ہندوستان و پاکستان کے درمیان کشیدگی میں اضافہ
https://urdu.sahartv.ir/news/annalys-i257344-ہندوستان_و_پاکستان_کے_درمیان_کشیدگی_میں_اضافہ
پاکستان سے مزید تین ہندوستانی سفارتکاروں کو نکال دیا گیا۔ہندوستان کے ان تین اور دیگر پانچ سفارتکاروں پراسلام آباد حکومت نے جاسوسی کا الزام لگایا ہے
(last modified 2025-02-27T04:56:45+00:00 )
Nov ۰۹, ۲۰۱۶ ۱۶:۴۶ Asia/Tehran
  • ہندوستان و پاکستان کے درمیان کشیدگی میں  اضافہ

پاکستان سے مزید تین ہندوستانی سفارتکاروں کو نکال دیا گیا۔ہندوستان کے ان تین اور دیگر پانچ سفارتکاروں پراسلام آباد حکومت نے جاسوسی کا الزام لگایا ہے

 

پاکستان سے مزید تین ہندوستانی سفارتکاروں کو نکال دیا گیا۔ہندوستان کے ان تین اور دیگر پانچ سفارتکاروں پراسلام آباد حکومت نے جاسوسی کرنے کا  الزام لگایا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ پاکستان میں ہندوستان کے پانچ سفارتکاروں کو آئندہ دنوں میں اپنے وطن کے لئے روانہ ہونا ہوگا۔ ہندوستانی سفارتکاروں کو ملک چھوڑنے کا فیصلہ سناتے ہوئے پاکستان کی وزارت خارجہ نے ہندوستان کے ناظم الامور کو طلب کرکے کشیمر کنٹرول لائین پر ہندوستان کی طرف سے جاری گولہ باری پر باضابطہ طور پر حکومت پاکستان کے اعتراض سے آگاہ کیا ہے۔

گذشتہ دو ہفتوں میں یہ پانچویں بار ہے کہ اسلام آباد حکومت نے ہندوستان کے ناظم الامور کو وزارت خارجہ طلب کیا ہے۔ پاکستانی وزارت خارجہ نے ہندوستانی ناظم الامور کوکشمیر کنٹرول لائن پر گولہ باری میں تین افراد کے مارے جانے کی اطلاع دیتے ہوئے انہیں حکومت پاکستان کے اعتراض سے باضابطہ طور پر آگاہ کیا۔پاکستان سے ہندوستان کے تین سفارتکاروں کو نکالے جانے سے معلوم ہوتا ہے کہ دونوں ملکوں میں سفارتکاروں کو نکالنے کی جنگ میں تیزی آگئی ہے۔بالخصوص اس وجہ سے کہ پاکستان میں ہندوستان سفارتکاروں پر جاسوسی کے الزام کے علاوہ فرقہ واریت پھیلانے کے بھی الزامات لگائے گئے ہیں نیز یہ بھی الزام لگایا گیا ہےکہ یہ سفارتکار  کابل اور بعض ہمسایہ ملکوں کے اسلام آباد سے تعلقات خراب کررہے ہیں۔پاکستانی حکومت ہندوستان پر یہ بھی الزام لگاتی ہے کہ ہندوستان، صوبہ بلوچستان اور سندھ میں انتہا پسندی کو ہوا دے رہا ہے۔ البتہ یہ صرف حکومت اسلام آباد نہیں ہے جس نے ہندوستانی سفارتکاروں پر جاسوسی کے الزامات لگائےہوں بلکہ ہندوستان کی حکومت نے بھی کچھ دنوں پہلے نئی دہلی میں پاکستانی سفارتکار محمد اختر پر جاسوسی کا الزام لگاتے ہوئے انہیں ناپسندیدہ عنصر قراردیا تھا اور انہیں ہندوستان سے نکال دیا تھا۔ محمود اختر نے کہا تھا کہ انہیں ہندوستان کی حکومت نے پاکستان روانہ ہونے سے پہلے ایک متن پڑھنے پر مجبور کیا تھا جس میں یہ لکھا گیا تھا کہ نئی دہلی میں چار پاکستانی سفارتکار پاکستانی انٹلجنس سے تعلق رکھتے ہیں۔

ہندوستان اور پاکستان کے درمیاں کشیدگی میں اضافہ ہونے اور ایک دوسرے کے سفارتکاروں کو جاسوسی کا ذمہ دار ٹہرانے سے ان ملکوں کے تعلقات کی سطح بہت نیچے تک آسکتی ہے جس کا ایک منفی پہلو دونوں ملکوں کے درمیاں سفارتی تعلقات کا منقطع ہونا ہے جس کے منفی نتائج برامد ہونگے۔  ہندوستان اور پاکستان کی جانب سے ایک دوسرے کے سفارتکاروں پر جاسوسی کے الزامات لگانے سے نئی دہلی اور اسلام آباد میں پاکستان اور ہندوستان کے سفارتخانے ایک دوسرے کو نقصان پہنچانے کے باضابطہ مراکز میں تبدیل ہوجائیں گے۔

اگر ہندوستان اور پاکستان ایک دوسرے کے سفارتکاروں پر جاسوسی کے الزامات لگانے کا سلسلہ بند نہیں کرتے ہیں تو ممکن ہے دونوں ملکوں کو تشدد آمیز اقدامات کا سہارا لینا پڑے۔۔