امریکہ اور روس ویٹو میں اصلاحات کے مخالف
https://urdu.sahartv.ir/news/annalys-i257257-امریکہ_اور_روس_ویٹو_میں_اصلاحات_کے_مخالف
متحدہ کی سلامتی کونسل میں ویٹو اختیار میں محدودیت لانے کی تجویز ٹھکرادی ہے۔
(last modified 2025-02-27T04:56:45+00:00 )
Nov ۰۹, ۲۰۱۶ ۰۸:۴۶ Asia/Tehran
  • امریکہ اور روس ویٹو میں اصلاحات کے مخالف

متحدہ کی سلامتی کونسل میں ویٹو اختیار میں محدودیت لانے کی تجویز ٹھکرادی ہے۔

 

امریکہ اور روس نے اقوام -فرانس اور برطانیہ نے یہ تجویز پیش کی تھی کہ ویٹو کے اختیار کے استعمال میں کچھ تبدیلیاں لائی جائیں لیکن امریکہ اور روس نے اس تجویز کو مسترد کردیا۔اسی طرح چـین کے نمائندہ وفد نے بھی کہا ہےکہ سلامتی کونسل میں اصلاحات کے لئے ناپختہ تجاویز پیش نہ کی جائیں۔ سلامتی کونسل کے مستقبل اراکین کے اختیارات میں اصلاحات لانا اقوام متحدہ کے سامنے ایک بڑا مسئلہ ہے جسے اسے حل کرنا ہے۔ اس وقت جو اقوام متحدہ ہمارے سامنے ہے وہ جنگ سرد کے زمانے کی میراث ہے اور آج کے تقاضوں کو پورا نہیں کرتی۔ چونکہ دنیا چند قطبی نظام کی طرف جارہی ہے لھذا اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اصلاحات لانا نہایت اہمیت کا حامل ہے۔ سلامتی کونسل اقوام متحدہ کا بنیادی رکن ہے اور اس کا کام بین الاقوامی امن و سکیورٹی کو برقرار رکھنا ہے لیکن اس کی موجودہ ترکیب بالخصوص مستقل اراکین کی ترکیب دنیا کے اکثر ملکوں کو نامنظور ہے۔ اسی وجہ سے بہت سے ملکوں بالخصوص بعض صنعتی ملکوں نے جیسے جاپان اور جرمنی نیز نئی اقتصادی طاقتیں جیسے برازیل ہندوستان اور جنوبی افریقہ اقوام متحدہ میں نئی اصلاحات کے خواہاں ہیں اور ان کا کہنا ہےکہ دنیا کے حقائق کے مطابق یہ اصلاحات آنی چاہیں۔اقوام متحدہ کے موجودہ ڈھانچے پر ملکوں کے اعتراض الگ الگ طرح کے ہیں۔امریکہ اقوام متحدہ پر یہ الزام لگاتا ہے کہ اقوام متحدہ چھوٹے ملکوں سے متاثر ہے جن کو مساوی ووٹ کا حق دیا گیا ہے۔ اقوام متحدہ کے عام رکن ممالک جو اس تنطیم میں بھرپور کردار ادا کرنا چاہتے ہیں انہیں پانچ مستقل اراکین کو ویٹو کا اختیار دئے جانے پر اعتراض ہے، ان ملکوں کا کہنا ہےکہ اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل کا ڈھانچہ دوبارہ تیار کیا جانا چاہیے اور انہیں سلامتی کونسل میں شامل کیا جانا چاہیے جو کہ اقوام متحدہ کا اجرائی بازو ہے۔ زیادہ تر ممالک جن اصلاحات کے خواہاں ہیں سلامتی کونسل کے اختیارات میں اصلاحات، ویٹو پاور کا خاتمہ اور مستقل اراکین کی تعداد میں اضافہ کرنا ہے۔ سلامتی کونسل میں اصلاحات کی بات، عراق پر حملے رکوانے میں اس کونسل کے ناکام رہے میں جارج بش سینئر کے زمانے میں پیش کی گئی تھی ۔ واضح رہے بعض علاقے اور براعظموں کا کوئی مستقل نمائندہ سلامتی کونسل میں نہیں ہے۔ مثال کے طور پر براعظم افریقہ میں تر پن ممالک ہیں لیکن ان کا کوئی بھی نمائندہ سلامتی کونسل میں مستقبل حیثیت سے نہیں ہے۔ براعظم یورپ میں اڑتالیس ملک ہیں جبکہ اس کے دو ممالک سلامتی کونسل میں مستقل ممالک کی حیثیت سے ہیں اور تیسری یہ ایشیا اوربحرالکاہل میں چھپن ممالک میں صرف چین سلامتی کونسل میں مستقبل رکن ہے۔امریکہ بھی براعظم امریکہ کے ملکوں میں واحد ملک ہے جو سلامتی کونسل کا رکن ہے جس سے اس کے غلط فائدہ اٹھانے کی زمین ہموار ہوئی ہے۔اسلامی ممالک بھی جن کی آبادی  تقریبا سات سو ملین افراد تک پہنچتی ہے ان کے پاس بھی سلامتی کونسل کی  ایک بھی دائمی نشست نہیں ہے۔التبہ ان ملکوں نے بارہا سلامتی کونسل میں اپنے لئے ایک نشست کی مانگ کی ہے ۔ اقوام متحدہ کو  اکہتر برسوں قبل بظاہر امن عالم کی حفاظت کرنے کے قائم کیا گیا تھا دنیا میں بنیادی تبدیلیوں کے آنے کے باوجود اس میں کوئی خاص تبدیلیاں نہیں آئی ہیں اور نہ ہی اس کے ڈھانچے میں کوئی تغیرات آئے ہیں اسکی وجہ یہ ہے کہ اقوام متحدہ کے دائمی رکن اسے ہتھکنڈے کے طور پر استعمال کرتے ہیں کیونکہ انہیں ویٹو کا اختیار حاصل ہے اسی وجہ سے بہت سے ممالک سلامتی کونسل میں اور خآص طور سے اس کے ویٹو کے اختیارات میں بنیادی تبدیلیوں کے خواہاں ہیں۔