ایران اور مشرقی یورپ کے ملکوں میں تعاون بڑھانا ضروری
https://urdu.sahartv.ir/news/annalys-i257320-ایران_اور_مشرقی_یورپ_کے_ملکوں_میں_تعاون_بڑھانا_ضروری
اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف یورپی ملکوں کے دوروں کے دوسرے مرحلے پر منگل کی رات رومانیہ کے دارالحکومت بخارسٹ پہنچے۔
(last modified 2025-02-27T04:56:45+00:00 )
Nov ۰۹, ۲۰۱۶ ۱۳:۱۱ Asia/Tehran
  • ایران اور مشرقی یورپ کے ملکوں میں تعاون بڑھانا ضروری

اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف یورپی ملکوں کے دوروں کے دوسرے مرحلے پر منگل کی رات رومانیہ کے دارالحکومت بخارسٹ پہنچے۔

 

محمد جواد ظریف رومانیہ کے بعد اسلواکیہ اور جمہوریہ چک کا بھی دورہ کریں گے۔ اس سے قبل وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے گذشتہ جون میں یورپ کے چار ملکوں پولینڈ، فنلینڈ، سوئیڈن اور لتھوینیا کا دورہ کیا تھا۔ یہ دورے نئے مواقع فراہم کریں گے بالخصوص اقتصادی تعلقات بڑھانے میں مفید واقع ہونگے۔ ہر چند ان ملکوں کے ساتھ سیاسی لحاظ سے تعاون کوئی خاص نہ ہو لیکن خارجہ پالیسی کے شعبے میں مشترکہ مفادات پر توجہ کرکے جیسے دہشتگردی سے مقابلہ اور امن و سلامتی اور استحکام و اتحاد کو مضبوط بنایا جاسکتا ہے۔ یہ   چیلنج اب یورپ بھی پہنچ چکا ہے۔

ایران اور مشرقی پورپ کے ملکوں کے تعلقات اب تک محدود رہے ہیں اور اس کا جھکاو زیادہ تر تجارت کی طرف رہا ہے لیکن عالمی سطح پر آنے والی تبدیلیوں کو دیکھتے ہوئے جو کہ چندطرفہ تعاون کی طرف بڑھ رہی ہیں یہ تبدیلیاں علاقے اور عالمی سطح پر اتحاد و تعاون کا روپ پاسکتی ہیں۔چونکہ عالمی سطح پر امن و امان اور سکیورٹی کی بہت کی زیادہ اہمیت ہے لھذا علاقائی اور عالمی مسائل پر تبادالہ خیال کرنا بھی ان دوروں کے مقاصد میں شامل ہے۔اقتصادی لحاظ سے بھی کہا جاسکتا ہے کہ ایران ماضی سے مشرقی یورپ کے ملکوں کے ساتھ یورپ سے چین تک مصنوعات کی ٹرانزیٹ میں تعاون کرتا آیا ہے لیکن اب چونکہ مشترکہ جامع ایکشن پلان کے بعد نئی فضا وجود میں آچکی ہے لھذا باہمی تعلقات قائم کرنے کے لئے ایران اور مشرقی یورپی ملکون کا اشتیاق دیدنی ہے۔ اس نقطہ نظر سے بھی وزیر خارجہ محمد جواد ظریف کا دورہ مشرقی یورپ اقتصادی مواقع فراہم کرے گا مشرقی یورپ کے ملکوں کے ساتھ چھوٹے اور متوسط صنعتوں کے تعاون کے متعدد مواقع موجود ہیں۔ ماضی میں ایران نے مشرقی یورپ کے بعض ملکوں کے ساتھ صنعتی تعاون کیا ہے اب یہ تعاون نئے مذاکرات کی بنیاد بن سکتا ہے اسی سلسلے میں گذشتہ ایک ماہ میں ایران کے چیمبرس آف کامرس میں ایران اور ان ملکوں کے سفرا کے درمیاں مذاکرات انجام پاچکے ہیں اور ایران کے وزیر خارجہ کے ہمراہ ایک اقتصادی وفد مشرقی یورپ کے تین ملکوں کے دورہ پر گیا ہے۔ ایران کے نجی سیکٹرکے حلقے بھی جو بینکنگ، انرجی، ٹرانسپورٹ، اور فارمیسی ٹیکلز، معدنیات، گاڑیوں کے کل پرزے اور زراعت کی مشینوں میں کام کرتے ہیں وہ بھی اس وفد میں شامل ہیں۔اس نئی فضا میں یہ توقع رکھی جاسکتی ہے کہ وہ ممالک جو ایران کی معیشت میں تعاون کرنا چاہتے ہیں ان سے مفاہمتی نوٹ پر دستحط ہونگے

لیکن اس نکتے کو بھی ذہن میں رکھنا چاہیے کہ ایران نے اپنے اقتصادی منصوبے استقامتی معیشت پر بنائے ہیں اور اس کے یہ معنی ہیں کہ ایران کی اسی ملین کی منڈی پر نظر رکھنے والے اقتصادی کھلاڑیوں کی نگاہ محض صارف کلچر پر مبنی نہیں ہوسکتی۔ایران مشرقی یورپ کے ملکوں کے لئے مواقع فراہم کرنے کےساتھ ساتھ یہ بھی توقع رکھتا ہےکہ اس کے ساتھ دوطرفہ تعاون کیا جائے اور وین وین  win win پوزیشن سامنے آئے۔ ایران یورپ کے تعاون کے مقابل اسے علاقے  کی  منڈیوں تک دسترسی فراہم کرسکتا ہے اور ایران کے ساتھ تعاون کرنے والوں کو ایک فائدہ یہ بھی مل سکتا ہے  کہ ایران مرکزی ایشیا، قفقاز، ای سی اوممالک حتی کہ برصغیر ہند اور جنوب مغربی ایشیا کا راستہ ہے۔