داعش کا زوال، عراق کے امن اور ترقی و پیشرفت کے لئےایک موقع
عراق کی پارلیمینٹ کے اسپیکر سلیم الجبوری نے دھشت گرد گروہ داعش کے قبضے سے موصل کی آزادی کے لئے سرنوشت ساز کاروائی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ عراق کی مشکلات کے ختم ہونے کا وقت آن پہنچا ہے۔
سلیم الجبوری نے نامہ نگاروں سے گفتگو کرتے ہوئے مزید کہا کہ عراق میں دھشت گردی کے خاتمے کے قریب آنے کے ساتھ ہی عراق کے معاشرے میں اقوام کے درمیان اختلافات کے حل، باہمی اطمینان اور اعتماد کی تقویت کے مواقع فراہم ہوگئے ہیں۔
الجبوری نے عمّار حکیم کی سربراہی میں عراق کے نیشنل گرینڈ الائنس کی جانب سے سیاسی تعاون کی قومی دستاویز کا خیر مقدم کیا۔
عراق کی پالیمنٹ کے اسپیکر نے تاکید کی کہ ملک میں قومی آشتی کی تقویت کا باعث بنے والا ہر سیاسی منصوبہ قابل احترام ہے اور ہم اس کی تائید کرتے ہیں۔
عراق مختلف اقوام کی ثقافت کا حامل ملک ہے اور اس کی کامیابی، مختلف شعبوں میں باہمی تعاون اور اتحاد یکجہتی میں مضمر ہے۔
اس اتحاد و یکجہتی کا مشاہدہ اس وقت موصل میں دھشت گرد تکفیری گروہ داعش کے ساتھ جنگ میں کیا جاسکتا ہے اور اس اہم حکمت عملی نے ہی داعش کو پسپائی کے قریب پہنچادیا ہے۔
داعش کے قبضے سے موصل کو آزاد کرانے کی کاروائی، عوامی حمایت اور عراقیوں کے اتحاد و وحدت کےساتھ سترہ اکتوبر دو ہزار سولہ سے جاری ہے اور عراقی فورسز کو موصل آپریشن میں بڑی کامیابیاں نصیب ہوئی ہیں۔
عراقیوں کا اتحاد سازشوں کے مقابلے اور اسی طرح عراق کی سیاسی مشکلات کے حل میں بڑا موثر رہا ہے۔
عراق، صدام کی ڈکٹیٹر حکومت کی سرنگونی کے بعد، نئے دور میں داخل ہوا، اور تمام شعبوں میں سیاسی گروہوں اور عوام کے براہ راست کردار نے، اس عوامی دور کو بعث پارٹی کی ڈکٹیٹر حکومت سے ممتاز بنادیاہے۔
بعث پارٹی کی حکومت کے دوران، اوپر سے لیکر نیچے تک تمام امور ڈکٹیٹ کیئے جاتے تھے اور عوام کو عراق کے امور میں مداخلت اور اظہار رائے کا کوئی حق نہیں تھا۔
عراق کے عوام اس نئے دور میں جمہوریت کا تجربہ کررہے ہیں اور اس شعبے میں کامیابی کا دارومدار، باہمی تعاون اور ایک دوسرے کو برداشت کرنے پر ہے۔
جمہوری حکومتوں کی خصوصیت یہ ہوتی ہے کہ وہ مخالفین کے ساتھ تعاون اور ان کو برداشت کرتی ہیں اور اقتدار کی منتقلی کے لئے زمین ہموار کرتی ہیں۔
اکثریت کو ساتھ لیکر چلنا، آج کے عراق کے معاشرے کی اہم ضرورت ہے تاکہ یہ ملک ترقی و پیشرفت کے نئے دور میں داخل ہوسکے۔
عراق کی اقوام اور آبادی کا ڈھانچہ، اس ملک کے سیاسی ماحول پر اثر انداز ہوتا ہے اور سیاسی گروہوں کی کثرت، عراق میں سیاسی پارٹیوں میں اضافے پر منتج ہوئی ہیں۔
عمّار حکیم کی قیادت میں عراق کا نیشنل گرینڈ الائنس اس ملک کی مختلف جماعتوں پر مشتمل ہے کہ جو مشترکہ تعاون کے ساتھ قومی مفادات کو پارٹی اہداف و مقاصد پر ترجیج دیتا ہے۔
عراق کا نیشنل گرینڈ الائنس کہ جو اس ملک کی پارلیمنٹ میں اہم کردار کا حامل ہے، عراق کے نئے دور میں مشترکہ تعاون کا بے مثال نمونہ ہے۔
نیشنل گرینڈ الائنس عراق کے سیاسی نظام کی اہم اور اصلی ضرورت ہے اور اس الائنس میں عراق کے مختلف اقوام کے نمائندے ہیں۔
شیعہ، سنّی، کرد، ترکمن اور دیگر عراقی قومیتیں، مختلف سیاسی جماعتوں کی شکل میں، عراق کے سیاسی شعبے میں اپنا کردار ادا کررہی ہیں اور اعلی قومی مفادات کو ترجیحات میں رکھنا، ان نمائندوں کو پارلیمنٹ میں ایک دوسرے کے ساتھ بٹھاتا ہے۔
سیاسی اور اقتصادی شعبے میں عراق کی کامیابی کا دارومدار باہمی اتحاد و یکجہتی پر ہے اور یہ رحجان، عراق کی نئی جمہوریت کی بنیادوں کو مضبوط کرسکتا ہے۔