ہلیری کلنٹن کی ایمیلز کے بارے میں ایف بی آئی کی پسپائی
https://urdu.sahartv.ir/news/annalys-i256996-ہلیری_کلنٹن_کی_ایمیلز_کے_بارے_میں_ایف_بی_آئی_کی_پسپائی
امریکہ کی فیڈرل پولیس ایف بی آئی حساس صدارتی انتخابات کے عمل میں ایک بار پھر شہ سرخیوں میں آئی ہے۔
(last modified 2025-02-27T04:56:45+00:00 )
Nov ۰۷, ۲۰۱۶ ۱۲:۲۰ Asia/Tehran
  • ہلیری کلنٹن کی ایمیلز کے بارے میں ایف بی آئی کی پسپائی

امریکہ کی فیڈرل پولیس ایف بی آئی حساس صدارتی انتخابات کے عمل میں ایک بار پھر شہ سرخیوں میں آئی ہے۔

ایف بی آئی کے سربراہ جیمز کومی نے ایک غیرمتوقع اقدام کرتے ہوئے امریکی کانگریس کے نام خط میں اعلان کیا ہے کہ ہیلری کلنٹن کے خلاف خفیہ ای میل کے معاملے میں ایسے کوئی شواہد نہیں ملے جس کی بنیاد پر ان کے خلاف مقدمہ چلایا جائے اس لئے خفیہ ای میل کے معاملے کو یہیں ختم کیا جا رہا ہے۔

یہ خط کہ جو امریکہ کے صدارتی انتخابات کے لیے ووٹنگ شروع ہونے سے اڑتالیس گھنٹے قبل لکھا گیا ہے، یہ ظاہر کرتا ہے کہ ایف بی آئی نے ہلیری کلنٹن کی نئی ایمیلز کے بارے میں اپنی تحقیقات مکمل کر لی ہیں اور اس کے اس خط سے نئی ایمیلز کا معاملہ اب یہیں پر ختم ہو گیا ہے۔

تقریبا دس روز قبل امریکی کانگریس کے نام ایک خط میں ہلیری کلنٹن کی مزید نئی ایمیلز ملنے کی بات کی تھی جس سے امریکہ کے صدارتی انتخابات کی مہم میں سنسنی پھیل گئی تھی۔ اس وقت یہ اعلان کیا گیا کہ ایف بی آئی کو ہلیری کلنٹن کی دست راست ہما عابدین کے سابق شوہر انتھونی وینر کے جنسی اسکینڈلز کی تحقیق کے دوران کئی لاکھ مشکوک ایمیلز ملی ہیں اور وہ مسئلے کی حساسیت اور مزید تحقیقات کے لیے ہلیری کلنٹن کی ایمیلز کے مسئلے کا دوبارہ جائزہ لے رہی ہے۔ اس خبر کے منظرعام پر آنے کے بعد انتخابی مہم میں ہلیری کلنٹن کو شدید دھچکا پہنچا اور سروے رپورٹوں میں ریپبلکن امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ پر ان کی برتری میں کافی کمی واقع ہو گئی۔ ڈیموکریٹس نے ایف بی آئی پر انتخابات پر اثرانداز ہونے کی کوشش کرنے کا الزام لگایا۔ اس کے مقابلے میں ریپبلکنز نے جیمز کومی کے اس اقدام کی تعریف کی۔

اس وقت یہ معاملہ برعکس ہو گیا ہے۔ ہلیری کلنٹن نے ایف بی آئی کے نئے فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے جبکہ ڈونلڈ ٹرمپ نے اس کی مذمت کی ہے۔ ڈیموکریٹس کو امید ہے کہ امریکی کانگریس کے نام ایف بی آئی کے حالیہ خط سے ہلیری کلنٹن پر امریکہ کی قومی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے کا الزام دور ہو جائے گا اور عوام میں ان کی مقبولیت میں اضافہ ہو گا۔ جبکہ ریپبلکنز خاص طور پر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسے ہلیری کلنٹن کی حمایت قرار دیا ہے۔

البتہ ابھی تک معلوم نہیں ہے کہ انتخابات سے اڑتالیس گھنٹے قبل ایف بی آئی کے موقف میں تبدیلی کس حد تک ہلیری کلنٹن کی متاثر ہونے والی ساکھ کو بہتر بنا سکے گی۔ خصوصا اس لیے کہ اعداد و شمار کے مطابق امریکہ کے بیس کروڑ ووٹروں میں سے چار کروڑ سے زائد ووٹر قبل از وقت ووٹنگ کا حق استعمال کرتے ہوئے اپنا ووٹ ڈال چکے ہیں۔ یہ توقع کی جا سکتی ہے کہ ان چار کروڑ رائے دہندگان میں سے بہت سے ووٹروں نے ایف بی آئی کے ہلیری کلنٹن کے بارے میں موقف سے متاثر ہو کر ان کے مقابل امیدوار کو ووٹ دے دیا ہو۔

بہرحال اس سے قطع نظر کہ ہلیری کلنٹن کی ایمیلز کے بارے میں امریکی کانگریس کے نام جیمز کومی کا حالیہ خط، دو ہزار سولہ کے حساس امریکی صدارتی انتخابات پر کس حد تک اثرانداز ہو گا اب بھی ان دو سوالوں کا جواب نہیں ملا ہے کہ ایف بی آئی نے کیوں دوبارہ تحقیقات کا فیصلہ کیا اور کیوں تحقیقات کو دوبارہ ختم کر دیا۔

ان دو سوالوں کے جواب شاید امریکی حکومت کے خفیہ شعبوں میں اقتدار کی جنگ کے وسیع اور پیچیدہ پہلوؤں کو روشن کر سکیں۔