ہندوستان میں کالے دھن سے پیدا ہونے والے مسائل اور حکومت
https://urdu.sahartv.ir/news/annalys-i258022-ہندوستان_میں_کالے_دھن_سے_پیدا_ہونے_والے_مسائل_اور_حکومت
ہندوستان میں وزیر اعظم نریندر مودی کے ناگہانی فیصلے کے بعد کہ پانچ سو اور ایک ہزار روپیے کے نوٹ کالعدم قرار دے دئے گئے ہیں ملک بھر میں افراتفری مچ گئی ہے
(last modified 2025-02-27T04:56:45+00:00 )
Nov ۱۴, ۲۰۱۶ ۱۲:۲۱ Asia/Tehran
  • ہندوستان میں کالے دھن سے پیدا ہونے والے مسائل اور حکومت

ہندوستان میں وزیر اعظم نریندر مودی کے ناگہانی فیصلے کے بعد کہ پانچ سو اور ایک ہزار روپیے کے نوٹ کالعدم قرار دے دئے گئے ہیں ملک بھر میں افراتفری مچ گئی ہے

ہندوستان میں وزیر اعظم نریندر مودی کے ناگہانی فیصلے کے بعد کہ پانچ سو اور ایک ہزار روپیے کے نوٹ کالعدم قرار دیدئے گئے ہیں ملک بھر میں افراتفری مچ گئی ہے اور عوام اور سیاسی پارٹیاں حکومت کے اس فیصلے پر بری طرح برہم دکھائی دیتی ہیں۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے ہندوستانی عوام سے اپیل کی ہے کہ انہیں پچاس دن کی مہلت دیں تا کہ وہ اپنے فیصلے کی حقانیت ثابت کرسکیں۔ چونکہ ایک ہزار اور پانچ سو رویپوں کے نوٹوں کو باطل کرنے کا فیصلہ اچانک سامنے آیا ہے لھذا یکا یک سارے ملک کو جھٹکا لگا۔ نریندر مودی کے اس فیصلے کے اھداف کے بارے میں مختلف نظریات پائے جاتے ہیں۔ نریندر مودی جب صوبہ گجرات کے وزیر اعلی تھے تو انہوں نے اپنی ریاست کے لئے اچھے اقتصادی پروگرام منظور کرکے اسے اقتصادی ترقی دلائی تھی اور انہیں ایک سیاسی اور اقتصادی صلاحیتوں کا حامل فرد مانا جانے لگا، اس صورتحال کے پیش نظر بھارتیہ جنتا پارٹی نے بھی جو اس وقت ہندوستان کی حکمران جماعت ہے مودی کے ا قتصادی پروگراموں پر اطمینان رکھتی ہے۔ یہ ایسے عالم میں ہے کہ بی جے پی نے دوہزار چودہ میں اپنے انتخاباتی وعدے کئے تھے کہ وہ اقتصادی مشکلات حل کردے گی اور عوام کو خوشحال زندگی نصیب ہوگی ان وعدوں کو پورا کرنے میں ناکام رہی ہے اور عوام اور ماہرین کی توقعات پر پورا نہیں اتری ہے۔

حالیہ صوبائی انتخابات منجملہ نئی دہلی میں بی جے پی کی شکست یا کم مارجن سے کامیابی سے بی جے پی کے لئے خطرے کی گھنٹی بج گئی ہے اور اسی بنا پر بعض سیاسی حلقے ایک ہزار اور پانچ سو کے نوٹوں کو کالعدم قراردینے میں نریندر مودی کے فیصلے کو ریاست اترپردیش کے اسمبلی انتخابات سے جوڑ رہے ہیں۔بعض لوگوں کا یہ کہنا ہے کہ وہ ایک ہزار اور پانچ سو کے نوٹوں کو کالعدم قراردے کر کالاپیسہ نکالناچاہتے ہیں اوراتر پردیش کے انتخابات پر کالے دھن کے اثرات کو کم سے کم کرنا چاہتے ہیں۔ بعض لوگوں کا یہ خیال ہے کہ بی جے پی معیشت میں فروغ لانے اور بدعنوانیوں سے مقابلہ کرنے اور ٹیکس سے بچنے کی کوششوں کا سد باب کرنا چاہتی ہے۔ یاد رہے حزب اختلاف کا کہنا ہے کہ بی جے پی ملک کی معیشت کو آگے بڑھانے اور کرپشن سے مقابلہ کرنے نیز ٹیکس اصول نافذ کرنے میں ناکام رہی ہے۔ یاد رہے کہ بی جے پی کو انتہا پسند ہندوؤں کو قابو میں کرکے نسل پرستی اور فرقہ واریت پر کنٹرول حاصل کرنے میں کسی طرح کی کامیابی حاصل نہیں ہوئی ہے لھذا یہ کوشش کررہی ہے کہ معیشتی پروگرام سامنے لاکر اپنے انتخاباتی وعدوں پر عمل کرے، اس وجہ سے ایک ہزار اور پانچ سو روپے کے نوٹوں کو کالعدم قراردینا کئی لحاظ سے مودی کا ایک مبھم فیصلہ ہے۔ پہلا نکتہ یہ ہےکہ جو لوگ اس طرح اپنے پاس ان نوٹوں کو ذخیرہ کریں گے ان کا مال ان کے ہاتھ سے چلا جائے گا یا ان کے پیسے کی قدر میں کمی آجائے گی۔اس کے نتیجے میں بازار اور بینکوں میں بے تحاشہ پیسہ آجائے گا۔دوسری بات یہ کہ جن لوگوں گے پاس کالا دھن ہے وہ سامنے آجائے گا اور انہیں ٹیکس دینا پڑے گا۔ تیسری بات یہ کہ ایک ہزار اور پانچ سو کے نوٹوں کو کالعدم قراردینے سے جعلی نوٹ بھی بازار سے ہٹالئے جائیں گے اور جعلی نوٹ چھاپنےوالوں کو شدید نقصان پہنچے گا۔ چوتھے یہ کہ ایک ہزار اور پانچ سوکے نوٹوں کو مارکیٹ سے نکالنے سے کالے دھن کا بڑا حصہ معیشتی گردش سے نکل جائے گا کیونکہ کالے دھن والے اپنے پیسے کو چھپانے کی کوشش کریں گے اور ممکن ہے اپنے نوٹوں کو بدلنے کے لئے بینکوں کو نہ دیں جس کی وجہ سے ایسے افراد کے ہاتھ میں پیسہ بہت ہی کم رہ جائے گا۔دراصل وزیر اعظم نریندر مودی کا اہم ترین ھدف کالے دھن سے مقابلہ کرنا ہے جو کسی نہ کسی طرح سے مالی بدعنوانیوں اور انتظامی کرپشن کا سبب بنتا رہتا ہے۔ لیکن کیا وزیر اعظم ہند کو اس منصوبے میں کامیابی نصیب ہوگی یہ دیکھنے کی بات ہے اس امر پر کافی شکوک و شبہات پائے جاتے ہیں۔ بعض ماہرین کا خیال ہے کہ ہندوستان میں کالا پیسہ اور حقیقی کرپشن گھروں میں پیسے ذخیرہ کرنے اور جعلی نوٹوں سے وجود میں آئے دراصل املاک اور جعلی کمپنیوں کی خرید و فروخت اور آن پیپر معاملات کے ذریعے اسٹاک اکسچینج میں داخل ہو کر ملک کی سطح پر گردش کرنے لگتا ہے۔بی جے پی حکومت کو اس شعبے پر بھی توجہ کرکے یہاں موجود کرپشن سے مقابلہ کرناچاہیے۔ کالے دھن کے مالی بدعنوانیوں کے خلاف نریندر مودی کے اس فیصلے کے بارے میں عوام اس بات پر اعتراض کررہے ہیں کہ بینکوں کی تعداد کم ہے اور انہیں بینکوں میں پیسے تبدیل کرنے میں دشواری ہورہی ہے اس کے علاوہ دور افتادہ علاقوں میں بینک بھی نہیں ہیں اس کے علاوہ ہندوستانی بینک بھی اچانک پیش آنے والے اس طرح کی صورتحال سے نمٹنےکےلئے تیار نہیں تھے اور اس سے نمٹنے میں ناکام ہیں۔ بینکوں کے سامنے بڑی بڑی لائینیں لگانے سے عوام اکتاچکے ہیں اور عوام کی برہمی کو دیکھتے ہوئے حکومت اپنی پالیسیوں کو بدلنے پر مجبور ہوجائے گی اسی بنا پر وزیر اعظم ہند نے اپنے عوام سے اپیل کی ہے کہ انہیں پچاس دن کی مہلت دیں تا کہ وہ مالی بدعنوانی اور کالے دھن سے مقابلہ کرسکیں۔