کابل واشنگٹن سکیورٹی معاہدہ ختم کرنے کا مطالبہ
افغانستان کی سینیٹ کے بعد اب افغان پارلیمنٹ کے اراکین نے بھی واشنگٹن کابل سکیورٹی معاہدے پر نظر ثانی کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
افغانستان کی سینیٹ کے بعد اب افغان پارلیمنٹ کے اراکین نے بھی واشنگٹن کابل سکیورٹی معاہدے پر نظر ثانی کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ افغانستان کی پارلیمنٹ میں بلخ کے نمائندےمولوی عبدالرحمن رحمانی نے کہا ہےکہ افغانستان میں امریکہ بے شمار جرائم کا مرتکب ہوا ہے اور چونکہ واشنگٹن کابل سکیورٹی معاہدے سے افغانستان کی کوئی سکیورٹی ضرورت پوری نہیں ہوئی ہے لھذا اس پر نظر ثانی کرنی چاہیے۔
صوبہ اوروزگان کے نمائندے عبیداللہ بارکزی نے بھی کہا ہے کہ امریکہ افغانستان میں امن و سکیورٹی قائم کرنے میں ناتواں ہے لھذا ہمیں اپنے جنگ زدہ ملک میں امریکہ کی موجودگی کے جاری رہنے کے بارے میں فیصلہ کرنا چاہیے۔ واضح رہے افغان سینٹ کے اراکین نے بھی شہر قندوز کے قریب امریکہ کے فضائی حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ کے ساتھ سکیورٹی معاہدے کو کالعدم قراردیا جائے۔ قندوز کے قریب امریکہ کے فوجی حملے میں تقریبا چالیس عام شہری جاں بحق ہوئے تھے۔کابل اورواشنگٹن کے درمیان سکیورٹی معاہدہ پردو سال قبل افغانستان کی قومی اتحاد کی حکومت کی تشکیل کے بعد دستخط ہوئے تھے۔اس معاہدے میں ایسی شقیں شامل ہیں جن کی رو سے افغانستان میں امریکہ کی مدد سے امن قائم کیا جائے گا۔ قومی اقتدار اعلی کا احترام، افغانستان کی طویل مدت اقتصادی اور سماجی ترقی اور امریکی فوجیوں کی جانب سے افغان تہذیب کا احترام بھی اس معاہدے میں شامل ہے۔ امریکہ ان شقوں پر عمل نہیں کررہا ہے اور بلکہ سینیٹ اور پارلیمنٹ کے اراکین کے مطابق امریکی فوجی بذات خود افغانستان میں بدامنی کا سبب بن چکے ہیں۔عام شہریوں پر امریکہ کے حملے جاری رہنے سے افغاں عوام شدید غم و غصے میں مبتلا ہوگئے ہیں اور امریکیوں کے خلاف ان کی نفرت میں روز بروز اضافہ ہوتا جارہا ہے اور اب کابل حکومت واشنگٹن کے ساتھ سکیورٹی معاہدہ کرنے کی بناپر مختلف حلقوں کے دباؤ میں ہے۔
جس طرح سے کہ حکومت افغانستان کو توقع تھی نہ صرف واشنگٹن کے ساتھ سکیورٹی معاہدہ افغانستان سے قیام امن میں مدد نہین مل رہی ہے بلکہ دہشتگرد اور تشدد پسند بدستور افغان عوام کے قتل عام میں مشغول ہیں۔
افغانستان میں بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ ملت افغاں پر سکیورٹی معاہدہ تھوپنے سے امریکہ کا ھدف یہ ہے کہ افغانستان میں باقاعدہ اپنی فوجی موجودگی برقرار رکھنے کےلئے فوجی اڈے قائم کرے۔ اسی وجہ سے کابل واشنگٹن سکیورٹی معاہدے کے مخالفین کا کہنا ہے کہ شروع ہی سے یہ معاہدہ امریکہ کے حق میں یکطرفہ تھا۔ واشنگٹن نے عملی طور سے ثابت کردیا ہے کہ وہ افغانستان میں سماجی اور اقتصادی مسائل حل کرنے کی سمت قدم نہیں بڑھا رہا ہے کیونکہ اگر افغانستان میں امن قائم ہوجائے گا تو اس ملک میں اسکی فوجی موجودگی کا بھی کوئی جواز نہیں رہے گا۔ ادھر افغانستان میں بہت سے سیاسی اور فوجی حلقوں کا کہنا ہےکہ کابل واشنگٹن سکیورٹی معاہدہ حماقت آمیز ہے اور اس سے افغانستان امریکہ کی کالونی میں تبدیل ہوجاتا ہے۔ ان حلقوں کا یہ ماننا ہے کہ امریکہ نے افغانستان پر سکیورٹی معاہدہ تھوپ کر اس ملک کو اپنے فوجی اڈے میں تبدیل کرنے کا پلان بنایا ہے اور اب یہ خدشہ ظاہر کیا جارہا ہےکہ امریکہ تکفیری دہشتگرد گروہ داعش کو افغانستان بھیج کر اس راستے انہیں مرکزی ایشیا اور قفقاز منتقل کرےگا۔ اگر امریکہ ایسا کرتا ہے تو پھر چین کی سرحدوں تک پورے علاقے کی سکیورٹی خطرے میں پڑ جائے گی۔