پاکستان میں تکفیریوں کے دہشتگردانہ حملے جاری
پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں شاہ نورانی کی درگاہ میں بم دھماکے سے معلوم ہوجاتا ہے کہ پاکستانی علماء کی بار بار کی درخواست کہ عام شہریوں کو تکفیریوں سے تحفظ دیا جا ئے بے اثر رہی ہے
پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں شاہ نورانی کی درگاہ میں بم دھماکے سے معلوم ہوجاتا ہے کہ پاکستانی علماء کی بار بار کی درخواست کہ عام شہریوں کو تکفیریوں سے تحفظ دیا جا ئے بے اثر رہی ہے۔ عام پبلک اور بالخصوص شیعہ مسلمان تکفیری دہشتگردوں کا مسلسل نشانہ بن رہے ہیں۔ شاہ نوارنی کی درگاہ میں ہفتے کے روز ہونے والے حملے میں پچپن افراد جان بحق اور ایک سو سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔تکفیری دہشتگرد گروہ داعش نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ سیاسی مبصرین کے بقول شاہ نورانی کی درگاہ پر حملہ پاکستان میں تکفیری دہشتگرد گروہ داعش کی طاقت کا مظاہرہ ہے اس کے ساتھ ساتھ اس سے یہ بھی پتہ چلتا ہےکہ حکومت پاکستان شیعہ مسلمانوں کو سیکوریٹی فراہم کرنے میں بالکل دلچسپی نہیں لے رہی ہے۔ حکومت پاکستان نے یہ بہانہ بنایا ہے کہ شاہ نورانی کی درگاہ دور افتادہ علاقے میں لھذا زائرین کو سکیورٹی فراہم نہیں کی جاسکی۔ البتہ عوام کا کہنا ہے کہ دہشتگردوں کی باربار کی دھمکیوں کے باوجود فیڈرل اور صوبائی حکومتوں کو چاہیے تھا کہ وہ پبلک مقامات بالخصوص زیارت گاہوں، امام بارگاہوں اور مساجد کی سکیوریٹی کا انتظام کرے۔ سکیورٹی کا یہ مسئلہ نواسہ رسول حضرت امام حسین علیہ السلام کے چہلم کے پیش نظر نہایت اہمیت اختیار کرجاتا ہے کیونکہ پاکستانی عوام خود کو چہلم نواسہ رسول کی عزاداری کے لئے آمادہ کررہے ہیں اور یہ مسئلہ نہایت حساسیت کا حامل ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق ہر چند حکومت پاکستان وسیع پیمانے پر تکفیری دہشتگرد گروہ داعش کی موجودگی کا انکار کرتی ہے لیکن پاکستان میں شیعہ مسلمانوں کے خلاف دہشتگردانہ حملے جو لشکر جھنگوی اور تحریک طالبان پاکستان کی منصوبہ بندی میں انجام پاتے ہیں جنہوں نے داعش سے بیعت کا اعلان کیا ہے۔ افغانستان اور پاکستان میں لوگوں کو اپنی صفوں میں شامل کرنے میں داعش کی ناکامی کے بعد اس تکفیری دہشتگرد گروہ نے پاکستان میں بعض مقامی گروہوں اور افغانستان میں طالبان سے جدا ہونے والے بعض دھڑوں کو اپنی صفوں میں شامل کرنے کی کوشش کی جس کے بعد دہشتگرد گروہ لشکر جھنگوی اور تحریک طالبان پاکستان نے داعش سے بیعت کا اعلان کیا۔ چونکہ یہ دہشتگرد گروہ شیعہ مخالف ہے اور لشکر جھنگوی اور تحریک طالبان پاکستان اس کے پٹھو بن گئے ہیں لھذا گذشتہ مہینوں میں شیعہ مسلمانوں کے خلاف دہشتگردانہ حملوں میں تیزی آئی ہے۔ لشکر جھنگوی اور تحریک طالبان پاکستان تکفیری دہشتگرد گروہ داعش سے پیسہ لے کر دراصل شیعہ مسلمانوں کو قتل کرنے کا داعش کا کام کررہے ہیں اور ان کے مذہبی اور پبلیک مقامات پر حملے کررہے ہیں اس کےبعد داعش ان حملوں کی ذمہ داری قبول کرلیتا ہے تا کہ یہ ظاہر کرسکے کہ ایک طرف سے علاقے کے ملکوں میں قابل ذکر اثر ورسوخ کا حامل ہے اور دوسری طرف سے عراق و شام میں اپنی شکستوں کا بدلہ لے سکے۔
اسی وجہ سے پاکستان میں سیاسی اور مذہبی گروہوں نے ہمیشہ سے حکومت سے یہ مطالبہ کیا ہے کہ فرقہ پرست دہشتگرد گروہوں کا سختی سے مقابلہ کرے اور اس سلسلے کسی بھی قسم کے تحفظات کا خیال نہ کرے کیونکہ یہ گروہ پاکستان کے بعض سیاسی اور فوجی حلقوں کے ہاتھوں میں کھلونہ بن چکے ہیں یا القاعدہ اور داعش میں ضم میں ہوچکے ہیں جس سے پاکستان کی سماجی اور اقتصادی سکیورٹی کو شدید خطرے لاحق ہوچکے ہیں۔ حال ہی میں پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے دہشتگرد گروہوں کے ساتھ حکومت کے رویئے پر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ حکومت کا دہشتگرد گروہوں کے ساتھ تحفظاتی رویہ قبائیلی علاقوں میں تحریک طالبان پاکستان کے خلاف فوج کی کامیابیوں پر پانی پھیر سکتا ہے۔