انصاراللہ کا وفد مسقط میں
https://urdu.sahartv.ir/news/annalys-i257185-انصاراللہ_کا_وفد_مسقط_میں
یمن میں سعودی عرب اور اسکے پٹھو ایسے عالم میں جرائم ڈھا رہے ہیں کہ یمن کے بحران کو حل کرنے کے لئے دوبارہ سفارتی کوششیں شروع ہوچکی ہیں۔
(last modified 2025-02-27T04:56:45+00:00 )
Nov ۰۸, ۲۰۱۶ ۱۳:۵۴ Asia/Tehran
  • انصاراللہ کا وفد مسقط میں

یمن میں سعودی عرب اور اسکے پٹھو ایسے عالم میں جرائم ڈھا رہے ہیں کہ یمن کے بحران کو حل کرنے کے لئے دوبارہ سفارتی کوششیں شروع ہوچکی ہیں۔

 

یمن میں سعودی عرب اور اسکے پٹھو ایسے عالم میں جرائم ڈھا رہے ہیں کہ یمن کے بحران کو حل کرنے کے لئے دوبارہ سفارتی کوششیں شروع ہوچکی ہیں۔اس سلسلے میں یمن کی عوامی تحریک انصاراللہ کا وفد عمان کے حکام سے صلاح و مشورہ کرنے مسقط پہنچ گیا ہے۔ انصاراللہ کے دورہ مسقط سے پتہ چلتا ہےکہ یمن کے امور میں اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے اسماعیل ولد شیخ کو صنعا اور ریاض میں مذاکرات سے کوئی نتیجہ حاصل نہیں ہوا ہے۔ تحریک انصاراللہ کی سیاسی کونسل کے رکن محمد البخیتی نے کہا کہ یہ صحیح ہے کہ اسماعیل ولد شیخ کی تجویز سے عبد ربہ منصور ہادی کی حکومت ختم ہوجائے گی لیکن اس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ نئی حکومت کی تشکیل پر سعودی عرب نگرانی کرے گا۔ سعودی عرب اور اس کے حامیوں کے پروپگینڈے اس بات کا سبب بنے ہیں کہ اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے کی تجویز متوازن اور جامع نہ ہو اور عملا اس کا جھکاو سعودی عرب کی طرف ہو۔

سعودی عرب اور اس کے  پٹھووں نے چھبیس مارچ دوہزار پندرہ سے یمن پر بے تحاشہ حملے شروع کئے ہیں اور اسی دن سے مستعفی اورمفرور صدر عبدربہ منصورہادی اورانصاراللہ کے درمیان لڑائی بھی جاری ہے۔ عبد ربہ منصور ہادی کے فوجیوں کو سعودی  عرب کے  جارح اتحاد کی حمایت بھی حاصل ہے۔سعودی عرب نے بعض ملکوں کے ساتھ مل کر مارج دوہزار پندرہ سے یمن پر حملے شروع کر رکھے ہیں تا کہ وہ منصور ہادی کو دوبارہ اقتدار میں واپس لاسکے۔اس جنگ سے سعودی عرب کا ھدف بظاہر یمن میں قانونی  حکومت کو واپس لانا ہے لیکن سعودی عرب کی یہ کارروائی اس وجہ سے غیر قانونی ہے کہ پہلے تو منصور ہادی کی صدارت ختم ہونے کے بعد ان کی مدت صدارت میں ایک سال کی توسیع کی گئی تھی اور اب یہ مدت بھی ختم ہوگئی ہے اس کے علاوہ انہوں نے اس مدت میں خود اپنے عھدے سے استعفی دیدیا تھا۔ بہرحال سعودی عرب کی مہم جوئی چاہے جس بہانے سے کیوں نہ ہو اس کا نتیجہ یہ ہے کہ آل سعود کی مجرمانہ جارحیت کے نتیجے میں ہزاروں یمنی شہری جن میں عورتیں بچے اور بوڑھے شامل ہیں شہید یا زخمی ہوئے ہیں جبکہ دسیوں ہزار  بے گھر بھی ہوئے ہیں۔یہی نہیں آل سعود اور اسکے جارح اتحاد کے حملوں میں یمن کی بنیادی، خدماتی اور طبی  تنصیبات بھی بری طرح تباہ ہوگئی ہیں۔

آل سعود اپنے جرائم میں شدت لاکر اپنے فائدے میں میدان جنگ میں تبدیلیاں لانا چاہتی ہے۔ تا کہ کسی بھی طرح کا سیاسی راہ حل اس کی برتری پر منتج ہو اور اس کے فائدہ میں رہے۔ وہ اس طرح اپنے لالچ بھرے نظریات اور مفادات کو یمن کے عوام پر مسلط کرنا چاہتی ہے۔ آل سعود کی حکومت تمام تر جرائم کے باوجود یمن کی عوام کی استقامت کے سامنے ناکام ہوچکی ہے اور عوامی تحریک انصاراللہ ہر طرح سے سعودی عرب کے مقابل کامیاب ہے اور برتر پوزیشن میں ہے۔ ایسے ماحول میں بحران یمن کے سیاسی راہ حل کے لئے نئ سفارتی کوششیں بھی شروع کی گئی ہیں اور اسی تناظر میں یمن کی عوامی تحریک انصاراللہ نے اپنا وفد مسقط بھیجا ہے تا کہ یمن میں امن قائم کرنے کے لئے عالمی سطح پر ثالثی کی کوششیں شروع ہو‎سکیں۔ اس سلسلے میں تحریک انصاراللہ کے ترجمان نے اعلان کیا ہے کہ انصاراللہ کے وفد کا دورہ مسقط اقوام متحدہ کی تجویز کا جائزہ لینے کے لئے انجام پارہا ہے اور ان کی تحریک نے اس تجویز کا جائزہ لیا ہے اور اپنے اعتراضات سے آگاہ کردیا ہے۔نئی سفارتی کوششوں میں تحریک انصاراللہ کی شرکت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ یہ عوامی تنظیم  سعودی عرب کی جارحیت کے باوجود مذاکرات کی پابند رہی ہے۔ اور ہمیشہ سے یمن کے بحران کو حل کرنے کے لئے مذاکرات پر تاکید کرتی رہی ہے۔

عمان کی نئی ثالثی کی کوششیں ایسے عالم میں انجام پارہی ہیں کہ عمان کی پہلی تجویز کے مطابق پہلے یمن میں جنگ بندی عمل میں آئے اور اس کے بعد یمنی فریقوں میں گفتگو شروع ہو۔ یہ تجویز بھی سعودی عرب کے حملوں کے جاری رہنے سے ناکام ہوگئی ۔ یمن میں جنگ بندی عمل میں لانے اور امن مذاکرات شروع کرانے کی اقوام متحدہ کی کوششیں اب تک ناکام رہی ہیں اور  یہ ایسے عالم میں ہے کہ یمن پر آل سعود اور اس کے پٹھوؤں کی جارحیت کے مقابل اقوام متحدہ اپنے کمزور موقف سے سعودی جارحیت میں شریک ہوچکی ہے۔