افغانستان میں جنگ میں شدت پر تشویش
افغانستان میں طالبان اور داعش دہشت گرد گروہ کی جانب سے جنگ جاری رکھنے کی وجہ سے اس ملک میں جنگ کے منفی نتائج کے بارے میں تشویش بڑھ گئی ہے-
اقوام متحدہ نے اپنی تازہ رپورٹ میں افغانستان میں جنگ میں شدت کے منفی نتائج کا جائزہ لیتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ اب تک افغانستان کے مختلف علاقوں میں چارلاکھ سے زیادہ لوگ بے گھر ہوچکے ہیں-
اس ادارے نے اعلان کیا ہے کہ افغانستان کے شمالی صوبوں قندوز اور بغلان اور جنوبی صوبوں ہلمند اور اروزگان میں جنگ کی وجہ سے سب سے زیادہ افراد بے گھر ہوئے ہیں- حالیہ مہینوں میں قندوز اور ہلمند پر طالبان کے حملوں میں شدت آنے اور اروزگان اور ننگرہار میں داعش دہشت گرد گروہ کے حملے اس بات کا باعث بنے کہ ان علاقوں کے باشندے اپنا گھر بار چھوڑنے اور مختلف شہروں میں پناہ لینے پر مجبور ہوجائیں - افغانستان کے مختلف علاقوں کے عوام کی دربدری اور پناہ گزینوں کو باہر نکالنے کے لئے یورپی ممالک اور پاکستان کے اقدامات نے ان پناہ گزینوں کی صورت حال کے بارے میں تشویش بڑھا دی ہے - پناہ گزینوں کے امور میں افغان وزیرسید حسین عالمی بلخی کے بقول اس سال چھ لاکھ افغان پناہ گزیں پاکستان سمیت مختلف ملکوں سے وطن واپس آئے ہیں جن کے لئے رہائش اور مناسب زندگی کے وسائل و امکانات کی فراہمی نے حکومت کابل کو سخت مشکلات اور چیلنجوں سے دوچار کردیا ہے- اقوام متحدہ نے بھی افغانستان میں داخلی پناہ گزینوں اور جنگ کے متاثرین کی فوری مدد پر تاکید کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ ان کی مدد کے لئے ایک سوپچاس ملین ڈالر کی ضرورت ہے کہ جس میں سے ڈونر ممالک نے صرف اڑتالیس ملین ڈالر دینے کا وعدہ کیا ہے- اس کا مطلب یہ ہے کہ بین الاقوامی ادارے بھی افغانستان میں مہاجرین اور پناہ گزینوں کی مدد کے سلسلے میں بڑے پیمانے پر مسائل و مشکلات سے دوچار ہیں - افغانستان میں موسم سرما کی آمد کے پیش نظر اس بات کی پیشگوئی کی جاسکتی ہے کہ اس ملک میں جنگی پناہ گزینوں کی حالت کہیں زیادہ بدتر ہوجائے گی- ان حالات میں افغانستان کے عوام کو توقع ہے کہ طالبان اس ملک میں امن کے عمل میں شامل ہو کرافغان عوام کی مزید در بدری کو روکیں گے- یہ گروہ جو خود کو افغانستان اور افغان عوام سے متعلق سے سمجھتا ہے جنگ تیز کر کے نہ صرف اس ملک میں اپنی پوزیشن کمزور کررہا ہے بلکہ افغان عوام ، طالبان کو ایک ایسا گروہ سمجھتے ہیں کہ جو صرف بحران پیدا کرنے اور ان کے مسائل و مشکلات میں اضافے کررہا ہے-داعش دہشت گرد گروہ بھی افغان عوام کا قتل عام اور ان پر حملے کر کے اس ملک میں خوف و وحشت پھیلانے کے ساتھ ہی افغان عوام کی دربدری کا باعث بنا ہے- افغان عوام کی نگاہ میں طالبان کے لئے جو کہ خود کو پشتون سمجھتے ہیں یہ ننگ کی بات ہے کہ داعش دہشت گردوں کی طرح افغانوں کے ساتھ وحشیانہ سلوک کریں ، نقصان پہنچائیں اور انھیں در بدر کریں - افغانستان کے لئے کہ جو زراعت جیسے میدانوں میں پیشرفت کے امکانات رکھنے کے باوجود بھی کمزور اقتصاد کا حامل ہے مختلف ملکوں میں ستر لاکھ سے زیادہ پناہ گزیں رکھنا زیب نہیں دیتا - خاص طور پر ایسی حالت میں کہ افغان عوام کی دربدری چاہے ملک کے اندر ہو یا باہر ، اس ملک کو غیرملکی اداروں اور دیگر ملکوں کی مزید مدد کا محتاج بناتی ہے کہ جس کا مطلب دوسروں سے افغانستان کی وابستگی بڑھنا ہے - یہ ایک ایسا موضوع ہے کہ جسے اس ملک کا کوئی بھی فریق نہیں چاہتا حتی طالبان بھی کہ جو افغانستان کی خود مختاری کے دعوےدار ہیں - ان حالات میں ایک تشویش کہ جو افغانستان جیسے جنگ زدہ ملکوں کو ہمیشہ لاحق رہی ہے ، پناہ گزیں کے عنوان سے دہشت گردوں کی ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقلی ہے اور یہ دہشت گردوں کے خلاف بھرپورجنگ کے لئے افغانستان کی فوج اور حکومت کے منصوبوں پر عمل درآمد کو مشکلات سے دوچار کرسکتی ہے- خاص طور پر ایسی حالت میں جب عراق اور شام میں داعش کے شکست خوردہ دہشت گردوں کی افغانستان منتقلی کا موضوع درپیش ہے-