افغانستان میں طالبان کی جنگ جاری رہنے کے پوشیدہ نقصانات
افغانستان کی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ ملک کے مختلف علاقوں میں طالبان کے حملوں میں شدت نے جہاں افغانستان کی سیکورٹی کو براہ راست خطرے میں ڈالا ہے وہیں پر وسیع پوشیدہ نقصانات پہنچائے ہیں کہ جن پر عالمی حلقوں کو توجہ دینی چاہیے۔
افغان صدر کے نائب ترجمان شاہ حسین مرتضوی کے مطابق طالبان جس علاقے میں بھی داخل ہوتے ہیں تو وہاں موجود اسکولوں، مساجد، طبی اور پیداواری مراکز سمیت اس کے بنیادی ڈھانچے کو تباہ کر دیتے ہیں۔ درایں اثنا افغانستان کے مختلف علاقوں پر طالبان کے حملے جاری رہنے کی وجہ سے امریکہ نے بھی طالبان کا مقابلہ کرنے کے بہانے نہ صرف مخلتف علاقوں میں اپنے فوجیوں کی تعداد میں اضافہ کیا ہے بلکہ اپنے حملے بھی تیز کر دیے ہیں۔ قندوز پر امریکہ کے تازہ ترین حملے میں چالیس سے زائد عام شہری مارے گئے ہیں۔
افغان حکام کے خیال میں جنگ زدہ علاقوں کے پانچ لاکھ سے زائد افراد کے بےگھر ہونے کو مدنظر رکھتے ہوئے طالبان کے حملون کے پوشیدہ نقصانات بہت ہی خوفناک ہیں کہ جن پر عالمی برادری نے اپنی آنکھیں بند کر رکھی ہیں۔ افغانستان میں اقوام متحدہ کے ادارے یوناما (UNAMA) کی قندوز پر امریکی حملے کا جائزہ لینے کی درخواست اگرچہ افغان عوام کے مصائب اور مشکلات پر اس ادارے کی توجہ کو بیان کرتی ہے لیکن افغانستان کی حکومت اور عوام کو اس بین الاقوامی ادارے سے توقع ہے کہ وہ اس ملک کے مسائل اور مشکلات کے حل میں مدد دینے کے لیے زیادہ کوششیں انجام دے گا اور صرف بیانات جاری کرنے اور ایسے اقدامات کرنے پر اکتفا نہیں کرے گا کہ جس سے افغان عوام کا غصہ کم ہو۔
یوناما کے سربراہ اور افغانستان کے امور میں اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے خصوصی نمائندے تادامیچی یاماموتو نے قندوز میں امریکہ کے تازہ ترین وحشیانہ حملے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے عام شہریوں کی ہلاکت کو ناقابل قبول قرار دیا اور اس بات پر زور دیا کہ اس قسم کے حملے افغان میں قیام امن کے لیے کی جانے والی کوششوں کو کمزور کرتے ہیں۔
لیکن افغانستان میں غیرملکی فوج کے ترجمان جنرل چارلس کلیولینڈ نے عام شہریوں کی جان کی حفاظت کے لیے بین الاقوامی قوانین کو نظرانداز کرتے ہوئے قندوز میں عام شہریوں کے قتل عام کی صرف توجیہ پیش کی اور اسے ناگزیر جنگی نقصان سے تعبیر کیا۔ ان کے بقول طالبان عام شہریوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کر رہے ہیں کہ جو طالبان کی جنگ کے پوشیدہ نقصانات میں شمار ہوتا ہے۔
افغان عوام کی نظر میں امریکہ کے فوجی کمانڈر کا یہ دعوی افغانستان میں ان کے جرائم جاری رہنے کا جواز پیش نہیں کر سکتا، کیونکہ بین الاقوامی قوانین کے مطابق امریکی فوجیوں کو عام شہریوں پرحملے سے گریز کرنا چاہیے۔ اس کے علاوہ افغانستان کی وزارت دفاع کے ساتھ ہونے والے امریکی فوج کے معاہدے کے مطابق امریکی فوجیوں کو رہائشی اور غیرفوجی علاقوں پر حملے کرنے سے روکا گیا ہے اور ہر قسم کے حملے سے پہلے انھیں افغان فوج کے ساتھ ہم آہنگی کرنی چاہیے، لیکن عملی طور پر وہ افغانستان کی قومی حاکمیت اور خودمختاری کی خلاف ورزی کرتے ہیں۔
اگرجہ افغان حکام نے طالبان کے حملوں سے ہونے والے نقصان کا تخمینہ تیس ملین ڈالر لگایا ہے لیکن افغان عوام کے خیال میں ان حملوں میں ہونے والا جانی نقصان ان کے مالی نقصان سے کہیں زیادہ ہے، کیونکہ طالبان بھی عوام کو قتل کرتے ہیں اور غیرملکی فوجی بھی طالبان کا مقابلہ کرنے کے بہانے عام شہریوں پر حملے کرتے ہیں۔
افغانستان کے بعض سیاسی و صحافتی حلقے قندوز میں امریکی فوجیوں کے ہاتھوں عوام کے قتل عام کو حال ہی میں ہلاک ہونے والے دو امریکی فوجیوں کا اندھا انتقام قرار دیتے ہیں۔
بہرحال افغانستان میں شدت پسند اور دہشت گرد گروہوں کے ہاتھوں افغانستان میں تین سو دو اسکولوں کی تباہی اور ہزاروں افغان بچوں کو تعلیم کے زیور سے محروم کرنا ان گروہوں کے حملوں کے پوشیدہ پہلوؤں کا حصہ ہیں کہ جس کے افغانستان کی آئندہ نسل پر ناقابل تلافی اثرات مرتب ہوں گے اور یہ چیز طالبان کے خودمختاری کے نام نہاد دعووں سے مکمل تضاد رکھتی ہے کہ جو خود کو پشتون کہتے ہیں۔