امریکہ کے انتخابی عمل پر جان کیری کی تنقید
امریکہ میں انتخابی عمل کے مسائل نے اس ملک کے وزیر خارجہ کو بھی تنقید کرنے پر مجبور کر دیا ہے -
امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے لندن میں نوجوانوں کے ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اپنے ملک کے صدارتی انتخابات کے مناظروں کو شرمناک قراردیا اور کہا کہ ان مناظروں نے ڈیموکریسی کے سلسلے میں بیرونی ممالک کے سربراہوں کے ساتھ گفتگو کے کام کو مشکل بنا دیا ہے- جان کیری نے مزید کہا کہ جس وقت امریکی وزرائے خارجہ دوسرے ممالک کے وزرائے خارجہ ، صدور اور وزرائے اعظم سے مطالبہ کرتے ہیں کہ جمہوریت کی طرف مزید مضبوطی کے ساتھ قدم بڑھائیں اس وقت دیکھا جا سکتا ہے کہ ان کے ذہنوں میں امریکہ میں ڈیموکریسی کے سلسلے میں کیا خیال آتا ہے ؟
یہ بیانات اس لحاظ سے بھی اہمیت کے حامل ہیں کہ دوہزار چار میں جان کیری، صدارتی انتخابات میں ڈیموکریٹک پارٹی کے امیدوار کی حیثیت سے آخری مرحلے تک آگے بڑھ چکے تھے اور امریکی انتخابی عمل کا بخوبی تجربہ رکھتے ہیں - البتہ امریکہ کے اندر اور باہر ہرجگہ اس ملک کے صدارتی انتخابات کے زیادہ اخراجات کے حامل ہونے ، پیچیدہ اور طویل عمل پر سخت تنقیدیں ہوتی رہی ہیں- اتفاق سے رواں سال کے صدارتی انتخابات میں پارٹی کے داخلی انتخابات اور آخری مرحلے کے انتخابی مقابلوں اور مہم کے دوران بعض امیدواروں سمیت امریکہ کی بہت سی سیاسی شخصیتوں نے انتخابی عمل میں موجود خامیوں کی جانب اشارہ کیا ہے-
امریکی انتخابی نظام پر سب سے بڑی تنقید، امریکہ کے صدارتی انتخابات میں عوام کے کردار کو کمزور کیا جانا ہے- درحقیقت امریکی عوام کی نمائندگی میں پانچ سو اڑتیس افراد پر مشتمل ایک مجموعہ جسے الیکٹورل کالج کہا جاتا ہے اس ملک کا صدر منتخب کرتا ہے- اس نرالی روش میں اکثر ایسا ہوتا ہے کہ ایک امیدوار، عوام کی بھاری اکثریت کی حمایت حاصل ہونے کے باوجود الیکٹورل نصاب پورا نہ ہونے کی بنا پر منصب صدارت تک نہیں پہنچ سکتا- ایسا ہی ایک واقعہ سنہ دوہزار میں رونما ہوا جو الگور کے مقابلے میں جارج بش کی کامیابی پر منتج ہوا- اس کے ساتھ ہی امریکہ میں یہ بھی امکان پایا جاتا ہے کہ کوئی امیدوار، زیادہ ووٹ حاصل کئے بغیر صدر منتخب ہوجائے-
امریکہ کے صدارتی انتخابی نظام پر دوسری تنقید ان انتخابات کا صرف ڈیموکریٹک اور ریپبلکن پارٹی کے درمیان ہونا ہے- گذشتہ پچاس برسوں کے دوران امریکہ میں دسیوں فعال پارٹیوں کی موجودگی کے باوجود امریکہ کا عہدہ صدارت صرف دو پارٹیوں ریپبلکن اور ڈیموکریٹک کے درمیان تقسیم ہو کر رہ گیا ہے-
اس صورت حال کو جاری رکھنے کے لئے بہت سے دلائل دیئے جاتے ہیں ان میں بیلٹ بکس تک پہنچنے کے لئے سخت قوانین ، ٹی وی مناظروں میں شرکت اور انتخابات کے زمانے میں پارٹیوں کو سرکاری مدد دیا جانا بھی شامل ہے- دوسری جانب امریکی انتخابات میں دولت و ثروت کے فیصلہ کن کردار کو بھی ہدف تنقید بنایا جاتا ہے- بھاری انتخابی اخراجات اور مالی وسائل سے پارٹیوں اور امیدواروں کی مالی وابستگی اس بات کا باعث بنی ہے کہ انتخابات میں منتخب ہونے والے تقریبا تمام امیدواروں کو بڑی کمپنیوں اور دولتمند طبقےسے منسلک ہونا چاہئے- اس بنا پر کہا جاتا ہے کہ امریکہ کی جمہوریت اپنی سیاسی روش اور اہداف سے دور ہوچکی ہے اور اشرافیہ حکومت بن گئی ہے اور ایک ایسے نظام میں تبدیل ہو چکی ہے کہ جس میں نظام ، عوام پرعوام کی حکومت کے بجائے عوام پر مالداروں کی حکومت میں تبدیل ہو چکا ہے -
البتہ مذکورہ بالا نکات کہ جو امریکہ کے انتخابی ڈھانچے پر تنقید شمار ہوتے ہیں ، رواں سال کی صدارتی انتخابی مہم کو بھی شدید تنقیدوں کا سامنا ہے - مثال کے طور پر رپیبلکن پارٹی کے امیدوار ڈونالڈ ٹرمپ کے جنسی اسکینڈل سامنے آنے ، خواتین کے سلسلے میں ان کے گندے اور نازیبا الفاظ و بیانات یا ڈیموکریٹک پارٹی کی امیدوار ہیلری کلنٹن کی برقی خطوط یا ایمیل کے سلسلے میں خلاف قانون حرکتوں نے امریکی سیاستدانوں کی شبیہ بری طرح خراب کرکے رکھ دی ہے یہاں تک کہ امریکہ کے وزیرخارجہ نے بھی اس طرح کے الزامات پر شرم ظاہر کی ہے-