عراق میں دہشت گردانہ حملوں کی مذمت
عراق کے صدر فواد معصوم نے کہا ہے کہ دہشت گردوں کو سامرا پر حملے کی قیمت چکانا ہو گی۔
عراق کے صدر نے اسی طرح ملک کے سیکورٹی اداروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ بےگناہ عوام اور زائرین پر حملے کرنے والے دہشت گرد گروہوں کو مکمل طور پر ختم کرنے کے لیے فوری اور ضروری اقدامات کریں اور دوبارہ اس قسم کے حملے نہ ہونے دیں۔
اتوار کے روز سامرا میں امام علی نقی اور امام حسن عسکری علیھما السلام کے روضے کی پارکنگ میں ہونے والے دہشت گردانہ دھماکوں میں آٹھ ایرانی زائرین شہید ہو گئے تھے جبکہ اس دہشت گردی میں ایک سو دو افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔
ادھر تکریت میں محکمہ موسمیات کے دفتر کے داخلی دروازے پر کار بم کے دھماکے میں کم از کم چودہ افراد جاں بحق اور پچیس زخمی ہو گئے۔ دہشت گرد گروہ داعش نے ان دونوں دہشت گردانہ حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے۔
موصل کی آزادی کے آپریشن میں دہشت گرد گروہ داعش کو پہنچنے والے سنگین نقصانات کے بعد اس کے دہشت گردوں نے عراق میں اپنے دہشت گردانہ حملوں میں اضافہ کر دیا ہے اور وہ بےگناہ عوام کا قتل عام کر رہے ہیں۔
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ عراق میں دہشت گردانہ حملوں میں اضافے کا مقصد چہلم امام حسین علیہ السلام کے موقع پر عوام کے عظیم پیدل مارچ اور موصل کی آزادی کے آپریشن میں دہشت گردوں کی مکمل شکست سے لوگوں کی توجہ ہٹانا ہے۔
واضح رہے کہ عراقیوں نے گذشتہ دنوں عراق کے مزید علاقوں کو دہشت گردوں کے وجود سے پاک کرنے کے لیے موصل کی آزادی کا آپریشن شروع کیا ہے اور اب یہ آپریشن اپنے آخری مراحل کی جانب بڑھ رہا ہے اور اس کا مطلب عراق میں داعش کا خاتمہ ہے اور اس صورت حال نے داعش کے دہشت گردوں کے حوصلے کو انتہائی پست کر دیا ہے۔
ایسے حالات میں دہشت گردوں نے عراق میں اپنی شکستوں اور ناکامیوں سے رائے عامہ کی توجہ ہٹانے اور موصل آپریشن کو روکنے کے لیے خوف و دہشت پیدا کرنے کی غرض سے اس ملک کے اندر دہشت گردی کی کارروائیاں تیز کر دی ہیں۔
دوسری جانب دہشت گرد مختلف طریقوں سے مسلمانوں کے عظیم اجتماعات خاص طور پر چہلم امام حسین علیہ السلام کے موقع پر ہونے والے پیدل مارچ کو کہ جس میں عراق اور ایران سمیت پوری دنیا سے دسیوں لاکھ عاشقان حسین شرکت کرتے ہیں، روکنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
امام حسین علیہ السلام کے چہلم کے موقع پر دسیوں لاکھ زائرین کا کربلا کی جانب پیدل سفر درحقیقت عراق میں تکفیری اور دہشت گرد گروہوں کے مقابل شیعہ و سنی اتحاد کا عظیم مظاہرہ ہے۔ یہ عظیم ریلی انتہا پسندوں اور ان افراد کی شکست سمجھی جاتی ہے کہ جو نہیں چاہتے کہ عراق میں امن و امان ہو اور وہ ترقی کرے۔ اس کے علاوہ یہ انتہا پسندوں اور ان کے مغربی اور عرب حامیوں کی سازشوں کی بھی شکست ہے۔
اس بات کے پیش نظر کہ امام حسین علیہ السلام کی تحریک عالمی پیغام کی حامل ہے، کہا جا سکتا ہے کہ چہلم کے موقع پر دسیوں لاکھ عاشقان حسین کی پیدل کربلا آمد، حق کی تلاش، ظلم کے مقابلے اور سامراج کے خلاف جدوجہد میں امت مسلمہ کی سعی و کوشش کی علامت ہے کہ جس نے دہشت گردوں کو خوف زدہ کر کے رکھ دیا ہے۔
قابل غور بات یہ ہے کہ حالیہ برسوں کے دوران کربلا میں بہت وسیع پیمانے پر چہلم کے پروگرام منعقد کیے گئے ہیں اور سیکورٹی خطرات اور بم دھماکے بھی ان میں شرکت کے لیے زائرین کے جوش و جذبے کو کم کرنے میں ناکام رہے ہیں اور چہلم امام حسین علیہ السلام کےپروگرام ہر سال گذشتہ سال کی نسبت زیادہ جوش و جذبے کے ساتھ منعقد کئے جاتے ہیں۔ ان حالات میں توقع کی جا رہی ہے کہ عراق کی سیکورٹی فورسز داعش کے بڑھتے ہوئے خطرات کے پیش نظر سخت حفاظتی انتظامات کر کے دہشت گردوں کے اقدامات کو ناکام بنا دیں گی۔