ٹرمپ کی کامیابی کے خلاف امریکہ میں احتجاج
امریکہ کے صدارتی انتخابات کے نتائج کے اعلان کے تھوڑی ہی دیر بعد اس ملک کے بعض شہروں میں لوگ سڑکوں پر نکل آئے اور ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف نعرے لگانے لگے-
پنسلوانیا ، کیلیفورنیا ، واشنگٹن اور اوریگان جیسی ریاستوں میں سیکڑوں ، عورتیں ، نوجوان، طلبہ اور دیگر سماجی گروہوں نے احتجاجی مظاہرے کئے - مظاہرین نے ٹرمپ کے کنزرویٹیو ، مہاجر دشمن اور نسل پرستانہ منصوبوں کے خلاف نعرے لگائے - مظاہرین کا یہ بھی کہنا تھا کہ ڈیموکریٹ پارٹی کی شکست خوردہ صدارتی امیدوار ہیلری کلنٹن کے مقابلے میں ٹرمپ کوعوام کے کم ووٹ ملے ہیں اس کے باوجود وہ وہائٹ ہاؤس پہنچ گئے ہیں - ان مظاہروں میں بعض تو " وال اسٹریٹ کے محاصرے" جیسی انصاف پسندانہ تحریک کو آئیڈیل بناتے ہوئے ٹرمپ کا گھیراؤ کرنے کی تحریک کی بات بھی کررہے تھے-
اس وقت ایسا نظر آتا ہے کہ جس الیکشن کو امریکہ میں سماجی کھائیوں کو پاٹنا تھا اور عوام میں پائی جانے والی ماضی کی تلخیوں کا کوئی راہ حل تلاش کرنا تھا اس وقت اسی الیکشن نے اختلافات اور ناراضگیوں کو بڑھا دیا ہے- اس سے قبل یہ پیشگوئی کی جا رہی تھی کہ ٹرمپ کے حامی ، انتخابات میں اپنے امیدوار کی شکست کی صورت میں سڑکوں پر آئیں گے اور سسٹم کے خلاف نعرے لگائیں گے لیکن اس وقت ڈیموکریٹ امیدوار کی شکست کے بعد یہ کلنٹن کے حامی ہیں جو سڑکوں پر نکل آئے ہیں- آٹھ نومبر کے انتخابات کے نتائج نے ان کے غم وغصے کو بڑھا دیا ہے کیونکہ دو مہینے بعد ایسا شخص امریکہ کے منصب صدارت پر براجمان ہوگا کہ جس نے کم ووٹ حاصل کئے ہیں اور یہ ایک ایسا موضوع ہے کہ جو لیبرل ڈیموکریسی کے اصول سے کھلا تضاد رکھتا ہے لیکن امریکہ کے انتخاباتی نظام کے قدیمی ڈھانچے کی بنا پر اس ملک میں اس کے عملی جامہ پہننے کا امکان موجود ہے-
البتہ امریکہ کے صدارتی انتخابات کے غیرجمہوری عمل پر احتجاج سے قطع نظر لیبرل جماعتیں ، اقلیتوں کے حقوق کے حامی ، نوجوان اور طلبہ ہرایک ، کچھ نہ کچھ وجوہات کی بنا پر ٹرمپ کی کامیابی اور امریکہ میں دائیں بازو کے انتہاپسند گروہ کے اقتدار میں آنے پر تشویش میں مبتلا ہیں- ڈونلڈ ٹرمپ اگرچہ ریپبلکن پارٹی کے امیدوار شمار ہوتے ہیں لیکن ٹی پارٹی کے نام سے موسوم دائیں بازو کے انتہاپسند دھڑے کی مدد و حمایت کے بغیر پارٹی کے اندر ہونے والی مخالفتوں پر قابو نہیں پا سکتے تھے اور انتخابات میں ڈیموکریٹ پارٹی کی امیدوار کو شکست نہیں دے سکتے تھے-
اس وقت دائیں بازو کے انتہاپسندوں کی نگاہیں ، مجریہ اور مقننہ کو اپنے کنٹرول میں لینے کے بعد اس ملک میں وفاقی اٹارنی جنرل کے خالی پڑے عہدے پر گڑی ہوئی ہیں تاکہ ایک کنزریٹیو جج کی تقرری کرکے امریکہ کے سب سے بڑے عدالتی و قانونی منصب کا کنٹرول ایک بار پھر اپنے ہاتھ میں لے لیں- کنزرویٹیو کے ہاتھوں میں امریکہ کی حاکمیت و اقتدار کے یکجا ہونے کا دور آنے کے سلسلے میں لیبرل گروہوں کو تشویش لاحق ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ حکومت کی فلاحی اور سستے میڈیکل انشورنس کی اسکیموں ، اسقاط حمل اور ہمجنس پرستوں کی شادی کے حق ، نسلی مساوات جیسے میدانوں میں حاصل ہونے والے ثمرات اور آخرکار ملک کا جمہوری نظام ہاتھ سے نکل نہ جائے-
اس بنا پر امریکہ میں دائیں بازو کے اقتدار میں آنے پر ردعمل میں، امریکہ میں بائیں بازو سے تعلق رکھنے والے افراد کی جانب سے وال اسٹریٹ کے محاصرے یا "سیاہ فاموں کی جان کی قیمت ہے" جیسی احتجاجی تحریکوں کا شروع ہونا غیر متوقع نہیں ہے- یہ اقدامات اگر ٹرمپ کی حکومت کا رویہ تبدیل ہونے پر بھی منتج نہ ہوں تو بھی امریکہ میں سماجی دوریاں بڑھائیں گے - امریکہ کے مختلف علاقوں میں بدھ کے دن سے ٹرمپ کی کامیابی کے ردعمل میں شروع ہونے والا احتجاج ، باقاعدہ احتجاجی تحریک کا رخ اختیار کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے خاص طور پر ایسی صورت میں کہ جب اس ملک میں نسلی تصادم اور سماجی عدم مساوات جیسی مشکلات دن بدن بڑھتی ہی جا رہی ہیں-