسے پنپنے نہیں دیتے اور اس بات کی ہرگز اجازت نہیں دیتے کہ بیرونی ممالک اور اقوام ان پر مسلط ہ وسکیں یا ان کے ملک میں مذہبی جنگ شروع کریں۔ طالبان ایک افغاں اور پشتون قوم سے تعلق رکھنے والا گروہ ہے، یہ گروہ عالم گیرخلافت اور افغانستان کے ساتھ ساتھ پوری دنیا میں خلافت پھیلانا چاہتا ہے۔ طالبان اسلامی امارت قائم کرنا چاہتا ہے لیکن داعش ایسا گروہ ہے جس میں دسیوں ملکوں کے شہری شامل ہیں  اور یہ ایک دہشت گرد گروہ ہے۔ اسی وجہ سے چین اور روس اس بات سے تشویش میں مبتلا ہیں کہ کہیں امریکہ افغانستان کے راستے تکفیری دہشت گردوں کو مرکزی ایشیا اور قفقاز نہ بھیج دے اور انہیں چین کی سرحدوں تک ٹرانزیٹ نہ کرے۔ غور کی انسانیت سوز کارروائی کے بعد ہرات کے عوام کے بڑے مظاہرے سے معلوم ہوتا ہے کہ  افغان عوام اپنے ملک میں داعش دہشتگرد گروہ کے پھیلنے کی بابت شدید تشویش میں مبتلا ہیں اور وہ اس گروہ کا مقابلہ ضرور کریں گے۔

سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ افغانستان میں داعش کے معرض وجود میں آنا امریکہ اور اس کے علاقائی اتحادیوں کی منظم سازش کا نتیجہ ہے تاکہ مستقبل میں اسے طالبان کا جانشین بنا کر بدامنی اور قتل و غارت جاری رکھی جاسکے اور یہ بدامنی سارے افغانستان میں پھیلا کر پورے علاقے میں پھیلا دی جائے مختلف ملکوں میں داعش کی سرگرمیاں دیکھتے ہوئے اس گمان کو تقویت ملتی ہے کہ اسے تاجیکستان میں فرغانہ بھیجا جائے گا تاکہ داعش اس علاقے کے کچھ حصوں پر قبضہ کر کے اپنی نام نہاد خلافت  کو خراسان تک پھیلا سکے۔

بہرحال افغانستان کی سیکورٹی کی صورت حال نہایت حساس اور بحرانی ہے اسی وجہ سے کابل کے حکام نے تمام سیاسی گروہوں اور اقوام کے اتحاد پر زور دیا ہے تاکہ بدامنی پھیلانے والے عناصر کا مقابلہ کیا جا سکے۔ افغان قوم نے تاریخی لحاظ سے یہ ثابت کر دیا ہے کہ اس نے ہمیشہ انتہا پسندوں اور جارحین کو شکست دی ہے۔ اسی لئے داعش افغان قوم کے منفی ردعمل سے گھبرائے ہوئے ہے لہذا وہ افغان عوام کو ڈرانے کے لئے رعب و وحشت پھیلانے کی شکست خوردہ پالیسی پر عمل پیرا ہے۔