ایران کے خلاف امریکی مخاصمت جاری
انیس سو اناسی اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد جب امریکہ کے سفارتخانے یا جاسوسی کے اڈے میں ایران کے خلاف امریکہ کی جاسوسی کی سرگرمیوں کی دستاویزات ملی ہیں امریکہ کے اس وقت کے صدر نے ایران کےتعلق سے ایمرجنسی لاگو کردی تھی۔
انیس سو اناسی اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد جب امریکہ کے سفارتخانے یا جاسوسی کے اڈے میں ایران کے خلاف امریکہ کی جاسوسی کی سرگرمیوں کی دستاویزات ملیں توامریکہ کے اس وقت کے صدر نے ایران کےتعلق سے ایمرجنسی لاگو کردی تھی۔ اس قانون کی رو سے امریکی صدر کو اجازت دی جاتی ہے کہ امریکہ کو لاحق غیر معمولی یا معمولی بیرونی خطرے کے پیش نظر قومی ایمرجنسی کا اعلان کرتے ہوئے اسی کے مطابق جس ملک سے خطرے لاحق ہیں اس کے خلاف ایکشن لے۔ اس قانون کی رو سے معاملات روکے جاسکتے ہیں، اثاثے منجمد کردئے جاتے ہیں اور اگر اس ملک سے امریکہ پر حملہ کیا گیا ہو تو امریکہ اس کے اموال ضبط بھی کرسکتا ہے۔ یہ صورتحال ایک سال کے بعد خودبخودختم ہوجاتی ہے لیکن یہ کہ امریکی صدر نوے روز قبل کانگریس سے اس میں توسیع کا مطالبہ کرے۔اس سال باراک اوباما نے امریکی سفارتخانے پر انقلابی طلباء کے قبضے کے موقع پر تین نومبر کو کانگریس کے سربراہ سے ایمرجنسی صورتحال میں مزید توسیع لانے کا مطالبہ کیا تھا۔ اوباما نے اپنے خط میں اپنے فیصلے کا جواز پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ ہمارے تعلقات ابھی معمول پر نہیں آئے ہیں اور ایران کے ساتھ کئے گئے معاہدوں پر عمل نہیں ہوا ہے لھذا میں نے اس بات کی تشخیص دی ہے کہ ایران کے تعلق سے ایمرجنسی کی صورتحال جاری رہے۔
امریکہ نے ایران کے ایٹمی پروگرام کے حوالے سے ایران پر الزام لگانے میں اپنی شکست اور پانچ جمع ایک گروپ کے ساتھ ایران کے ایٹمی معاہدے کے بعد یہ ثابت کردیا کہ وہ ایران کے خلاف دشمنانہ اقدامات ختم کرنے کو تیار نہیں ہے، اسی بنا پر ہم دیکھتے ہیں کہ امریکہ کے رویئےمیں کسی طرح کی تبدیلی نہیں آئی ہے اور محض ظاہری روشیں اور سناریو تبدیل ہوئے ہیں۔
امریکہ اس اقدام سے دو ھدف حاصل کررہا ہے۔ پہلا ھدف علاقے میں ایرانوفوبیا کی پالیسی جاری رکھنا ہے۔ ایران کے تعلق سے ایمرجنسی کی صورتحال کا جاری رہنا یہ ظاہر کرتا ہے کہ امریکہ کی نگاہ میں ایران اب بھی ایک خطرہ ہے حالانکہ اگر گذشتہ نصف صدی میں ایران کے خلاف امریکہ کے اقدامات کی ایک فہرست تیار کی جائے تو معلوم ہوگا کہ یہ امریکہ ہے جس نے ہمشیہ سے ایران کے خلاف خطرہ اور بدامنی پیدا کی ہے ایران نے نہیں۔ امریکہ نے ایران کے ہمسایہ علاقوں میں لشکر کشی اور قبضہ کرکے منجملہ، افغانستان اور عراق اور علاقے کے دیگر ملکوں پر حملے کرکے ایران اور علاقائی ملکوں کی سکیورٹی کو سنگین خطرے میں ڈال دیا ہے جس کے اثرات علاقے میں بڑھتی ہوئی دہشتگردی سے آشکار ہیں۔ امریکہ نے امن و امان قائم کرنے کے بہانے گذشتہ تیس برسوں میں علاقے کے ملکوں کو قومی اور گروہی مسائل میں الجھا رکھا ہے خلیج فارس کے عرب ملکوں کے ہاتھ اپنے اربوں کے ہتھیار بیچنے کے لئے ان ملکوں اور ایران کے درمیان تعلقات کو کبھی پنپنے نہیں دیا۔
ایران کے تعلق سے امریکہ کی ایمرجنسی کی حالت کا جاری رہنا اسی منصوبے کی ایک کڑی ہے اور امریکہ اس کے سہارے ایران کے خلاف اپنی غیر منطقی اور دشمنانہ پالیسیوں کو جاری رکھے ہوئے ہے۔
امریکہ کا دوسرا ھدف علاقائی اور عالمی سطح پر ایران کے دوبارہ کردار ادا کرنے کی مخالفت کرنا ہے۔اب جبکہ جامع مشترکہ ایکشن پلان پر عمل درامد ہورہا ہے علاقائی معاملات میں ایران بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہا ہے اور یہ تبدیلیاں عملا اس بات کاسبب بنی ہیں کہ ایران کے خلاف امریکہ کی مخاصمانہ پالیسیوں میں مزید شدت آجائے۔امریکہ ایران کے دفاعی میزائل پروگرام کو بہانہ بنا کر ایران کو علاقے میں خطرہ بنا کر پیش کررہا ہے۔ایران پر دہشتگردی کی حمایت کا الزام لگانا بھی ایک طریقہ ہے جس سے امریکہ ایران پر دباؤ ڈالنے کے لئے استفادہ کرتا ہے۔
ایران کے ساتھ امریکہ کو یہ پریشانی لاحق ہےکہ ایرانی قوم انقلابی ہے اور تسلط پسندوں اور منہ زوروں کے مقابل اپنی خود مختار اور مسقتل پالیسی رکھتی ہے۔ظاہر سی بات ہے جب تک یہ صورتحال جاری رہے گی امریکہ کی نگاہ میں ایران ایک خطرہ بنا رہے گا اور ایران کے تعلق سے امریکہ کی ایمریجنسی کی صورتحال بھی بدستور جاری رہے گی۔