افغانستان میں مخالف عناصر کی تعداد بیس سے پچیس ہزار تک ہے۔
افغانستان میں اقوام متحدہ کے دفتر نے ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ افغان حکومت کے مخالف افراد کی تعداد پینتالیس ہزار ہے جو حکومت کابل کے خلاف لڑ رہے ہیں۔
افغانستان میں اقوام متحدہ کے دفتر نے ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ افغان حکومت کے مخالف افراد کی تعداد پینتالیس ہزار ہے جو حکومت کابل کے خلاف لڑ رہے ہیں۔ اس رپورٹ کے مطابق افغان مخالفیں میں نصف تعداد غیر ملکیوں کی ہے۔ اس رپورٹ میں آیا ہے کہ افغانستان میں تکفیری دہشتگرد گروہ داعش کے دہشتگردوں کی تعداد ساڑھے تیں ہزار سے ایک ہزار چھے سو تک گھٹ گئی ہے۔ اس میں بھی سات سو دہشتگرد بیرونی شہری ہیں۔داعش کے زیادہ تر دہشتگرد صوبہ ننگر ہار میں ہیں اور افغانستان کے لئے سکیورٹی کے لحاظ سے بڑا خطرہ شمار ہوتے ہیں۔
افغانستان میں حکومت کے مخالف مسلح افراد کی تعداد کے بارے میں اقوام متحدہ کی رپورٹ سے افغانستان میں دہشتگردی سے نمٹنے میں امریکہ اور نیٹو کی بے توجہی کی نشاندہی ہوتی ہے امریکہ نے سنہ دوہزار ایک میں طالبان اور القاعدہ کی نابودی کے بہانے حملے کئے تھے اور اس ملک پر قبضہ کرلیا تھا۔واشنگٹن نے عوام فریبانہ پروپگینڈے کرتے ہوئے افغانستان کے مسائل حل کرنے اور اس ملک میں امن و امان قائم کرنے کے وعدہ کئے تھے لیکن عملا ایسا نہیں ہوا۔ نیٹو اور ا مریکہ نے افغانستان پر پندرہ برسوں تک قبضہ جاری رکھا جس کی وجہ سے افغان عوام شدید بدامنی کا شکار ہیں اور بلکہ اقوام متحدہ کے اعداد و شمار سے تشویش بڑھ جاتی ہے۔یہ بات قابل توجہ ہے کہ امریکہ اور نیٹو کے کمانڈر بے شرمی سے یہ خبریں پھیلارہے ہیں کہ طالبان نے افغانستان کے مزید علاقوں پر قبضہ کرلیا ہے، القاعدہ کی دہشتگردانہ سرگرمیوں میں اضافہ ہوا ہے اور دہشتگرد گروہ داعش بھی افغانستان میں سرگرم عمل ہوچکا ہے۔ ان حالات سے پتہ چلتا ہےکہ امریکہ منصوبہ بند طریقے سے افغانستان میں بحران کو آگے بڑھا رہا ہے تا کہ وہ اپنے اھداف حاصل کرسکے اور اپنے پٹھووں کو محفوظ رکھ کر اپنی پالیسیوں پر عمل کرواسکے البتہ وہ یہ کام افغانستان میں عسکریت پسند اور دہشتگرد گروہوں کے ذریعے کروارہا ہے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق افغانستان مین عوام فریبانہ نعرے لگانے سے امریکہ کا یہ مقصد ہے کہ وہ امن قائم نہیں کرنا چاہتا بلکہ افغانستان کو علاقے مین بدامنی پھیلانے کا مرکز بنانا چاہتا ہے تا کہ مرکزی ایشیا اور چین کی سرحدوں تک بدامنی پھیلاسکے۔ افغانستان تکفیری دہشتگرد گروہ داعش کو وجود بخشنا اور اس شکست خوردہ گروہ کے عناصر کو شام اور عراق سے افغانستان میں اکٹھا کرنا بھی امریکہ کے اس ھدف کے تحت انجام پارہا ہے کیونکہ داعش کی سرگرمیاں مختلف ملکوں میں پھیلی ہوئی ہیں اور امریکہ داعش کے سہارے دہشتگردی کو ٹرانزیٹ کرکے مرکزی ایشیا اور قفقاز نیز چین کی سرحدوں تک دہشتگردی پھیلانے اور سارے علاقے کو خطرے سے دوچار کرنے کا خواہاں ہے ۔ امریکی صدارتی امیدوار ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکہ نے علاقے منجملہ افغانستان کی جنگ پر چھے ٹریلین ڈالر لگائے ہیں لیکن امن قائم نہیں ہوسکا ہے اس سے پتہ چلتا ہے کہ امریکہ امن قائم کرنے کے حق میں نہیں ہے۔ اس بات میں کسی طرح کا شک نہیں ہےبلکہ امریکہ بحرانی حالات پیدا کرکے ملکوں میں مداخلت کرتا ہے اور افغانستان اور دیگر علاقوں میں فوجیں تعینات کردیتا ہے۔بلاشک و شبہ امریکہ علاقے میں اپنی پالیسیوں کو آگے بڑھانے کے لئے دہشتگرد گروہوں کو استعمال کرتا ہے ۔تکفیری صیہونی دہشتگرد گروہ داعش دراصل القاعدہ کا تسلسل ہے اور اسے مغربی ملکوں بالخصوص امریکہ نے وجود بخشا اور پروان چڑھا یا ہے۔ ایسے حالات میں اقوام متحدہ کی جانب سے افغانستان کے مخالف عناصر کی تعداد کو ظاہر کرنا نہ صرف تشویش کا سبب ہے بلکہ یہ علاقے میں بحران سازی کی امریکہ کی طویل مدت پالیسی کا ایک حصہ ہے۔