امریکی صدارتی انتخابات میں ٹرمپ کامیاب
امریکہ کے صدارتی امید وار ڈونالڈ ٹرمپ سرانجام مہنیوں کی انتخابی سرگرمیوں اور سیاسی اقتصادی اور سماجی بحرانوں سے نقصان اٹھانے والوں کا دفاع کرکے صدارتی انتخابات جیت گئے ہیں۔
۔ بہت سی پیشین گوئیوں اور سیاسیات و عمرانیات کے ماہرین کی سروے رپورٹ کے برخلاف ٹرمپ کو کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ اس کے باوجود اس کامیابی کی توقع کی جاسکتی تھی۔ جب یہ اعلان کیا گیا کہ امریکن ڈریم چکنا چور ہوگیا ہے اور سیاسی اداروں جیسے صدرمملکت اور کانگریس پر عوام کے اعتماد میں کافی کمی آئی ہے تو یہ توقع کی جاسکتی تھی کہ کسی دن یہ غصہ رنگ لائے گا اور یہ آٹھ نومبر دوہزار سولہ کو دیکھنے کوملا۔
نومبر آٹھ دوہزار سولہ کے امریکہ کے صدارتی انتخابات امریکہ کے اکثر صدارتی انتخابات کے برخلاف صدارت کی کرسی حاصل کرنے کے لئے پارٹی کی جدوجہد نہیں تھی ہرچند یہی کرسی امریکہ کی سیاسی پارٹیوں اور سیاسی دھڑوں کے لئے اہمیت کی حامل ہے۔لیکن اگر عوام کی نگاہ سے دیکھا جائے تو جن گروہوں کو نظر انداز کردیا گیا تھا یا وہ لوگ جن کی فریاد سننے والا کوئی نہیں تھا یہ انتخابات ان کے لئے زندگی اور موت کی کشمکش بن گئے تھے۔ اب دسیوں لاکھ امریکیون کے دل میں یہ امید پیدا ہوگئی ہے کہ ماضی کی غلطیوں کا بھرپور تدارک ہوگا۔ٹرمپ کے حامیوں کو توقع ہے کہ ٹرمپ اپنے وعدوں پر عمل کریں گے تا کہ اس کے نتیجے میں ان کی اقتصادی صورتحال بہتر ہوگی اور روز گار ملے گا، روزگار کے مواقع کو ملک سے باہر نہیں جانے دیا جائے گآ اور نہ ہی بیرونی منصوبوں پر عمل کیا جائے گا جن پر کافی پیسہ خرج ہوتا ہے، ٹرمپ کے حامیوں کو یہ بھی امید ہے کہ غیر قانونی پناہ گزینوں کو ملک سے باہر نکالاجائے گا اور ان کے امریکہ میں داخل ہونے پر پابندی لگائی جائے گی جبکہ حقیقی معنی میں دہشتگرد گروہ داعش سے مقابلہ کرکے دہشتگردی سے مقابلہ کیا جائے گا۔ ان میں ہر منصوبے پر عمل درآمد جیسا کہ ٹرمپ نے وعدے کئے ہیں امریکہ کے مستقبل میں خاطر خواہ تبدیلیاں لاسکتا ہے۔ان حقائق کے پیش نظر ابھی تک یہ معلوم نہیں ہے کہ ٹرمپ کیا ان وعدوں پر عمل کرسکتے ہیں یا حقیقت میں عمل کرنا چاہتے ہیں۔امریکہ میں سیاسی روایت کے مطابق منتخب صدر کامیابی کے بعد اپنے وعدوں کی فہرست میں سے بہت سے وعدے بھول جاتا ہے اور ان پر عمل نہیں کرتا یا حکومت کے مخالفوں کی رکاوٹوں کے بہانے بنا کر ان پر عمل کرنے سے گریز کرتا ہے۔ اسی روایت کے مطابق چہ بسا ٹرمپ کل ہی سے بہت سے متنازعہ وعدوں کو بھلادیں۔امریکہ کے موجودہ صدر باراک اوبامانے دوہزار آٹھ میں بھی بڑے بڑے وعدہ کئے تھے جیسے کہ انہوں نے کہا تھا کہ وہ بدنام زمانہ جیل گوانتانامو جیل کو بند کردیں گے، سرحد کے پار جنگیں ختم کردیں گے اور غیر قانونی پناہ گزینوں کے مسائل حل کردیں گے انہوں نے ان میں سے کسی بھی وعدے پرعمل نہیں کیا، اسی وجہ سے یہ توقع کی جاسکتی ہےکہ ڈونالڈ ٹرمپ کے کچھ وعدوں کا انجام بھی اوباما کے وعدوں کی طرح ہوگا۔ اس کے باوجود اگر ٹرمپ اپنے منصوبوں پر عمل کرنے کا پختہ عزم رکھتے ہوں تو ہوسکتا ہےکہ انہیں سیاسی اقتصادی اسٹیبلشمینٹ کی جانب سے مزاحمت کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے جس کا نام انہوں نے واشنگٹن اور نیویارک کی بدعنوان اور کرپٹ اسٹیبلشمینٹ رکھا ہے۔ اس بات کی قومی امید ہےکہ امریکہ پر حاکم سرمایہ دارانہ طبقہ بر ہم عوام کے مطالبات کے سامنے سرتسلیم خم نہ کرے اور مختلف طرح سے ان کے نئے نئے مطالبات کو منحرف کردے یا سرے سے ختم کردے۔ اس صورت میں ٹرمپ کی ناکامی سے عوام مزید برہم ہوجائیں گے۔