حریت کانفرنس مسئلہ کشمیر کے حل کی خواہاں
کل جماعتی حریت کانفرنس نے ایک بیان جاری کرکے ہندوستان و پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ کشیدگی کم کرکے اپنے تعلقات میں بہتری لائیں۔
حریت کانفرنس نے ہندوستان کے زیر کنٹرول کشمیر کے حکام کی کارکردگی کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ کل جماعتی حریت کانفرنس نے دونوں ملکوں کے درمیان کسی بھی طرح کی جنگ کے تباہ کن نتائج کی بابت انتباہ دیتے ہوئے کہا کہ ہندوستان کے زیر کنٹرول کشمیر کے حکام کی پالیسیاں حالات کے مزید خراب ہونے کا سبب بنی ہیں اور یہ بدامنی کا بھی سبب ہیں۔
کل جماعتی حریت کانفرنس کے مطابق کشمیر میں تعینات ہندوستانی فوجی ، رات کو لوگوں گے گھروں پرحملے کرکے جوانوں کو زد و کوب کرتے ہیں اور گھر میں موجود قیمتی اشیاء کی چوری کر لیتے ہیں۔ اس کے علاوہ ہندوستانی فوجی کشمیریوں کے پرامن مظاہروں کو کچل کر وسیع پیمانے پر مظاہرین کو گرفتار بھی کر لیتے ہیں۔ حریت کانفرنس کی جانب سے ہندوستان اور پاکستان سے یہ مطالبہ کرنا کہ اپنے اختلافات کو ختم کریں اس لحاظ سے اہمیت کا حامل ہے کہ اس سے کشمیر کے مسئلے کو حل کرنے میں مدد ملے گی۔ دونوں ملکوں کے درمیان انیس سو سینتالیس میں بر صغیر کے بٹوارے کے بعد کشمیر کی ملکیت پر اختلافات پیدا ہوگئے تھے۔ انیس سو سینتالیس میں ہندوستان اور پاکستان کو آزادی ملنے اور برصغیر کے بٹوارے کے بعد چونکہ جموں کشمیر میں مسلمانوں کی اکثریت تھی لھذا اسے پاکستان میں شامل کردیا گیا تھا لیکن خطہ کشمیر کی اسٹراٹیجیک پوزیشن کی وجہ سے ہندوستان کے فوجیوں نے برطانوی فوج کی مدد اور اس وقت کے کشمیر کے مہاراجہ کے ساتھ ہماہنگی کرکے اس علاقے میں داخل ہوگئیں اور پاکستان سے کشمیر کے الحاق کو روک دیا۔ ہندوستان اور پاکستان نے کشمیر کی ملکیت پر دو مرتبہ جنگ کی ہے۔ ہندوستان کہتا ہے کہ کشمیر اس سے الگ نہیں ہوسکتا اور اسکی سرزمین کا اٹوٹ حصہ ہے جبکہ پاکستان کا یہ کہنا ہے کہ بر صغیر ہند کے بٹوارے کے منصوبے کے مطابق کشمیر اسے دیا گیا تھا کیونکہ یہ ایک مسلمان علاقہ ہے لیکن ہندوستان نے اس منصوبے پر مکمل طرح سے عمل نہیں ہونے دیا۔ اس طرح ہم دیکھتے ہیں کہ سات دہائیوں سے ہندوستان اور پاکستان کے تعلقات پر بحران کشمیر سایہ فگن ہے اور بعض اوقات تو دونوں ملکوں میں کشیدگی اتنی بڑھ جاتی ہے کہ وہ جنگ کے دہانے پر آجاتے ہیں۔کل جماعتی حریت کانفرنس کی نظر میں ہندوستان اور پاکستان کا ایٹمی ہتھیاروں اور ترقی یافتہ میزائلوں سے لیس ہونے کی بنا پر دونوں ملکون کے درمیان ممکنہ جنگ کی بابت شدید تشویشیں پائی جاتی ہیں۔ ادھر ہندوستان کی قوم پرست پارٹی بی جے پی کشمیر کی صوبائی حکومت میں شریک ہے جس کے بعد سے کشمیر کے عوام بالخصوص جوانوں پر دباو بڑھ گیا ہے۔ اگر یہی صورتحال جاری رہتی ہے تو کشمیر کے خطے میں بحران اور بدامنی جاری رہے گی جو براہ راست طریقے سے ہندوستان اور پاکستان کے تعلقات پر اثر انداز ہوگی۔ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر میں سو دنوں سے شورش اور احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔ہندوستان الزام لگاتا ہے کہ پاکستان مظاہرین کو اکسا رہا ہے اور اس مسئلے سے دونوں ملکوں کے تعلقات میں کشیدگی کا گراف بہت اوپر چلا گیا ہے جس کے بعد نئی دہلی حکومت نےفیصلہ کیا ہے کہ وہ جنوبی ایشیاء کی اقتصادی تعاون تنظیم سارک کے سربراہی اجلاس میں شرکت نہیں کرے گی۔ اس کے یہ معنی ہیں کہ ہندوستان اور پاکستان کے اختلافات براہ راست طریقے سے علاقائی تعاون پر اثر انداز ہو رہے ہیں اور اس سے سارک کی سرگرمیاں متاثر ہوئی ہیں۔ ان حالات کے پیش نظر کل جماعتی حریت کانفرنس کا یہ کہنا کہ ہندوستان اور پاکستان کے اختلافات کے حل ہونے سے جہاں دونوں ملکوں کے تعلقات میں بہتری آئے گی وہیں علاقے میں امن و استحکام کو بھی تقویت ملے گی اور سارک کے ارکان کے درمیان بھی تعاون میں فروغ آئے گا۔ اسی وجہ سے حریت کانفرنس نے بارہا اعلان کیا ہے کہ وہ نئی دہلی اور اسلام آباد کے درمیان ثالثی کرنے کو تیار ہے لیکن ہندوستانی حکومت نے حریت کانفرنس کے رہنماوں کے پاسپورٹ ضبط کرکے اس سلسلے میں ان کی سرگرمیوں پرروک لگا دی ہے۔ بہرحال کشمیری گروہوں کا یہ کہنا ہے کہ اگر حکومت ہند پاکستان کے ساتھ مسئلہ کشمیر پر مذاکرات کے لئے تیار نہیں ہوتی ہے تو اسے کشمیر کی صورتحال واضح کرنے کے سلسلے میں اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد کرنے پررضامند ہونا پڑے گا۔ اس رو سے کشمیری عوام ہندوستان یا پاکستان کے ساتھ کشیمر کے الحاق کے بارے میں اپنے موقف کا اعلان کرسکتے ہیں۔