غزہ کے محاصرے سے انسانی المیے کا خدشہ
https://urdu.sahartv.ir/news/annalys-i256891-غزہ_کے_محاصرے_سے_انسانی_المیے_کا_خدشہ
مشرق وسطی کے امن عمل میں اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے نے کہا ہے کہ غزہ پٹی میں بڑے بڑے منصوبوں پر عمل درآمد سے پہلے اس علاقے کے عوام کی مشکلات منجملہ پانی کی قلت اور بے روزگاری کی مشکلات حل کرنی چاہیں۔
(last modified 2025-02-27T04:56:45+00:00 )
Nov ۰۶, ۲۰۱۶ ۱۴:۱۰ Asia/Tehran
  • غزہ کے محاصرے سے انسانی المیے کا خدشہ

مشرق وسطی کے امن عمل میں اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے نے کہا ہے کہ غزہ پٹی میں بڑے بڑے منصوبوں پر عمل درآمد سے پہلے اس علاقے کے عوام کی مشکلات منجملہ پانی کی قلت اور بے روزگاری کی مشکلات حل کرنی چاہیں۔

 

مشرق وسطی کے امن عمل میں اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے نے کہا ہے کہ غزہ  پٹی میں بڑے بڑے منصوبوں پر عمل درآمد سے پہلے اس علاقے کے عوام کی مشکلات منجملہ پانی کی قلت اور بے روزگاری کی مشکلات حل کرنی چاہیں۔ اقوام متحدہ کے نمائندے نے کہا کہ غزہ پٹی کے عوام اقتصادی اور معاشی مسائل کی وجہ سے بڑے ہی سخت حالات سے گذر رہے ہیں اور یہی مسائل ہرروز اس جنگ زدہ اور محصور علاقے کی تباہ حالی میں اضافہ کررہے ہیں۔ غزہ کے بارے میں مختلف رپورٹوں سے اس علاقے پر صیہونی حکومت کی جارحیتوں کے نتیجے میں پیدا ہونے والے بحران کا پتہ چلتا ہے۔ اس بحران کے  پیش نظر عالمی برادری کو فوری طور پر بھر پور طرح سے حرکت میں آجانا چاہیے  تا کہ اس جنگ زدہ اور محصور علاقے کی مشکلات حل کی جاسکیں۔

اگرچہ صیہونی حکومت کو فلسطینی عوام کی استقامت کے مقابل بارہا شکست  ہوئی ہے جسکی وجہ سے اسے دوہزار پانچ میں غزہ سے پسپائی اختیار کرنی پڑی لیکن صیہونی حکومت فلسطینی عوام کی استقامت کے سامنے اپنی شکست کو چھپانے کے لئے اپنی نام نہاد طاقت کا مظاہرہ کررہی ہے اور ایسے حالات پیدا کرنا چاہتی ہےکہ فلسطینیوں کو تسلیم ہونے پر مجبور کیا جاسکے اور غزہ پر دوبارہ اس کا قبضہ  ہوجائے۔اسی وجہ سے صیہونی حکومت کے غزہ سے پسپائی اختیار کرنے کے بعد بھی اھالیان غزہ کے خلاف اس کی مخاصمانہ پالیسیوں میں کمی نہیں آئی بلکہ عملی طور سے جس طرح سے فلسطین کے دیگر علاقوں ہر اس کے حملے جاری ہیں غزہ کے خلاف بھی اس کی غیر انسانی کارروائیوں میں کوئی کمی نہیں آئی،اور صیہونی حکومت مختلف طرح سے فلسطینیوں کا قتل عام کررہی ہے اور اس میں غزہ کے شہری بھی شامل ہیں۔ واضح رہے کہ حالیہ برسوں میں صیہونی حکومت کے وحشیانہ محاصرے کی بنا پر سیکڑوں فلسطینی شہید ہوگئے ہیں۔ ایسے عالم میں عالمی ادارے بالخصوص اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل بھی صیہونی حکومت کے مغربی حامیوں کے دباؤ میں آکر صرف ان رپورٹوں کو سننے اور بیان جاری کرنے پر اکتفا کرتے ہیں اور صیہونی حکومت کے جرائم کو روکنے کے لئے کوئی موثر اقدام نہیں کرتے۔ یہ مسئلہ مغربی حکومتوں کی جانب سے صیہونی حکومت کی حمایت کی بنا پر المناک صورتحال پر منتج  ہوا ہے اور اس کے ذمہ داری صیہونی حکومت اور اس کے حامیوں پر عائد ہوتی ہے۔ اس صورتحال سے دنیا کی رائے عامہ کو شدید تشویش لاحق ہے۔ دراصل غزہ کا محاصرہ جوسنہ دوہزار سات سے شروع ہوا ہے اسکی وجہ سے پندرہ لاکھ سے زائد غزہ کےشہری اشیاء  ضروریہ کی شدید قلت کا شکار ہوچکے ہیں، انہیں غذا، پینے کے صاف پانی، کپڑوں اور دواوں کی ضرورت ہے۔ ضروری اشیاء کی قلت سے بحران میں شدت آچکی ہے جس پر عالمی برادری کی تشویش میں بھی اضافہ ہوچکا ہے۔ اس سلسلے میں کچھ دنوں قبل اقوام متحدہ کے زیر اہتمام تجارت و ترقی کے زیر عنوان ایک کانفرنس ہوئی تھی جس میں فلسطین کے بارے میں خبردار کیا گیا تھا کہ غزہ کے محاصرے اور صیہونی حکومت کے آئے دن کے حملوں کے پیش نظر اس بات کا امکان پایاجاتا ہےکہ غزہ کا علاقہ دوہزار بیس تک سکونت کے قابل نہ رہ سکے۔ یہ ایسے عالم میں ہے کہ عالمی برادری صیہونی حکومت کے اقدامات بالخصوص غزہ کے محاصرے پر خاموش تماشائی بنی بیٹھی ہے گویا کوئی المیہ ہوا ہی نہیں۔اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ سربراہی اجلاس میں غزہ کے مسئلے کا نوٹس نہ لیا جانا اقوام متحدہ کی جانب سے غزہ کو زیادہ سے زیادہ نظر انداز کئے جانے کی نشان دہی کرتا ہے۔ ایسے حالات میں صیہونی حکومت تمام تر گستاخی اور بے شرمی سے غزہ کے محاصرے کا سرے سے انکار کررہی ہے۔ صیہونی حکومت کے وزیر جنک آویگدور لیبرمین نے بے شرمی سے فلسطینی تنظیموں جیسے تحریک استقامت فلسطین، حماس اور دیگر فلسطینی گروہوں سے صیہونی حکومت کے خلاف استقامت بند کرنے کے تاوان کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کے بدلے اسرائیل غزہ کی بندرگاہ، ایر پورٹ اور صنعتی علاقے کی تعمیر کے لئے مدد کرے گا۔صیہونی حکومت کی اس نئی فریبی چال کے سہارے صیہونی وزارت جنگ کے ایک عھدیدار عاموس گلعاد نے دعوی کیا ہے کہ بنیادی طور سے غزہ محاصرے میں نہیں ہے کیونکہ ہر روز ہزاروں ٹرک اس  علاقے میں آمد و رفت  کررہے ہیں۔ اس دعوی سے ایک بار پھر صیہونی حکومت کی فریبکارانہ ماہیت ظاہر ہوجاتی ہے۔