ٹرمت کی متضاد شخصیت
امریکہ میں ڈونالڈ ٹرمپ کے صدر بننے کے بعد ایران کے ساتھ ایٹمی معاہدے کے بارے میں ان کی متضاد اور سیاسی و سفارتی عرف سے ہٹ کر باتوں سے ایک بار پھر یہ قیاس آرائیاں کی جارہی ہیں کہ مشترکہ جامع ایکشن پلان کو کالعدم قرار دیئے جانے کا احتمال پایا جاتا ہے۔
اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے مشرقی یورپ کے ملکوں کے دورے میں کہا تھا کہ امریکہ پر یہ لازمی ہے کہ وہ جامع مشترکہ ایٹمی پلان پر عمل کرے۔محمد جواد ظریف نے کہا کہ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ امریکہ کی موجودہ حکومت نے بھی مکمل طرح سے مشترکہ جامع ایکشن پلان پر عمل نہیں کیا ہے لیکن ہم اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ مشترکہ جامع ایکشن پلان ایک اچھا اور معقول معاہدہ ہے اور سب کے لئے اچھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری قوم نے مشترکہ جامع ایکشن پلان کو ترجیح دی ہے لیکن اس کے یہ معنی نہیں ہیں کہ ہمارے سامنے دوسرے آپشن نہیں ہیں۔
صدر مملکت ڈاکٹر حسن روحانی نے ڈونالڈ ٹرمپ کے بیان کے جواب میں کہا تھا کہ مشترکہ جامع ایکشن پلان اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی ایک دستاویز ہے اور ایک حکومت کے بدلنے سے اس میں تبدیلی نہیں آسکتی۔
ڈونالڈ ٹرمپ نے اپنے انتخاباتی مناظرات میں مشترکہ جامع ایکشن پلان کو المیہ اور دنیا کا بدترین معاہدہ قراردیا تھا اور دھمکی دی تھی کہ اگر وہ وائٹ ہاوس پہنچے تو پہلے دن اس معاہدے کو پارہ پارہ کردیں گے۔ ان تمام باتوں کے باوجود ڈونالڈ ٹرمپ کے خارجہ امور کےمشیر ولید فارس نے ٹرمپ کی کامیابی کے بعد کہا ہے کہ ٹرمپ مشترکہ جامع ایکشن پلان کو پھاڑنے کے درپئے نہیں ہیں بلکہ دوبارہ مذاکرات اور اس پر نظر ثانی کے خواہاں ہیں۔ البتہ ایٹمی معاہدے کے بعض مخالفین جیسے سعودی عرب نے جنہیں اس معاہدے سے زخم لگے ہیں ٹرمپ کے شروع کئے ہوئے پروپگینڈے کے سہارے بزعم خویش امریکی حکام کو کچھ نصحیتیں کی ہیں۔ سعودی عرب کی انٹلیجنس کے سابق سربراہ اور امریکہ اور برطانیہ میں سعودی عرب کے سابق سفیر ترکی فیصل نے کہا ہے کہ ڈونالڈ ٹرمپ کی آئندہ حکومت کو چاہیے کہ وہ پانچ جمع ایک اور ایران کے درمیان طے شدہ ایٹمی معاہدے کو پارہ نہ کرے بلکہ بقول ان کے مشرق وسطی میں عدم استحکام لانے والی ایران کی سرگرمیوں پر ایران کا مواخذہ کرے۔
البتہ اب تک جو کچھ ٹرمپ کے بارے میں کہا گیا ہے وہ یہ ہے کہ ان کی باتیں متضاد ہیں۔ ہرچند وہ اس سے پہلے بھی تضاد بیانی کے لئے مشہور تھے تاہم اگر وہ اپنے مشیروں کی باتوں پر ذرہ برابر توجہ کریں تو اس صورت میں بعید ہے کہ وہ اپنے عالمی شرکاء سے دور ہونگے اور ان سے اختلافات رکھیں گے۔ ادھر یورپی یونین میں خارجہ پالیسی شعبے کی سربراہ فیڈریکا موگرینی کے بیانات سے جامع مشترکہ ایکشن پلان کے تعلق سے ڈونالڈ ٹرمپ کے ممکنہ فیصلے کے سلسلے میں سامنے آنے والی قیاس آرائیوں کے بارے میں بہت سے بیانات کا فیصلہ واضح ہوجاتا ہے۔موگرینی نے سی این این چینل سے انٹرویو میں کہا تھا کہ ایران کے ساتھ ایٹمی معاہدہ امریکہ اور ایران کا دو طرفہ معاہدہ نہیں ہے بلکہ چند طرفہ معاہدہ ہے جسے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد کے پیرائے میں پیش کیا گیا ہے اور منظوری دی گئی ہے۔
ایران کے ساتھ ایٹمی معاہدے کو پارہ کرنے اور یکطرفہ طورپر اسے کالعدم قرار دئے جانے کے بارے میں ڈونالڈ ٹرمپ کی باتوں کو ان کی اندرونی تشہیراتی ضرورت قراردیا جائے لیکن جب اس طرح کے بیانات لفاظی سے ہٹ کر امریکہ کی خارجہ پالیسی کے آپشن کے طور پر تجویز کئے جاتے ہیں توعالمی معاہدوں کے بارے میں جو عالمی اصول ہیں ان کے مطابق اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں منظور کئے جانے والے فیصلوں کو لاحق خطرات کے تعلق سے قدم اٹھائے جائیں۔ باتوں اورعمل تک کا فاصلہ عقلانیت پسندی اور منطق کی اساس پر اس وقت واضح ہوگا جب ٹرمپ اپنی خارجہ پالیسی کی ٹیم کو متعارف کرائیں گے۔ لیکن بہرحال یہ اقدامات ان حقائق کی نشانیاں ہیں جن کے بارے میں رہبر انقلاب اسلامی نے مختلف موقعوں پر اپنے بیانات میں اشارہ فرمایا تھا اور امریکہ کی دشمنیوں اور اھداف پر روشنی ڈالتے ہوئے فرمایا تھا کہ امریکہ ایرانی قوم پر اپنی مرضی مسلط کرنے کے لئے موقع کی تلاش میں ہے۔ رہبرانقلاب اسلامی نے چودہ جون کو ایرانی حکام سے ملاقات میں مشترکہ جامع ایکشن پلان کے ابھامات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ اسلامی جمہوریہ ایران جامع ایکشن پلان کے خلاف اقدام کرنے میں پہل نہیں کرے گا کیونکہ ہم اپنے عھدکے پابند ہیں اور یہ قرآنی حکم ہے لیکن اگرجامع ایکشن پلان کو پھاڑنے کے بارے میں امریکی صدارتی امید واروں کی دھمکیاں عملی روپ اختیار کرلیں تو ہم اس معاہدے کو آگ لگا دیں گے کیونکہ یہ بھی ایک حکم قرآنی ہے جو مد مقابل کے نقص عھد کے بارے میں ہے۔
رہبرانقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے ایران کے خلاف امریکہ کی دشمنی کو دو حکومتوں کے اختلافات سے کہیں بڑھ کر قراردیا اور فرمایا کہ امریکہ کی وہی ذات ہے جو حکومت ریگن کے زمانے میں تھی اور امریکہ میں رپپبلیکن اور ڈیموکریٹس میں کوئی فرق نہیں ہے۔