ایران اور یورپ کے درمیان پرامن ایٹمی تعاون
اسلامی جمہوریہ ایران کے ایٹمی ادارے کے سربراہ ڈاکٹر علی اکبر صالحی اتوار کو پولینڈ کے دو روزہ دورے پر وارسا روانہ ہوئے ہیں۔
اسلامی جمہوریہ ایران کے ایٹمی ادارے کے سربراہ ڈاکٹر علی اکبر صالحی اتوار کو پولینڈ کے دو روزہ دورے پر وارسا روانہ ہوئے ہیں۔ علی اکبرصالحی کے دورے میں پرامن ایٹمی تعاون کے بارے میں گفتگو ہوگی۔ یہ تعاون علمی و سائنسی، تحقیقاتی، ایٹمی سیفٹی، نیوکلئر میڈیسن کے استعمالات، اور ریڈیو میڈیسن نیز اگزیلیریٹر Accelerator کے شعبوں میں ہوگا۔ ایران کے ا یٹمی ادارے کے سربراہ کا وارسا کا دورہ ایسے عالم میں عمل میں آرہا ہے کہ گذشتہ روز انہوں نے تہران میں انٹرنیشنل اٹامیک فیوژن پروجیکٹ کے مینجنگ ڈائرکٹر برنارڈ بیگو سے ملاقات اور گفتگو کی تھی۔ اس موقع پر ایران اور آئیٹر نے تعاون کے ایک مفاہمتی نوٹ پر دستخط بھی کئے تھے۔
ایران اور پانچ جمع ایک گروپ کے ایٹمی معاہدے کو ایک سال ہورہا ہے ۔ اس مدت میں اس معاہدے کے مفید آثار دیکھنے کو ملے ہیں بالخصوص ایران پر عائد پابندیاں ختم ہوئی ہیں۔ واضح رہے جامع مشترکہ ایکشن پلان کا ایک اہم موضوع ایران کے ایٹمی تحقیقاتی اور سائنسی منصوبوں کا جاری رہنا ہے۔ادھر ایٹمی انرجی کی عالمی ایجنسی کا سب سے اہم پروجیکٹ آئیٹر ہے ۔ اس پروجیکٹ میں اٹامیک فیوژن کے ذریعے جو ایک نیا طریقہ ہے بجلی پیدا کی جائے گی اس میں یورپی ممالک، امریکہ، چین، ہندوستان، جنوبی کوریا اور جاپان شامل ہیں۔ آئیٹر کا پروجیکٹ تیس سے چالیس برسوں میں کمرشیل لیول پر کام کرنا شروع کردے گآ اور ایران نے اب ہی سے اس پروجیکٹ پر سرمایہ شروع کردی ہے۔
ایران اٹامیک فیوژن میں بڑے گرانقدر تجربے رکھتا ہے اور ایران کے ساتھ دو طرفہ تعاون سے ان تجربوں میں مزید وسعت اور بہتری آجائے گی۔ اس عظیم پروجیکٹ میں ایران کے شامل ہونے سے ایٹمی ٹکنالوجی میں مزید ترقی کرنے کے مواقع پیدا ہونگے۔ اسلامی جمہوریہ ایران رواں سال کے آخر تک آئیٹر کا مکمل رکن بن جائے گا۔ اس وقت ایندھن کے طور پر زیادہ تر فسیلی ایندھن ہی استعمال ہوتے ہیں لیکن انرجی کے یہ ذخائر ابدی نہیں ہیں بلکہ ایک دن ختم ہوجائیں گے اسی وجہ سے نئی اور متبادل انرجیوں پر طویل مدت منصوبہ بندی کرنی چاہیے، اس لحاظ سے آئیٹر کا پروجیکٹ عالمی اہمیت کا حامل ہے۔
پانچ جمع ایک گروپ کے ساتھ ایران کے ایٹمی معاہدے میں ایران کے ساتھ ان ملکوں کے ایٹمی تعاون بالخصوص اٹامیک فیوژن کے شعبے میں تعاون کرنے پر تاکید کی گئی ہے۔ اس تعاون کے تحت اسلامی جمہوریہ ایران ایک اہم اور پیشرفتہ ملک کی حیثیت سے بین الاقوامی منصوبے آئیٹر میں اہم رول ادا کرسکتا ہے۔
یورپی یونین میں انرجی کمشنر کانی یتہKanyyth" نے اپنے حالیہ دورہ تہران میں ایران اور یورپی یونین کے درمیان سائینسی اور علمی و تکنیکی میدان میں اہم اقدامات کئےجانے کی بات کی ہے یہ ایسے عالم میں ہے کہ امریکہ اور کچھ یورپی ممالک نے کئی برسوں تک پروپگینڈے کرکے یہ کوشش کی تھی کہ ایران کے ایٹمی پروگرام کو خطرہ بنا کر پیش کریں۔ مغرب نے ایران کی ایٹمی تنصیبات کو مکمل طرح بند کرنے کا خواب دیکھا تھا اور یہ بھی چاہتا تھا کہ ایران کے تمام تحقیقاتی منصوبے بھی بند ہوجائیں اور اس نے وعدہ کیا تھا کہ وہ ایران کی ایٹمی تنصیبات کو ختم کرکے رہے گا۔ مغرب کے تمام تر دباؤ کے باوجود ایران کے قومی ایٹمی ادارے نے تہران کے تحقیقاتی ری ایکٹر کے لئے اپنے جوان سائنس دانوں کی محنت سے بیس فیصد تک افزودہ یورینیم بنانے میں کامیابی حاصل کرلی اور اب یہ ری ایکٹر ایران میں بننے والے ایندھن سے ہی کام کررہا ہے۔ یاد رہے تہران کے تحقیقاتی ایٹمی ری ایکٹر سے ریڈیو میڈیسن بنائی جاتی ہیں جو کینسر کے علاج سمیت مختلف بیماریوں کے علاج اور تشخیص کے لئے کام میں لائی جاتی ہیں۔ ایران یہ پختہ عزم رکھتا ہےکہ وہ اپنے تحقیقاتی اور علمی منصوبوں کو جاری رکھتے ہوئے ایٹمی سائنس میں ترقی کرتا رہے گا۔