عراق کی عوامی فورسز کے خلاف امریکہ اور ترکی کا پروپگیںڈہ ناکام
عراق کے شمالی شہر موصل کو تکفیری دہشتگرد گروہ داعش سے آزاد کرانے کے آپریشن میں عراقی فورسز کی کامیابیوں سے تکفیری دہشتگرد گروہ داعش کو شکست فاش ہو رہی ہے۔
موصل کو آزاد کرانے کی کاروائیاں سترہ اکتوبر سے شروع ہوئی تھیں اور منگل کے روز عراق کی اسپیشل فورس کے ایک کمانڈر حیدر فاضل کے بقول اب شہر موصل کے اندر داعش کے ٹھکانوں پر حملے ہو رہے ہیں۔ادھر صوبہ نینوا میں ایک مقامی ذریعہ نے بتایا کہ داعش کے تکفیری عناصر نے موصل کے علاقے غزلانی میں اپنے فوجی اڈے خالی کردئے اور خفیہ جیلیں بند کردی ہیں۔ یا رہے کہ عراق کی عوامی رضا کارفورس، فوج اور کرد پیشمرگہ فورس موصل کو آزاد کرانے کی کارروائیوں میں شرکت کررہی ہیں۔عراق کی مشترکہ فوج کا موصل کے دروازوں تک پہنچ جانا اور اس شہر کے اندار داعش کے ٹھکانوں پر حملے کرنا یہ ظاہر کرتا ہے کہ موصل کو آزاد کرانے کا آپریشن پورے زور و شور سے جاری ہے۔اسی دائرہ کار میں عراقی وزیر اعظم حیدر العبادی نے پیر کے دن صوبہ نینوا کے جنگی علاقوں کا معائنہ کرنے کے بعد موصل کے باشندوں کو اطمینان دلایا کہ عراقی فورسز داعش کا سر قلم کرکے رہیں گی اور یہ دہشتگرد گروہ عراق میں کہیں نہیں بچے گا۔ انہوں نے کہا کہ داعش سے صوبہ نینوا کی آزادی عراق کا ایک نہایت ہی مقدس ھدف ہے۔
یہ ھدف موصل کو آزاد کرانے کے آپریشن میں عراقی فورسز کے عزم و ارادے میں جلوہ گر ہے اورعوام بھی عراقی فورسز کے حامی ہیں اور اسی حمایت کی بنا پر امریکہ کو موصل کے آپریشن میں خلل ڈالنے میں ناکامی ہوئی ہے۔ کچھ دنوں قبل امریکیوں نے جنگ موصل کو روکنے کا مطالبہ کیا تھا کیونکہ اس جنگ میں عراقی فورسز کو کامیابیاں مل رہی ہیں اور اس میں عراقی کی عوامی رضا کار فورسز نے اہم کردار ادا کیا ہے اور کررہی ہیں ۔
امریکہ اور ترکی کی جانب سے نفسیاتی جنگ میں اس بہانے سے کہ وہ موصل میں اھل سنت کی حمایت کررہے ہیں ، عوامی فورسز پر الزام لگانے کے باوجود بھی وہ اپنے اھداف کو نہیں پہنچ سکے۔ امریکہ ایسے عالم میں اھل سنت کی نام نہاد حمایت کررہا ہے کہ دوہزار چودہ سے اھل موصل داعش کی حکومت میں نہایت سخت زندگی گذار رہے ہیں۔ اس صورت حال میں عالم میں عراق کی عوامی رضا کار فورس قومی مفادات کا دفاع کرتے ہوئے دہشتگردی کے مقابلے میں ایک اسٹراٹیجیک فورس میں تبدیل ہوگئی ہے اور اسی فورس نے اب موصل میں داعش کو پسپائی پر مجبور کردیا ہے۔
ترکی اور امریکہ کی جانب سے اھل سنت کی نام نہاد حمایت کے بہانے عراق کی عوامی فورسز پر الزامات لگانا بے سود ہے کیونکہ اھل سنت کو سب سے زیادہ نقصان داعش سے ہوا ہے اور عراقی عوامی فورس حقیقی معنی میں داعش کی دہشتگردی سے مقابلہ کررہی ہے۔
موصل کی آزادی سازی کی کاروائیاں داعش کی دہشتگردی کے مقابلے میں عراق کی پوری قوم کی طاقت اور اتحاد کی نمائش ہے اور وزیر اعظم حیدر العبادی نے اسی طاقت پر بھروسہ کرتے ہوئے صوبہ نینوا میں اھل موصل سے وعدہ کیا ہے کہ داعش کا سر قلم ہوکر رہے گا۔
موصل کی آزادی کے لئے جاری کاروائیوں کے موقع پر حالیہ پروپگینڈے عراق کی قوم اور فوج کے اتحاد نیز حیدر العبادی کی حکومت کے ٹھوس مواقف کی بنا پر شکست کھا گئے ہیں کیونکہ انہوں نے اس بات کی اجازت نہیں دی کہ امریکہ موصل آپریشن کی باگ ڈور سنبھال سکے۔ عراقی حکومت کا ٹھوس موقف اور عوام کی جانب سے اپنی حکومت کی حمایت نے موصل آپریشن کی صحیح سمت میں ھدایت کی ہے اور کوئی بھی سازش اس کو منحرف نہیں کرسکتی۔