امریکی منشاء کے برخلاف موصل میں آپریشن جاری ہے
https://urdu.sahartv.ir/news/annalys-i255937-امریکی_منشاء_کے_برخلاف_موصل_میں_آپریشن_جاری_ہے
عراق سے موصولہ اطلاعات کے مطابق موصل آپریشن جاری ہے۔ موصل آپریشن کا مقصد شہر موصل کو تکفیری دہشت گرد گروہ داعش کے قبضے سے آزاد کرانا ہے۔
(last modified 2025-02-27T04:56:45+00:00 )
Oct ۳۱, ۲۰۱۶ ۱۴:۰۲ Asia/Tehran
  • امریکی منشاء کے برخلاف موصل میں آپریشن جاری ہے

عراق سے موصولہ اطلاعات کے مطابق موصل آپریشن جاری ہے۔ موصل آپریشن کا مقصد شہر موصل کو تکفیری دہشت گرد گروہ داعش کے قبضے سے آزاد کرانا ہے۔

 رپورٹوں کے مطابق موصل کو آزاد کرانے کے لئے عراقی فورسز کی پیش قدمی بدستورجاری ہے۔

موصولہ اطلاعات کے مطابق عراقی فوج اور عوامی فورسز موصل کے جنوب میں علی رش کے علاقے کو دہشت گردوں سے آزاد کرانے میں کامیاب ہو گئی ہیں۔ عراقی فورسز کے حملوں میں تیزی آنے کے بعد کہا جا رہا ہے کہ تکفیری صیہونی دہشت گرد گروہ داعش، موصل کے جنوبی علاقوں سے پسپائی اختیار کرنے پر مجبور ہو گیا ہے۔ موصل کے جنوب مغربی علاقے میں بھی عراق کی رضا کار فورسز نے تل عفر کی جانب پیش قدمی کرتے ہوئے دہشت گردوں کے قبضے سے بیس دیہی علاقوں کو آزاد کرا لیا ہے۔ ادھر کرد پیشمرگہ فورسز نے اعلان کیا ہے کہ انھوں نے آپریشن شروع ہونے کے بعد سے چھبیس دیہی علاقوں کو داعش کے قبضے سے آزاد کرا لیا ہے۔

اتوار کو موصل کے شمال اور مشرق میں پیشمرگہ ملیشیا نے کئی دیہی علاقوں کو داعش کے عناصر سے پاک کر دیا تھا۔ عراق کی وزارت دفاع نے اعلان کیا ہے کہ موصل آپریشن کے آغاز سے اب تک تقریبا نو سو دس داعشی دہشت گرد ہلاک ہو چکے ہیں۔ اس بیان میں آیا ہے کہ ان میں سے چار سو اسّی افراد کا تعلق دیگر ملکوں سے ہے۔ موصل کو تکفیری دہشت گرد گروہ داعش سے آزاد کرانے کا آپریشن سترہ اکتوبر سے شروع ہوا تھا اور اب تک موصل کے شمال اور مغرب میں ایک ہزار چار سو کلومیٹر کا علاقہ آزاد کرایا جا چکا ہے۔ موصل کا آپریشن ایسے عالم میں جاری ہے کہ عراق کے وزیر اعظم حیدر العبادی نے ہفتے کی رات کو العراقیہ ٹی وی پر ایک بیان میں امریکہ کی سربراہی میں داعش مخالف اتحاد کی اس درخواست کو مسترد کر دیا تھا کہ موصل آپریشن روک دیا جائے۔ انہوں نے کہا تھا کہ بعض کالی بھیڑیں اورمذموم سیاسی اہداف کے حامل افراد موصل آپریش میں رخنہ ڈال رہے ہیں تاہم وہ عراقی فورسز کی پیش قدمی میں رکاوٹیں نہیں ڈال سکیں گے۔ بعض مقامی اور عالمی ذرائع ابلاغ نے امریکی اتحاد کے کمانڈروں کے حوالے سے موصل آپریشن کے روکے جانے کی اطلاع دی تھی لیکن انسداد دہشت گردی شعبہ کے کمانڈروں عبدالغنی اسدی اور عبدالوہاب الساعدی نے ان کی تردید کی اور ان افواہوں کے اڑنے کے کچھ دیر بعد یہ خبر پہنچی کہ عراق کی رضا کار عوامی فورسز نے اپنے اپنے معینہ مقامات پر آپریشن شروع کر دیا ہے۔ موصل آپریشن میں عراقی فوج، عوامی رضا کار فورسز اور کرد پیشمرگہ ملیشیا حصہ لے رہی ہیں اور ان کا ہدف موصل کی آزادی اور اس کے شہریوں کی جان کا تحفظ کرنا ہے۔ یہی بات البدر تنظیم کے سیکریٹری جنرل ہادی العامری نے بھی کہی ہے۔ انہوں نے تنظیم البدر کے کمانڈروں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کچھ گھرانوں کو رہا کرا لیا گیا ہے جنھیں داعش نے انسانی سپر بنا رکھا تھا۔ انہوں نے کہا کہ رہا کرائے گئے گھرانوں کے ساتھ نہایت رحم دلی اور مہربانی سے پیش آنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ دشمنوں کے پروپیگنڈے کے زیراثر لوگ یہ سمجھ رہے تھے عوامی فورسز کے صوبہ نینوا میں داخل ہونے پر عوامی رضاکار فورسز کے منفی اقدامات سامنے آئیں گے لیکن یہ محض پروپیگنڈہ تھا اور آج ہم جو اس صوبے میں عوامی فورسز اور عوام کے درمیاں اتحاد اور ہم دلی دیکھ رہے ہیں اس سے تمام پروپیگنڈے غلط ثابت ہوتے ہیں۔