اسرائیل کے جارحانہ اقدامات پر شامی فوج کا انتباہ
https://urdu.sahartv.ir/news/annalys-i257425-اسرائیل_کے_جارحانہ_اقدامات_پر_شامی_فوج_کا_انتباہ
شام کے چیف آف آرمی اسٹاف نے صیہونی حکومت کو شام کی سرحدوں کے اندر بار بار جارحیت کرنے کے انجام کے بارے میں خبردار کیا ہے-
(last modified 2025-02-27T04:56:45+00:00 )
Nov ۱۰, ۲۰۱۶ ۱۱:۴۱ Asia/Tehran
  • اسرائیل کے جارحانہ اقدامات پر شامی فوج کا انتباہ

شام کے چیف آف آرمی اسٹاف نے صیہونی حکومت کو شام کی سرحدوں کے اندر بار بار جارحیت کرنے کے انجام کے بارے میں خبردار کیا ہے-

صیہونی حکومت کی فضائیہ نے بدھ کوکھلی جارحیت کرتے ہوئے قنیطرہ کے علاقے میں شامی فوج کے ایک اڈے کو نشانہ بنایا- شام کا بحران شروع ہونے کے بعد سے ہی صیہونی حکومت دمشق حکومت کے مخالف دہشتگردوں کی حمایت کرتے ہوئے جنگی علاقوں خاص طور سے جولان کو اپنی جارحیت کا نشانہ بناتی رہی ہے- صیہونی حکومت نے انیس سو سڑسٹھ کی جنگ میں شام پر قبضہ کیا اور انیس سو اکیاسی میں اسے اپنی سرزمین میں ضم کرلیا-

جولان کا علاقہ جوشام کے جنوب مغربی صوبے قنیطرہ میں واقع ہے، اسٹریٹیجک اہمیت کا حامل ہے اور اسی وجہ سے فلسطین پر قبضے کے شروع سے ہی صیہونی حکومت کے لئے مرکز توجہ رہا ہے- صیہونی حکومت کے جارحانہ اقدامات ایسے عالم میں انجام پا رہے ہیں کہ دو قراردادوں کی بنیاد پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں قانونی چارہ جوئی کے قابل ہیں یعنی قرارداد دوسوبیالیس اور تین سو اڑتیس کے مطابق جولان کی پہاڑیاں ، شام کا اور مقبوضہ علاقے کا ایک حصہ ہیں -

شام میں اسرائیل کی تسلط پسندی اورشام کی جولان کی پہاڑیوں پر قبضہ جاری رکھنے پرمبنی  صیہونی حکام کے بیانات ایسی حالت میں سامنے آرہے ہیں کہ شام کو مہینوں قبل سے مغرب ، عالمی صیہونیزم اورعلاقے میں ان کے ایجنٹوں کی سازشوں کی وجہ سے ایک بڑے داخلی بحران کا سامنا ہے- اس سازش کے تناظر میں شام میں بدامنی پیدا ہونے کے بعد ، کہ جو مارچ دوہزارگیارہ سے شروع ہوئی ہے ، صیہونی حکومت اوراس کی حامی مغربی حکومتیں عوام کے ایک طبقے کے کچھ احتجاجی مظاہروں سے ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے دہشت گردوں اور بلوائیوں کی مدد سے شام میں بدامنی پیدا کئے ہوئے ہیں-

شام کو داخلی بحرانوں میں الجھائے رکھنے کے لئے صیہونی حکومت کے فتنوں کے ساتھ ہی،  شام کے خلاف اس غاصب حکومت کے فوجی اقدامات میں شدت آنے سے اب اس بات میں کوئی شک نہیں رہ گیا ہے کہ شام کو صیہونیزم ، مغربی حکومتوں اور ان کی پیرو حکومتوں کی جانب سے خطرناک سازشوں کا سامنا رہا ہے- صیہونی حکومت نے، کہ جو بحران شام اور دہشت گرد اور تکفیری  گروہوں کی حمایت میں نمایاں کردار کی حامل رہی ہے، بارہا ان گروہوں کی حمایت سے شامی فوج اور استقامتی و مزاحمتی طاقتوں پر حملے کئے ہیں-

اسرائیل اس وقت بھی، شامی علاقوں منجملہ مقبوضہ فلسطین سے ملحق سرحدی علاقوں خاص طور سے جولان کے علاقے کو نشانہ بنا کر شام میں دہشت گردوں کی سرگرمیاں جاری رکھنے کا ایک ماحول بنانے میں کوشاں ہے- لیکن اسرائیل کے ان اقدامات پر شامیوں اور صیہونیت مخالف مزاحمتی طاقتوں نے سخت ردعمل ظاہر کیا ہے جس کے باعث یہ اقدامات عملی طور پر شام سے ملحق سرحدی علاقوں میں صیہونی حکومت کے دھول چاٹنے اور ان شامی علاقوں میں دہشت گردوں کی مزید شکست پر منتج ہوئےہیں-

شامی فوج کا اسرائیل کو انتباہ بھی میدان جنگ میں شامی فوج کی برتری خاص طور پر حالیہ مہینوں میں دہشت گردوں پر کاری ضربیں لگانے اور ضروری طاقت وصلاحیت کا حامل ہونے کا عکاس ہے- اس کے باوجود ان جارحیتوں سے نمٹنے میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا پس و پیش اور صیہونی حکومت کے غاصبانہ قبضے کے سلسلے میں صرف زبانی مذمت پر اکتفا کرنا ، اس کے نمائشی رویے کے جاری رہنے اور غاصب صیہونی حکومت کے مقابلے میں سلامتی کونسل کے سنجیدہ اقدام سے اجتناب کو ظاہر کرتا ہے - اس طرح کی کارکردگی باعث بنی ہے کہ صیہونی حکومت خود کو محفوظ محسوس کرے اور پوری جسارت و گستاخی سے علاقے میں اپنی تسلط پسندانہ پالیسیوں کو آگے بڑھاتی رہے-