پاکستانی فوج کا کراچی میں قیام امن کا وعدہ
پاکستانی فوج کے چیف آف آرمی اسٹاف جنرل راحیل شریف نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت کی مدد سے صوبہ سندھ کے صدر مقام کراچی میں بھی سیکورٹی بحال ہو جائے گی-
جنرل راحیل شریف نے کراچی کی سیکورٹی کے حالات کا جائزہ لینے کی غرض سے اس شہر کے دورے میں فوج کے ہیڈکوارٹر میں تقریرکرتے ہوئے وعدہ کیا کہ پاکستان کے تمام فوجی اور سیکورٹی ادارے صوبائی حکومت کی مدد سے کراچی میں شہریوں کو امن و سیکورٹی فراہم کریں گے- جنرل راحیل شریف نے صوبہ سندھ میں قانون پرعمل درآمد اور نظم و ضبط برقرار رکھنے کے لئے انجام پانے والی کوششوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ دہشتگردی مخالف کارروائیاں منجملہ کراچی میں گھر گھر تلاشی کا مقصد دہشت گردوں اور قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کو گرفتار کرنا ہے اور یہ سلسلہ جاری رہے گا-
پاکستانی فوج کے چیف آف آرمی اسٹاف کا دورہ کراچی، اس ملک کے صنعتی و تجارتی مرکز میں سیاسی اور سیکورٹی کے حالات خراب ہونے کی عکاسی کرتا ہے- دہشت گردوں کے مقابلے کے لئے شہرکراچی میں سیکورٹی اہلکاروں اور پولیس کی کارروائیاں ایسے حالات میں جاری ہیں کہ صوبہ سندہ کے صدر مقام کی شیعہ آبادی ، انتہاپسندوں کا مقابلہ کرنے کے بہانے سے سیکورٹی فورس کے ہاتھوں شیعہ رہنماؤں کی گرفتاری پر تنقید کر رہی ہے- گذشتہ دنوں میں کراچی کے شیعوں نے اس شہر کے شیعہ رہنماؤں کی گرفتاری پر احتجاج کرتے ہوئے مظاہرے کئے اور گرفتار رہنماؤں کی رہائی کا مطالبہ کیا -
پاکستان میں سیکورٹی اہلکاروں کے ہاتھوں انتہاپسندی کا مقابلہ کرنے کے بہانے کراچی میں شیعہ رہنماؤں کی گرفتاری کی نئی لہر ایسی حالت میں آئی ہے کہ اس شہرمیں تشدد کی ایک اصلی وجہ ، صوبہ سندھ کے صدرمقام میں شیعوں کی ٹارگیٹ کلنگ ہے- البتہ کراچی میں تشدد کا ایک سبب اس شہر میں عوامی نیشنل پارٹی اور متحدہ قومی موومنٹ سمیت حریف سیاسی جماعتوں کے درمیان مسلح جھڑپیں اور فرقہ وارانہ تصادم ہے کہ جس نے چند برسوں سے پاکستان کے اقتصادی دارالحکومت کو اس ملک کا سب سے زیادہ بدامن شہر بنا دیا ہے- دہشت گردی کو کنٹرول کرنے کے بہانے کراچی میں شیعوں پر تشدد اور ان کے رہنماؤں کی گرفتاری ایسے عالم میں پاکستان کی سیکورٹی فورس کے ایجنڈے میں ہے کہ اس ملک کے اینٹیلیجنس ادارے کراچی میں تشدد اور بدامنی کے اصلی عوامل کی جانب سے غافل ہیں-
شہرکراچی میں دہشت گرد گروہوں سپاہ صحابہ اور لشکرجھنگوی کی موجودگی اور ان کے انتہاپسندانہ اقدامات ، صوبہ سندھ کے صدر مقام میں عدم استحکام اور تشدد کی اصلی وجہ ہیں - دہشت گرد گروہ سپاہ صحابہ کے بعض سرغنوں کے ساتھ پاکستان کے وزیرداخلہ چودھری نثارعلی خان کی حالیہ ملاقات ، دہشت گردی سے مقابلے کے لئے اس ملک کی اعلانیہ پالیسی کے تعلق سے نئے شکوک و شبہات پیدا ہونے کا باعث بنی ہے- جب تک پاکستان کے سیکورٹی و انٹیلیجنس ادارے، دہشت گرد گروہوں کے سلسلے میں اپنی پالیسیوں میں شفافیت نہیں پیدا کریں گے اور کراچی میں بدامنی و تشدد کے اصلی عوامل کا بغور جائزہ نہیں لیں گے اس وقت تک اس ملک کے تجارتی دارالحکومت میں دہشت گردانہ اقدامات جاری رہیں گے-
کراچی میں شیعہ مسلمانوں کے رہنماؤں کی گرفتاری بھی کہ جو سپاہ صحابہ اور لشکرجھنگوی جیسے دہشت گرد گروہوں کا اہم نشانہ ہیں ، سیکورٹی پالیسیوں سے ناراضگی میں شدت آنے اور انتہاپسندانہ اقدامات انجام دینے کے لئے دہشت گردوں کو موقع ملنے کا باعث بنے گی- ان حالات میں کراچی میں امن و امان کی بحالی کے لئے جنرل راحیل شریف کے وعدے صرف اسی صورت میں پورے ہو سکیں گے کہ جب دہشت گردی کے خلاف کارروائی امن و سلامتی کو درہم برہم کرنے والے تمام گروہوں کے خلاف ہو اورانتہاپسندی مخالف پالیسی ، سیاسی ، مذہبی یا نسلی گروہوں کو بدنام کرنے کے ہتھکنڈے میں تبدیل نہ ہو کہ جو کراچی میں عدم استحکام پیدا کرنے میں کوئی کردار نہیں ادا کررہے ہیں-