امریکہ میں ڈونالڈ ٹرمپ کی کامیابی
۔ٹرمپ کے صدر بننے کے بعد مختلف ممالک نے مختلف انداز میں اپنے ردعمل کا اظہار کیا ہے اور اسکی بنیادی وجہ الیکشن مہم کے دوران ٹرمپ کے مختلف بیانات ہیں
امریکہ میں ڈونالڈ ٹرمپ کی کامیابی پر خلیج فارس تعاون کونسل کے رکن ممالک اس نو منتخب امریکی صدر کی خارجہ پالیسیوں کے حوالے سے سخت تشویش میں مبتلا ہیں ۔سعودی فرمانروا سلمان بن عبدالعزیر نے نئے امریکی صدر کو ٹیلی فون کرکے ان کو انتخابات میں جیتنے پر مبارکباد پیش کی ہے اور دونوں ملکوں کے درمیان اسٹریٹیجک تغلقات میں فروغ کے بارے میں گفتگو کی ہے ۔سلمان بن عبدالعزیر نے ٹیلی فونک گفتگو میں مذید کہا ہے کہ ریاض واشنگٹن کے ساتھ اسٹریٹیجک تعلقات میں فروغ اور علاقے اور دنیا میں امن و امان کے قیام کے لئے باہمی تعاون کا مستاق ہے ۔ٹرمپ کے صدر بننے کے بعد مختلف ممالک نے مختلف انداز میں اپنے ردعمل کا اظہار کیا ہے اور اسکی بنیادی وجہ الیکشن مہم کے دوران ٹرمپ کے مختلف بیانات ہیں۔انتخابی مہم کے دوران ٹرمپ نے عراق کے خلاف امریکی جنگ،جنگ یمن میں امریکی شرکت اور مجموعی طور پر دوسرے ممالک کے لئے امریکہ کے فوجی اخراجات پر کڑی تنقید کی ہے ۔ٹرامپ نے تو یہاں تک کہا ہے کہ شام میں جنگ کے خاتمے کے لئے وہ روس سے تعاون کرنے کے لئے تیار ہیں۔ٹرامپ نے اسکے علاوہ مسلمانوں کے خلاف بھی قوم پرستی پر مبنی بیانات دئے ہیں۔ٹرامپ کے اسطرح کے بیانات کیوجہ سے عرب ممالک جنہوں نے اپنی سلامتی کو امریکہ سے وابستہ کررکھا ہے سخت تشویش میں مبتلا ہیں۔فرانس پریس نے سعودی بادشاہ کی ڈونالڈ ٹرمپ سے ٹیلی فونک ملاقات پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ تیل سے مالا مال سعودی عرب امریکہ سے اپنے تعلقات بہتر کرنے کے لئے کوشاں ہے دوسری طرف بعض خبری زرائع نے ٹرامپ کی گوشہ نشینی کی پالیسی کیطرف مائل پالیسیوں پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ چونکہ ٹرامپ نے اپنی انتخابی مہم میں دوسرے ملکوں سے ان پر آنے والےدفاعی اخراجات امریکہ کو ادا کرنے کی بات کی ہے اور یہ موقف اس بات کا باعث بنےکہ وہ اپنے روایتی اتحادیوں بالخصوص عرب ممالک سے تعلقات بحال کرنے پر تیار نہ ہو۔سعودی اخبار ریاض نے ٹرمپ کے امریکہ کا صدر بننے پر اپنے تبصرے میں لکھا ہے کہ نئے امریکی صدر کے مسلمانوں کے خلاف نسل پرستانہ بیانات اور مسلمانوں کو امریکہ آنے سے روکنے جیسے بیانات ایسے بیانات ہیں جس نے ہمیں امریکہ کے پینتالیسویں صدر کی پالیسیوں کے بارے میں سخت تشویش میں مبتلا کردیاہے۔اس خبر نے اس امید کا بھی اظہار کیا ہے کہ ٹرامپ کا یہ موقف انکی داخلی ضرورت تھی اور وہ عملی میدان میں اس موقف پر عمل درآمد نہین کریں گے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ڈونالڈ ٹرمپ ایک بلیک باکس کی مانند ہے کیونکہ اسکا کوئی سیاسی پس منظر نہیں ہے اور وہ ایک تاجر ہے لہزا انتخابی مہم میں بیان کی گئی باتوں کو اسکی آئندہ حکمت عملی قرار نہیں دیا جاسکتا البتہ عرب ممالک ٹرامپ کے ساتھ تعلقات کی نوعیت کے حوالے سے تشویش میں مبتلا ہیں تاہم اس سے یہ بات بھی ثابت ہوتی ہے کہ عرب ممالک بالخصوص خلیج فارس کے بادشاہ جنہوں نے اسلحوں کی خریداری پر خطیر رقوم خرچ کررکھی ہیں لیکن خود انکے اندر اپنے ملکوں کے دفاع کی صلاحیت نہیں ہے اور وہ اپنی سلامتی کے لئے خطے سے باہر کی قوتوں بالخصوص امریکہ کے محتاج اور دست نگر ہیں