شام کے لئے اقوام متحدہ کی نئی تجویز
شام میں اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے کے سینئر مشیر یاین ایگلینڈ نے شہر حلب کو دہشتگردوں سے نجات دینے کے لئے چار نکاتی فارمولا پیش کیا ہے
یان ایگلند نے جو شام میں افوام متحدہ کی انسان دوستانہ امدادی شعبہ کے سربراہ ہیں کہا ہے کہ اس چار نکانتی فارمولے میں حلب کے لئے طبی سازو سامان فراہم کرنا، طبی عملے کا بھیجا جانا، غذائی اشیاء کی ترسیل اور ایمرجنسی کے طور پر دیگر ساز و سامان روانہ کرنا اور تین سو بیماروں کے اپنے خاندانوں کے ساتھ نکلنے کی سہولت فراہم کرنا شامل ہے۔ واضح رہے کہ اقوام متحدہ کی یہ نئی تجویز ایسے عالم میں پیش کی گئی ہے جبکہ جنگ بندی کی تجویزیں بالخصوص حلب کے لئے ناکام ہوگئی ہیں اور ان کی ناکامی کے ذمہ دار شام حکومت کے خلاف لڑنے والے مخالف اور دہشتگرد گروہ اور ان کے امریکہ جیسے ہیں۔ یہ نئی تجویز پہلے کی تجویزوں کا تسلسل ہے۔
حلب نہایت کٹھن حالات سے گذر رہا ہے اور دہشتگرد گروہ جو مشرقی حلب میں شام کی فوج کے محاصرے میں آگئے ہیں روزانہ مغربی حلب پر دسیوں راکٹ، مارٹر گولے اور میزائل برسا رہے ہیں۔ دہشتگردوں نے مشرقی حلب سے نکل کر جانے والے شہریوں کا راستہ بھی روک دیا ہے اور ان سے انسانی سپر کے طور پر کام لے رہے ہیں۔ ایسے حالات میں حلب کے باشندوں کے لئے امداد کی اپیل کی جارہی ہے کہ امریکہ کے جنگی طیارے امداد رسانی کے بجائے رقہ اور حلب میں رہائیشی علاقوں پر بمباری کررہے ہیں جن میں دسیوں عام شہری جاں بحق ہو رہے ہیں۔
علاقے کے بحرانوں بالخصوص شام سے متعلق امریکہ کی فریبی چالوں سے داعش سے مقابلے کے بارے میں واشنگٹن کے حکام کے بیانات پر شدید شکوک و شبہات پیدا ہوجاتے ہیں۔ شام کے حالات کے پیش نظر اور ان حالات کے تعلق سے امریکہ کی کارکردگی سے معلوم ہوتا ہے کہ امریکہ شام کی فوج کو کمزور بنانے اور دہشتگردوں کو مضبوط بنانے اور انہیں اپنے جرائم جاری رکھنے کا موقع دینے کےعلاوہ اور کوئی ھدف نہیں رکھتا۔ جو چیز مسلم ہے وہ یہ ہے کہ شام کی فوج کو گذشتہ ہفتوں میں تکفیری دہشتگردوں کے مقابل بڑی بڑی کامیابیاں ملی ہیں اور اس نے دہشتگردوں سے کئی علاقوں کو صاف کردیا ہے ۔ شام کی فوج اور عوامی رضا کار فورسز اب دہشتگردوں کا خاتمہ کرنے کے لئے آگے بڑھ رہی ہیں جس سے دہشتگردوں کے حامی منجملہ امریکہ پریشان ہوچکا ہے۔ امریکہ دہشتگردوں کو تقویت پہنچانے اور دہشتگردوں کے خلاف جاری کاروائیوں میں خلل ڈال کر دہشتگردوں کے لئے امداد روانہ کرنا چاہتا ہے۔ امریکہ کی تجویزوں اور اقدامات کا نتیجہ محض دہشتگردوں کی تقویت کی صورت میں نکلے گا جو مختلف علاقوں میں سرگرم عمل ہیں اور اس صورتحال کے جاری رہنے سے علاق کے بحرانوں منجلہ حلب میں مزید المناک صورتحال سامنے آجائے گی۔ ایسے حالات میں اقوام متحدہ کی جانب سے بحران شام کو سیاسی طریقے سے حل کرنے اور شام کے بعض علاقوں میں ایک طرح کی جنگ بندی قائم کرنے کی کوشش سے پتہ چلتا ہے کہ اقوام متحدہ شام کے جنگ زدہ عوام کی مدد کرنا چاہتا ہے۔ یہ ایسے عالم میں ہے کہ شام کی حکومت کے مخالف شام کی فوج اور عوامی رضاکار فورسز کے مقابل پے درپئے شکستوں کے باوجود عالمی اداروں کی جانب سے پیش کردہ سیاسی راہ حل کو ماننے کو تیار نہیں ہیں اور شام کی قوم سے تاوان وصول کرنے کے درپے ہیں۔ شام کے قومی الائینس کے مخالفین بھی اقوام متحدہ کی نئی تجویز کے بارے میں شرطیں رکھ رہا ہے تا کہ حلب میں جنگ بندی عمل میں آسکے اور سیاسی عمل شروع ہوسکے۔ شام کے مخالفوں کے اتحاد نے بارہا یہ کہا ہے کہ سیاسی اقدامات کے لئے یہ ضروری ہے کہ ان کے بقول ، شام کے بعض علاقوں کو پرامن ہونا چاہیے یعنی یہ کہ ان کے مطابق ان علاقوں میں شام کی فوج، عوامی فورسز اور کسی بھی طرح کی فورس اور فوجی ساز و سامان نہیں ہونا چاہیے۔ ان شرطوں سے یہ لگتا ہے کہ شام کے مخالف دھڑے ایک بار پھر ایسی شرطیں رکھنا چاہتے ہیں جو شام کو ٹکڑے کرنے کے ان کے ھدف کو پورا کرتی ہیں اور انہیں مکمل شکست سے نجات دلاتی ہیں اور مزید ہتھیار حاصل کرنے کا موقع دیتی ہیں۔